اسلامک معلومات اسلامک واقعات

حضرت بی بی آمنہ ؓکی وفات اور حضورﷺکاغم

آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ بی بی آمنہ علیہ سلام پر امت کا کروڑوں سلام۔کائنات کی ماں حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنےلگی کہ ہر انسان کو موت ہے،میں بھی اللہ کو جان دے رہی ہوں مگر میرا نام میرے بیٹے کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔

کم سن یتیم عربی محمد رسول اللہ ؐ اپنی والدہ محترمہ کی طبیعت اچانک بگڑ جانے کی وجہ سے سہمے کھڑے ہیں۔معصوم محمد و احمد کی والدہ کا انتقال ہو رہا ہے ، سانسیں اکھڑ رہی ہیں، پچیس سالہ آمنہ اپنے چھ سالہ کم سن محمد سے نحیف آواز میں ’’پانی‘‘ مانگ رہی ہیں۔ یتیم عربی اپنے ننھے ہاتھوں سے والدہ کے ہونٹوں سے پانی کا برتن لگا رہے ہیں اور والدہ کانپتے ہاتھ سے بیٹے کے ننھے بازوئوں کے سہارے پانی کا گھونٹ پینے کی کوشش کر رہی ہیں۔والدہ کی حالت دیکھ کر محسن کائنات کی پر نور آنکھوں سے آنسوبہنے لگتے ہیں،والدہ نے لخت جگر کے آنسوئوں کو اپنے رخساروں پر محسوس کرتے ہوئے فرمایا’’ میری جان ! تم اس باپ کے بیٹے ہو جس کا نام عبداللہ ہے اور جنہیں خدا نے ایک سو اونٹوں کے عوض زندگی عطا کی تھی۔میں نے جو خواب دیکھا وہ اگرسچا ہے تو اللہ نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا ہے ،پس لوگوں کو حلال اور حرام میں تمیز سکھانا۔آپ اپنے دادا ابراہیم کا مذہب دے کر بھیجے گئے ہو۔

ہر انسان کو موت ہے،میں بھی اللہ کو جان دے رہی ہوں مگر میرا نام میرے بیٹے کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گا ‘‘۔ اور والدہ کائنات نے اپنے ننھے محمدؐ کے نازک بازئوں میں جان دے دی۔ کس نے قبر مبارک کھودی واللہ اعلم ! حضرت آمنہ کی کنیز ام ایمن آپ کے ہمراہ تھیں، سولہ کلو میٹر دور ابواء گائوں سے کچھ لوگوں کو بلا کر لائی ہوں گی۔ قبر کھودی گئی، والدہ کائنات کو قبر میں اتارا گیا،پہاڑی سے نیچے اترے تو ام ایمن نے دیکھا ننھے محمد موجود نہ تھے، بے قرار ہو کر ادھر ادھر دیکھا تو محمد ماں کی قبر سے لپٹے سسکیوں سے رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے ’’اماں تجھے پتہ ہے تیرے سوا میرا کوئی نہ تھا ،تو بھی مجھے چھوڑ کے چلی گئی ،میں تیرے بغیر واپس نہیں جائوں گا۔ ام ایمن نے ننھے محمد کو قبر سے ہٹانے کی کوشش کی تو معصوم محمد نے کہا ’مجھے چھوڑ دو ،میں ماں کے ساتھ جائوں گا ‘‘َ مگر کم سن یتیم نہیں جانتے تھے کہ زیر زمین جانے کے بعد ساتھ چھوٹ جاتا ہے۔حیات طیبہ کے 57 ون برس گزر جاتے ہیں۔ستاون برس کی عمر میں نبی کریم محمد رسول اللہ دوسری مرتبہ مقام ابوا تشریف لاتے ہیں اور اصحاب سے فرماتے ہیں ،یہاں رک جائو، ادھر ہی ڈیرے لگا لو۔ہزار آدمیوں کے خیمے لگ جاتے ہیں۔

آقا ئے دو جہاں خیمے سے نکلتے ہیں اور والدہ کائنات کی قبر مبارک کے سرہانے زمین پر تشریف رکھتے ہیں اور سر مبارک گھٹنوں میں چھپا کر چھوٹے بچوں کی ہچکیوں سے رونے لگتے ہیں۔ اس کیفیت میں گھنٹوں گزر جاتے ہیں۔ ستاون برس نے صدمے کو مندمل نہیں ہونے دیا۔گھٹنوں سے سر اٹھایا تو داڑھی مبارک آنسو ئوں سے تر تھی ، فرمانے لگے ’’کاش میری ماں زندہ ہوتی اور میں عشاء کی نماز کے لئے مصلیٰ پہ کھڑا ہوتا اور سور ۃ فاتحہ شروع کر چکا ہوتا ،ادھر سے میرے گھر کا دروازہ کھلتا اورمیری ماں پکارتی ’’محمد ‘‘تو میں اس کے لیئے نماز توڑ دیتا اور میں کہتا ’’لبیک یا اماں‘‘ ! ہم گناہگار لوگ اپنی مائوں کی زندگی میں ان کی قدر نہیں کرتے مگر ان کے جانے کے بعد درو دیوار سے رو رو کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ’’ماں ایک بار پلٹ کر آواز دے تیری بیٹی تیرا بیٹا دوڑے چلے آئیں گے۔ہم تو وہ بد نصیب ہیں جو اکثر نمازی بھی نہیں کہ یہ کہہ سکیں کہ ماں ایک بار پکار تو سہی ،ہم نماز توڑ کے چلے آئیں گے۔ بد نصیبوں کو کون سمجھائے کہ بے نمازی اولاد کی ماں مر کر بھی اس کے نمازی ہونے کی دعا کرتی ہے۔ہمارادل اپنے نبی ؐ کی سنت کو دہرانے کے لیئے تڑپ رہا ہے کہ اپنے پیارے نبی کی طرح ہم بھی والدہ کائنات کی قبر کے سرہانے جائیں اور سر گھٹنوں میں دبا کرہچکیوں سے روئیں۔

کچھ کفّارکا گزر مقامِ اَبْواءسے ہوا تو انہوں نے چاہا کہ سیّدتناآمنہ رضیَ اللہ تعالٰی عنہَا کا جسدِ مبارک قبر سے نکال کر نبیِّ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو تکلیف پہنچائیں،لیکن اللہ نے اپنے نبی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی والدہ کےاِکرام کی خاطر انہیں اس ناپاک ارادے سے باز رکھا۔طیّبہ طاہِرہ حضرت بی بی آمنہ رضیَ اللہ تعالٰی عنہَا کس قدر خوش نصیب خاتون ہیں کہ آپ کو حُضُورِ اکرم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی والدۂ ماجدہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ایک موقع وہ تھا جب غزوہ بد رسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوہ ابوا کے لئے گئے۔ غزوہ سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی والدہ محترمہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک پر حاضر ہوئے جو اسی نواح میں تھی۔ وہاں آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔یہ دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تعجب سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ کی آنکھوں میں آنسو ! مطلب یہ تھا کہ آپ تو فرمایا کرتے ہیں کہ مرتے والوں پر رونا نہیں چاہیے لیکن اب آپ جیسے جری اور مضبوط انسان کی آنکھیں بھی نمناک ہیں۔اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک بیٹے کی طرف سے اپنی والدہ محترمہ کی جناب میں نذرانہ عقیدت و احترام ہے۔ان آنسووٴ ں کو کم حوصلگی یا تھڑ دلی سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ توبے اختیار آنسو ہیں جو اس ”حرم محترم“ میں حاضری کا خراجِ عقیدت ہے ۔ یہ ماں کے ان قدموں میں، جن کے نیچے جنت ہوتی ہے، گلہائے عقیدت کے طور پر آنسووٴں کا گلدستہ ہے۔

سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن اقدس سے جنم لیا اور ان کی آغوش میں پروان چڑھے۔ اس لحاظ سے بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا تمام عالم کی خواتین میں ایک ممتاز مقام رکھتی ہیں کہ خاتم الانبیاء کو جنم دینے اور پالنے کا شرف آپ کے حصے میں آیا۔

بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کا تعلق عرب کے معزز ترین قبیلہ بنوقریش سے تھا۔ آپ کے والدوہب بن عبد مناف بن کلاب تھے اور والدہ برة بنت عبدالعزیٰ بن کلاب تھیں۔آپ نہایت پرہیزگار اور پاکباز خاتون تھیں۔ آپ کا نکاح حضرت عبدالمطلب کے پیارے بیٹے حضرت عبداللہ سے ہوا۔ نکاح کے کچھ عرصہ بعد حضرت عبداللہ تجارت کے لئے شام کو روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچ کر آپ بیمار ہو گئے اور بیماری کی حالت میں واپس آرہے تھے کہ یثرب سے گزرتے ہوئے والد کی ننھیال میں ٹھہر گئے او وہیں وفات پائی۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا سے شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد اس عالم میں بیوگی کا صدمہ اٹھایا کہ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بطن مطہر میں پرورش پار ہے تھے۔

20 اپریل571 ء بروز پیر صبح کے وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت آمنہ کو وہ بیٹا عطا کیا جسے آگے چل کر تمام عالم کی فلاح کی ذمہ داری اٹھانا تھی۔ حضرت عبدالمطلب نے پوتے کی خوشی میں قربانی کے لئے اونٹ ذبح کئے اور سارے عرب میں غریبوں کو کھانا کھلایا۔ اس موقع پر تمام قبائل کے بڑے بڑے سرداروں نے بچے کود یکھا اور حضرت عبدالمطلب کو مبارکباد دی۔اس موقع پر آپ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے بچے کا نام( محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) یعنی بہت تعریف کیا گیا رکھا۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت عرب میں یہ رواج تھا کہ پیدائش کے بعد شرفاء اپنے دودھ پیتے بچے کو اچھی تربیت اور پرورش کے لئے صحرا یا دیہات میں دایہ کے حوالے کر دیتے تھے تاکہ بچے باہر کی کھلی اور صحت بخش ہوا میں پرورش پاسکیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارکہ چھ ماہ ہوئی تو آپ کو بھی قبیلہ بنی سعد کی ایک خاتون حضرت مائی حلیمہ سعدیہ کے سپرد کر دیا گیا۔

کچھ عرصہ بعد حضرت مائی حلیمہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس مکہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کے پاس لائیں مگر شہر میں وبا پھیلی ہوئی تھی اس لئے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہانے اپنے نورِ نظر اور لخت جگر کو دوبارہ حضرت مائی حلیمہ کے سپرد کر کے واپس بھیج دیا۔

جب مائی حلیمہ دوبارہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس لائیں تو ان کی عمر مبارک تقریباََ چھ سال تھی۔ آپ بڑے توانا او تندرست تھے گویا جس مقصد کے لئے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے اکلوتے فرزند کی جدائی کا صدمہ سہا تھا وہ پورا ہو چکا تھا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی والدہ کے ہمراہ رہنے لگے۔ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیارے بیٹے کا بڑا خیال تھا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتیں۔ حضرت عبداللہ کے انتقال کے بعد حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا ہر سال ان کی قبر کی زیارت کو مدینہ تشریف لے جاتیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر اس وقت چھ برس کی تھی جب آپ کی والدہ آپ کو ساتھ لے کر یثرب (مدینہ) گئیں۔ مدینہ میں ایک ماہ کے قیام کے بعد جب واپس تشریف لا رہی تھیں تو مدینہ اورمکہ کے درمیان ابوا کے مقام پر وفات پائی اور وہیں دفن ہوئیں۔ اللہ تعالی آپ کے درجات بلند فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آمین یا رب العالمین

Leave a Comment