اسلامک معلومات اسلامک وظائف

سیدنا حضرت یونس ؑدعا لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین اسکے فضائل و برکات و کرشمات

حضرت الیسع علیہ السلام  کے بعد بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے حضرت یونس علیہ السلام مبعوث فرمائے گئے ۔ قرآن کریم میں چھ مقامات پر ان کا ذکر آیا ہے ، سورہ انعام ، سورہ نساء میں بہ سلسلہ تذکرہ انبیاء صرف نام آیا ہے ۔ سورہ انبیاء ، الصافات، القلم ، یونس ان چار سورتوں

یں مختصر حالات بیان کئے گئے ہیں دو سورتوں میں ذوالنون اور صاحب الحوت یعنی مچھلی والا کہا گیا ہے ۔ممم
تورات کے صحیفہ یوناہ میں آپ کا نام یوناہ بن امتی لکھاہے ۔ صحیح بخاری کی ایک روایت میں حضرت عبداللہ ابن عباس سے منقول ہے کہ یونس علیہ السلام کے والد کا نام متی تھا یہ کوئی خاص فرق نہیں ہے ۔
سرکش اور مستمرد اہل نینوا کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو منتخب کیا اور منصب نبوت سے نوازنے کے بعد نینوا (عراق کا مشہور و قدیم شہر جو ابھی کربلا کے نام سے جانا جاتا ہے ) جانے کا حکم دیا تاکہ وہاں رہ کر وہ وعظ و نصیحت کے ذریعے سے لوگوں کو صحیح راستے پر لگائیں لیکن ان کا احساس یہ تھا کہ شاید منصب نبوت کے بار گراں کو نہ اٹھا سکیں چنانچہ وہ “نینوا” جانے کی بجائے “ترسیسی” کی طرف چل دئیے ۔ پہلے “یافا” پہنچے وہاں سے ترسیسی جانے والے جہاز میں سوار ہوگئے راستے میں زبردست آندھی اور سخت طوفان برپا ہوا اس وقت آپ سو رہے تھے ملاحوں نے آپ کو جگا کر صورتحال سے خبردار کیا ، اہل جہاز کو یہ خیال گزرا کہ ضرور ہم میں سے کسی نے کوئی گناہ کیا ہے جس کے بدلے میں ہم پر آفت نازل ہوئی ہے چنانچہ طے ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے اور جس شخص کے نام کا قرعہ نکلے اسے سمندر میں پھینک دیا جائے اس طرح یقیناً طوفان تھم جائے گا تین مرتبہ قرعہ ڈالا گیا اور ہر مرتبہ آپ ہی کا نام نکلا
حضرت سے پوچھا گیا آپ کون ہیں اور آپ سے کیا خطا سرزد ہوئی ؟ حضرت نے اپنی جلد بازی کو خطاگردانتے ہوئے جواب یا کہ “میں اپنے مالک سے بھاگ کر آیا ہوں ” اہل جہاز نے پوچھا اب طوفان کو ٹھہرانے کی صورت کیا ہو ؟ ۔ آپ نے ان کے فیصلے کے پیش نظر جواب دیا ” مجھے اٹھا کر سمندر میں پھینک دو طوفان دور ہوجائے گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ طوفان تم پر میری وجہ سے آیا ہے ” نہ چاہنے کے باوجود انہوں نے مجبوراً حضرت یونس علیہ السلام کو سمندر میں پھینک دیا ، ساتھ ہی طوفان رک گیا ، جب آپ کو سمندر میں پھینکا گیا تو اسی وقت انہیں ایک بہت بڑی مچھلی نے نگل لیا ۔ اب حضرت نے اپنی خطا کے لئے دعائیں کیں ۔ ان کلمات کو ہمارے ہاں ” آیت کریمہ ” کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے ۔

لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین(سورہ انبیاء آیت ۸۷)۔
نہیں ہے کوئی معبود سوائے تیرے،پاک ہے تو بے شک میں ظالموں میں سے ہوں

 خدائے غفور و رحیم نے اپنے پیغمبر کی درد بھری دعاؤں کو سنا اور قبول فرمایا ، مچھلی کو حکم ملا کہ یونس علیہ السلام کو جو تیرے پاس ہماری امانت ہے اُگل دے چنانچہ مچھلی نے حضرت یونس علیہ السلام کو خشکی پر اُگل دیا ۔(سبحان اللہ )۔
قرآن مجید میں مذکور ہے “اور ذوالنون (یونس کا معاملہ یاد کرو)جب ایسا ہوا تھا کہ وہ خشمناک ہوکر چلا گیا پھر اس نے خیال کیا کہ ہم اس کو تنگی (آزمائش)میں نہیں ڈالیں گے پھر (جب اسے آزمائش نے گھیرا تو )اس نے (مچھلی کے پیٹ میں اور سمندر کی گہرائی کی) تاریکیوں میں پکارا خدایا !تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیرے لئے ہر طرح کی پاکی ہو حقیقت یہ ہے کہ میں نے اپنے اوپر بڑا ظلم کیا تب ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غمگینی سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں “۔ سورہ انبیاءاور بے شک یونس علیہ السلام پیغمبروں میں سے تھا (اور وہ واقعہ یاد کرو ) جب کہ وہ بھری ہوئی کشتی کی طرف
بھاگا(اور جب کشتی والوں نے غرق ہونے کے خوف سے ) قرعہ ڈالا تو (سمندر میں ) ڈالے جانے کے لئے اس کا نام نکلا پھر نگل گئی اس کو مچھلی اور وہ اللہ کے نزدیک قوم کے پاس سے بھاگ آنے پر قابل ملامت تھا پس اگر یہ بات نہ ہوتی کہ وہ خدا کی پاکی بیان کرنے والوں میں سے تھا تو مچھلی کے پیٹ میں قیامت تک رہتا پھر ڈال دیا ہم نے اس کو (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر ) چٹیل زمیں میں اور وہ ناتواں اور بے حال تھا ۔ (سورہ الصافات )۔

پس اپنے پروردگار کے حکم کی وجہ سے صبر کو کام میں لاؤ اور مچھلی والے (یونس) کی طرح (بے صبر )نہ ہوجاؤ۔
جب اس نے (خداکو)پکارا اور وہ بہت مغموم تھا اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اس کے پروردگار کے فضل نے اس کو (آغوش ) میں لےلیا تھا تو وہ ضرور چٹیل میدان میں ملامت شدہ ہو کر پھینک دیا جاتا پس اس کے پروردگار نے اس کو برگزیدہ کیا اور اس کو نیکوں کاروں میں رکھا ۔ سورہ القلم

مچھلی کے پیٹ میں رہنے ، ہوا اور خوراک نہ ملنے کے باعث بہت کمزور ہوچکے تھے قرآن کا بیان ہے “اور ہم نے اس
پر(سایہ کے لئے ) ایک بیل دار درخت اگایا اور ہم نے اسے ایک لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جانب پیغمبر بنا  کر بھیجا “۔
سورہ الصافات

واقعہ تو بہت طویل ہے لیکن یہاں اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ۔
حدیث میں اس آیہ کریمہ کی نسبت فرمایا “یہ اسم اعظم ہے جو اس کے ساتھ دعا کرے قبول ہو “۔

علماء فرماتے ہیں کہ آیہ کریمہ قبولِ دعا خصوصاً دفع بلا میں اثرِ تمام رکھتی ہے ۔ سعد بن ابی وقاص (رض) کی حدیث میں ہے کہ “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا وہ اسم اعظم نہ بتادوں کہ جب وہ اس سے پکارا جائے اجابت کرے اور جب اس سے سوال کیا جائے عطا فرمائے وہ دعا یہ ہے جو یونس علیہ السلام نے تین تاریکیوں میں کی تھی “۔
کسی نے عرض کیا “یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ! کیا یہ خاص حضرت یونس علیہ السلام کے لئے تھا ؟۔
یا سب مسلمان کے لئے ہے ؟۔  آپ (ص) نے فرمایا ، مگر تونے خدا تعالیٰ کا ارشا نہ سنا کہ
فاستجبنا له ونجيناه من الغم وكذلك ننجي المؤمنين”۔ سورہ انبیاء آیت نمبر ۸۸۔
پس ہم نے اسکی پکار سن لی اور اسے غم سےنجات دے دی اور ہم ایمان والوں کو اسی طرح بچالیا کرتے ہیں۔

دعائے حضرت یونس علیہ السلام کے متعلق تاریخ و قرآن سے ہم مختصراً واقعات قلمبند کرچکے ہیں ۔
اب مختلف بزرگان دین و علمائے روحانیت سے اس آیہ کریمہ کے متعلق جو اعمال حاصل ہوئے ہیں انہیں مختصراً یہاں درج کرتے ہیں تاکہ ہر ضرورت مند فرد اپنے مسائل میں اس آیہ مبارکہ کا وسیلہ اختیار کرتے ہوئے اپنی منزل مقصود کو پاسکے۔

Leave a Comment