قصص الانبیا ء

مقام ابراہیم کے سلسلے میں مختلف باتیں کہی ہیں۔بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبے کی دیواریں چن رہے تھے۔

مفسرین نے مقام ابراہیم کے سلسلے میں مختلف باتیں کہی ہیں۔بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبے کی دیواریں چن رہے تھے۔ اس کی ضرورت اس وقت پڑی تھی جب دیوار اونچی ہوگئی تھی اور پتھر پر پتھر رکھتے چلے جانا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بس سے باہر ہوگیا تھا،مجبوراً وہ پتھر پر کھڑے ہوکر چنائی کا کام کرنے لگے تھے۔ مقام ابراہیم کو حجرابراہیم علیہ السلام سے تعبیر کرنیوالوںمیں ابن عباسؓ،جابر بن عبداللہؓ اور قتادہ ؓ شامل ہیں۔

وہ پتھر جس پر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھائی تھیں، اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات پڑے ہوئے ہیں اور یہ پتھر ابتک موجود ہے ، آپؑ کے قدموں کے نشانات پر پیتل کا خول چڑھا یا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:واذجعلنا البیت مثابۃللناس و امناوتخدو ا من مقام ابراہیم مصلیٰ ’’اور یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے خانہ کعبہ کو لوگوں کیلئے ایک مقام رجوع اور مقام امن مقرر کیا اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بنالو۔‘‘

loading...

بعض لوگ کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم سے پورا حرم مراد ہے۔ دیگر کا کہنا ہے کہ حج کے تمام مقامات سے مقام ابراہیم مقصود ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عرفہ،مزدلفہ اور جمرات کا علاقہ مقام ابراہیم کہلاتا ہے۔

المصلیٰ(جائے نماز)سے کیا مراد ہے؟ اس حوالے سے کئی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ایک قول تو یہ ہے کہ جس پتھر پر کھڑے ہوکر ابراہیم علیہ السلام کعبہ تعمیر کررہے تھے اس سے جائے نماز مراد ہے۔

اگر مقام ابراہیم سے پتھر مقصود ہوتو یہ بات ناقابل فہم ہے کیونکہ پتھر پر نماز ادا نہیں کی جاسکتی۔اس کے عقب میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔عقلاً اور شرعاً یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ جگہ جہاں پتھر رکھا ہوا ہووہی پتھر کی وجہ سے مقام ابراہیم کہلائے، یہ وہ جگہ ہے جہاں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

کہتے ہیں کہ مقام ابراہیم سے پوری مسجد الحرام مراد ہے۔ بعض لوگ مقام ابراہیم پورے حرم ہی کو کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ تمام حج مقامات ،منیٰ،مزدلفہ اور عرفہ مقام ابراہیم ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ پتھر جس پر کھڑے ہوکر ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ تعمیر کیا تھا وہ مقام ابراہیم ہے۔آخری قول ہی صحیح ہے اور مقام ابراہیم کہتے ہی سب کا ذہن اسی طرف ہی جاتا ہے۔

یہ پتھر محفوظ ہے، اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشانات نمایاں ہیں، اس سے خانہ کعبہ کے معمار اول کی یادمحفوظ ہوگئی ہے۔

اصل پتھر جنت کا ہے۔ترمذی،احمد،حاکم اور ابن حبان کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ’’حجراسود اور مقام ابراہیم جنت کے 2یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی مٹا دی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ مشرق و مغرب کو روشن کردیتے ۔‘‘

زمانۂ جاہلیت میں بھی عرب حجراسود اور مقام ابراہیم کی تعظیم کیا کرتے تھے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو بت نہیں بننے دیا، عربوں نے کبھی ان کی پوجا نہیں کیا،خانہ کعبہ کے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں مقدس جگہوں کیلئے امت محمدیہؐ کیلئے شرک کی آلودگیوں اور آلائشوں سے پاک و صاف رکھا۔

مقام ابراہیم والا پتھر ،حرم شریف میں شیشے کے کیس میں رکھا ہوا ہے۔ قدموں کے نشانوں کی اصل ہیئت بد ل گئی ہے۔وجہ یہ ہے کہ یہ پتھر کھلا ہوا تھا کثرت سے زائرین کا ہاتھ لگنے سے اس کے نقوش ماند پڑگئے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس پتھر پر جوتوں کے بغیر ننگے پیر کھڑے ہوتے ہونگے اس لئے کہ جوتوں کے بجائے پیروں کے نشان پڑے ہوئے ہیں۔

مسلم خلفاء اور سلاطین نے مقام ابراہیم کی بڑی خدمت کی۔بعض نے اسے سیسے کی پلیٹوں سے بنی کرسی پر چسپاں کرایا،خلیفہ منتصر باللہ نے 241ھ میں سیسے کے بجائے چاندی کی پلیٹیں تیارکرائیں،آگے چل کر مقام ابراہیم کیلئے ایک کمرہ بنوایا گیا 900ھ میں اسے از سرنوتعمیر کرایا گیا۔ عثمانی سلطان عبدالعزیز نے گنبد کو ڈیڑھ میٹر اونچا کرادیاپھر جب امیر سعود بن عبدالعزیز آل سعود نے ساتواں حج کیا تو انہوں نے گنبد ختم کرادیا۔عوام ،مقام ابراہیم اور اس پر قدموں کے نشانات کھل کر دیکھنے لگے۔

حج ،طواف اور نماز ادا کرنیوالوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو محسوس کیا گیا کہ مسجد الحرام میں مقام ابراہیم کی وجہ سے نماز میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ رابطہ عالم اسلامی نے اس سے متعلق جائزہ تیار کرایا اور شاہ فیصل ؒ کی خدمت میں پیش کردیا۔ تجویز کیا گیا تھا کہ مقام ابراہیم میں جو اضافے کرائے گئے ہیں انہیں ختم کرادیا جائے اور اسے شیشے کے کیس میں رکھوا دیا جائے۔ایسا کرنے سے جگہ میں اضافہ ہوگا اور اسی کے ساتھ ساتھ عوام الناس کا یہ عقیدہ بھی غلط ثابت ہوجائیگا کہ اس جگہ ابراہیم علیہ السلام کی قبر ہے۔

مقام ابراہیم کے کمرے کا رقبہ 18مربع میٹر تھا جبکہ مقام ابراہیم ڈیڑھ میٹر سے زیادہ نہ تھا۔
18رجب 1387ھ کو مقام ابراہیم کو اعلیٰ درجے کے کرسٹل کے بنے ہوئے شوکیس میں رکھنے کی تقریب منعقد کی گئی جس کی بدولت حرم شریف میں تقریباً5مربع میٹر کا رقبہ خالی ہوگیا۔

جہاں تک کرسٹل کے رقبے کا تعلق ہے تو اس کا قطر80سینٹی میٹر،مو ٹائی20سینٹی میٹر اور اونچائی تقریباً ایک میٹر ہے۔ یہ 75سینٹی میٹر اونچے سنگ مرمرکے چبوترے پر رکھا ہوا ہے۔اس پتھرکا مجموعی وزن 1700کلوگرام ہے، اس میں 600کلوگرام چبوترے کا وزن ہے۔

loading...

Leave a Comment