اسلامک وظائف

مشکلات اور پریشانیوں سے نجات کا وظیفہ

مشکلات اور پریشانیوں سے نجات کا وظیفہ

اسلام علیکم
قرآن کریم کو پڑھیں، سمجھیں اور عمل کریں تو یہی سبق ملتا ہے کہ انسان پر آنے والی مصیبتیں اس کے اعمال کا کیا دھرا ہیں۔ رب العالمین تو بے پناہ رحم فرماتے ہیں، خالق کائنات تو بار بار بخشتے ہیں۔ یہ انسان ہی ناشکرا بھی ہے، جلد باز بھی ہے، احسان فراموش بھی ہے، بہت جلد بھولنے والا بھی ہے، بدلہ لینے والا بھی ہے، خیانت بھی کرتا ہے، غرور تکبر بھی کرتا ہے، حق مارتا ہے، ظلم کرتا ہے، یتیموں مسکینوں کے ساتھ زیادتی کرتا ہے، ناپ تول میں کمی کرتا ہے، والدین، بہن بھائیوں، رشتہ داروں اور ہمسایوں کے حقوق ادا نہیں کرتا اس کے علاوہ بھی ہر قدم پر اتنی غلطیاں کرتا ہے کہ شمار سے باہر ہیں۔ اتنی غلطیوں کے باوجود بھی اگر انسان یہ کہے کہ ہر آنے والی مصیبت میں اس کا کوئی کردار نہیں تو یہ نہایت غلط ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ترجمہ

loading...

اور تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا۔اس کے بعد کوئی دلیل قابل قبول ہونا تو دور کی بات زیر غور بھی نہیں لائی جا سکتی۔ ہمارا ایمان ہی یہی ہے۔ اللہ کریم تو بار بار بخشتے ہیں۔ ہر لمحہ ہماری خطاؤں کو معاف فرماتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمیں ایسے تکلیف ملےان دنوں ہم کرونا وائرس کی مصیبت میں مبتلا ہیں تو یہ ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ویسے یہ ابتدا ہے۔ عین ممکن ہے جب ہم معمول کی زندگی کی طرف لوٹیں ہمیں اس سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ البتہ اس وقت یہ ضرور ہو گا کہ ہم اس مشکل سے نکلنے کے لیے خود کوششیں کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ گھروں میں قید نہیں ہوں گے۔ آنے والا وقت سرمایہ داروں اور مالداروں کے لیے ایک اور امتحان ضرور ہو گا۔ حکومت کو اس سے بھی بڑے امتحان کا سامنا ہو گا۔ اس وقت کرونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں ہمیں ضرورت مندوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ سڑک کنارے بیروزگاروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یقیناً ان میں بہت بڑی تعداد وہ ہو گی جنہیں حقیقی معنوں میں کام کی ضرورت ہے اور کام نہ ملنے کی وجہ سے ان کے پاس پیسے ختم ہو گئے۔ یقیناً کچھ ایسے بھی ہوں گے جو عادتاً دوسروں پر انحصار کرتے ہیں لیکن جو صاحب حیثیت ہیں انہوں نے تو سب کا خیال رکھنا ہے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور سڑک کنارے بیٹھنے والوں کی تعداد میں اضافہ انتہائی خطرناک اور پریشان کن ہے۔ جوں جوں لاک ڈاؤن آگے بڑھے گا اس تعداد میں بھی اضافہ ہی ہو گا۔ چند روز قبل انہی صفحات پر ہم نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہمیں حکومت کی طرف دیکھنے کے بجائے انفرادی طور پر مدد کے رجحان کو فروغ دینا چاہیے اس طرح ہم زیادہ بہتر اور موثر انداز میں اس مشکل صورتحال سے نکل سکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم یہ ہے کہ کرونا کے مریضوں کو قرآنی آیات، دعائیں اور روحانی طریقہ علاج کی طرف ضرور راغب کرنا چاہیے کیونکہ کسی بھی بیماری میں بحالی کے لیے قرآن کی تلاوت، احادیث کا مطالعہ اور دعائیں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اگر کوئی شخص کسی مصیبت یا پریشانی میں پڑگیا ہے اور کسی طرح وہ مصیبت دور ہی نہیں ہوتی تو یہ عمل کیا جائے۔ نماز فجر پڑھ کر قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر میں مشغول رہیے۔ یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوجائے پھر دو رکعت نفل اشراق پڑھیے اس کے بعد سورہ توبہ کی آخری دو آیتیں گیارہ بار پڑھیے۔ ۔ پھر سر بسجود ہو کر حق تعالیٰ سے امن و عافیت طلب کیجئے ، ان شاء اللہ چند روز میں آپ کی مصیبت ،پریشانی دور ہوجائیگی اور دل کو اطمینان حاصل ہوگا، اور حاجت براری بھی نصیب ہوگی۔انشاءاللہ

loading...

Leave a Comment