قصص الانبیا ء

قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام میں سب سے پہلا تذکرہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔ نو سورتوں میں کوئی ۲۵ مختلف آیتوں میں آپ علیہ السلام کا نام آیا ہے

قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام میں سب سے پہلا تذکرہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا ہے۔ نو سورتوں میں کوئی ۲۵ مختلف آیتوں میں آپ علیہ السلام کا نام آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام پر دس صحائف نازل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی عظیم صفت ’’علم‘‘ سے اشیاء کا علم عطا فرمایا۔ آئندہ زندگی میں کیونکہ انسان کو ان اشیا سے واسطہ پڑنا تھا اس لیے یہ علم اس کی ایک فطری ضرورت تھی۔ حضرت آدم علیہ السلام کا خمیر ایسی مٹی سے گوندھا گیا جو نت نئی تبدیلیوں کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

حضرت آدم علیہ السلام جنت میں ایک عرصہ تک تنہا زندگی بسر کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بائیں پسلی سے ایک عورت کو پیدا کیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی بیوی کا نام حوّا رکھا جو سب انسانوں کی ماں ہیں۔

loading...

حضرت آدم اور حوا علیہما السلام کو زمین پر اتارنا محض کوئی سزا نہ تھی بلکہ ان کی تخلیق کا مقصد ہی زمینی خلافت تھی۔ کتاب المعارف میں ابن قتیبہ نے لکھا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سراندیپ (سری لنکا) کے پہاڑ ’’واسم‘‘ پر اتارے گئے جو ہزاروں سال پہلے ہندوستان کے جنوبی حصہ سے ملا ہوا تھا۔ اب یہ پہاڑ سری لنکا کے شہر رتنا پور کے قریب ہے اور کوہ آدم کے نام سے مشہور ہے۔ ابن بطوطہ نے جبل سراندیپ کو دنیا کے بلند پہاڑوں میں سے ایک لکھا ہے۔ باوا آدم علیہ السلام کے پائوں کا نشان (قدم شریف) ایک سخت سیاہ پتھر پر ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بابت کوئی سند نہیں۔ حضرت حوّا جدہ میں اتاری گئیں۔

حضرت آدم علیہ السلام کا قد 60 ہاتھ لمبا تھا۔ وہ خشیت الٰہی کی وجہ سے جھک کر چلتے تھے۔ 930 سال کی عمر پائی اور جدہ میں دفن ہوئے۔ دوسری روایت یہ ہے کہ وہ مسجد خیف میں مدفون ہیں جہاں دیگر ستر انبیاء بھی دفن ہیں۔ ان کے انتقال کے دو سال بعد حضرت حوا علیہ السلام کی وفات ہوئی جدہ میں ان کی قبر موجود ہے۔

loading...

Leave a Comment