اسلامک وظائف

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ پر کثرت سے درودبھیجتا ہوں‘ اپنی دعا میں کتنا وقت درود کیلئے وقف کروں؟

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا ایک مقبول ترین عبادت ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے، اس نسبت سے یہ جہاں شانِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے، وہاں اس عمل خاص کی فضیلت بھی حسین پیرائے میں اجاگر ہوتی ہے کہ یہ وہ مقدس عمل ہے جو ہمیشہ کے لئے لازوال، لافانی اور تغیر کے اثرات سے محفوظ ہے کیونکہ نہ خدا کی ذات کے لئے فنا ہے نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کی انتہا۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف خود اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے بلکہ اس نے فرشتوں اور اہل ایمان کو بھی پابند فرما دیا ہے کہ سب میرے محبوب پر درود و سلام بھیجیں۔

’’سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ میں آپ ﷺ پر کثرت سے درودبھیجتا ہوں‘ اپنی دعا میں کتنا وقت درود کیلئے وقف کروں؟آپ ﷺنے فرمایا: جتنا تو چاہے۔ میں نے عرض کیا: کیا ایک چوتھائی صحیح ہے؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا:جتنا توچاہے لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے لیےاچھا ہے۔ میں نے عرض کیا: دو تہائی مقرر کردوں؟۔ آپ ﷺ نے فرمایا: جتنا تو چاہے‘ لیکن اگر اس سے زیادہ کرے تو تیرے ہی لیے بہتر ہے۔ میں نےعرض کیا: میں اپنی ساری دعا کا وقت درود کے لیے وقف کرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ تیرے سارے دکھوںاور غموںکیلئے کافی ہوگااور تیرے گناہوںکی بخشش کا باعث ہوگا۔ ‘‘حوالہ: سنن الترمذی، رقم الحدیث: 2457، سلسلة الاحدیث الصحیحة: 954، فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم رقم: 13، 41) اگر ہم معاشرے میں نگاہ دوڑائیںتو ہر فرد غموں کامارا ہوا نظر آتا ہے‘ ہر کوئی کسی نہ کسی غم میں مبتلا ہے‘ کسی کو گھریلو الجھنوں کا غم ہے‘ کسی کو کاروباری بندش کا غم ہے‘ کسی کو جادو کھائے جارہا ہے اور کسی کو جسمانی بیماریوں نے نڈھال کررکھا ہے۔آئیے! ہم درود شریف کو اپنائیں اور پھر دیکھیں آپ کے مسائل کیسے حل اور آپ کے غموں کی کیسے کفایت ہوتی ہے۔ درود پاک پر لوگوں کے تجربات و مشاہدات ماہنامہ عبقری کے اوراق کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ آئیے! ان لوگوں کے مشاہدات و تجربات پڑھیں کہ کیسے درود شریف نے ان کے غموں کی کفالت کی اور آج وہ کتنی خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالمجید ملک نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا:آپ حکیم الامت کیسے بن گئے؟ علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:یہ تو کوئی مشکل کام نہیں، آپ چاہیں تو آپ بھی حکیم الامت بن سکتے ہیں۔ملک صاحب نے حیرت سے پوچھا: وہ کیسے؟علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:میں نے گن کر ایک کروڑ مرتبہ نبی اکرم ﷺ پر درود شریف پڑھا ہے۔ اگر آپ اس نسخے پر عمل کریں تو آپ بھی حکیم الامت بن سکتے ہیں۔!!

وہ دانائے سُبل، ختم الرسل، مولائے کل جس نےغبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیٔ سینا!نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل وہی آخروہی قرآں‘ وہی فرقاں‘ وہی یٰسین‘ وہی طہٰ آپ بھی درود پاک کو اپنی زندگی کا وظیفہ بنالیںآپ کی دنیا بھی سنورے گی اور آخرت بھی۔ وظیفہ درودسے آپ کو جو بھی فائدہ ہو عبقری کو ضرور لکھیے گا آپ کا لکھا گیا ایک ایک لفظ لاکھوں لوگوں کی زندگی سنوار سکتا ہے اور آپ کیلئے قیامت تک کا صدقہ جاریہ!۔ (انشاء اللہ)

Leave a Comment