اسلامک معلومات

پاکی ناپاکی سے متعلق وسوسوں سے نجات پائیے!

پاکی ناپاکی سے متعلق وسوسوں سے نجات پائیے! پاکی ناپاکی کے معاملے میں غیر معتدل صورتحال: پاکی ناپاکی کے معاملے میں عمومی سطح پر بہت ہی افراط وتفریط دکھائی دیتی ہے کہ بعض لوگ اس میں غفلت کرتے ہیں کہ وہ پاکی ناپاکی کے مسئلے کو اہمیت نہیں دیتے، انھیں اس بات کی خاص پروا نہیں ہوتی کہ ناپاکی دور کرنے اور پاکی حاصل کرنے کی اہمیت اور ضرورت کیا ہے؟

اس سے متعلق شرعی احکامات کیا ہیں؟ جبکہ بعض لوگ اس مسئلے میں شریعت کی مقرر کردہ حدّ سے بھی زیادہ احتیاط کرتے نظر آتے ہیں اور اسی احتیاط کے نتیجے میں پانی کو ضائع کرنے کے جرم میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں، گویا کہ وہ دین سے بھی آگے بڑھنے کے غلط فلسفے میں مبتلا رہتے ہیں، اور اس زیادہ احتیاط کے باعث وہ طرح طرح کے وساوس کا شکار ہوجاتے ہیں اور بالآخر ان کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ بندہ کو بھی ایسے بہت سے مسلمان بھائیوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جو پاکی ناپاکی سے متعلق بے بنیاد وساوس اور پریشانیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ غیر معتدل صورتحال پاکی ناپاکی کے بارے میں شریعت کی سنہری تعلیمات سے غفلت اور ان کو اہمیت نہ دینے کا نتیجہ ہے،

loading...

کیوں کہ پاکی ناپاکی میں بھی ذاتی خود ساختہ رائے کی بجائے شریعت ہی کی تعلیمات معتبر ہیں۔ زیرِ نظر تحریر میں مختصر انداز میں پاکی ناپاکی سے متعلق شریعت کی چند بنیادی تعلیمات ذکر کرنا مقصود ہے تاکہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو دلی اطمینان اور تسلی نصیب ہوسکے اور وساوس سے نجات پاکر پُرسکون زندگی بسر کرسکیں۔ پاکی اور ناپاکی سے متعلق شریعت کا مزاج اور ایک اہم نکتہ:

شریعت میں پاکی ناپاکی کا مسئلہ نہایت اہم بھی ہے اور ایک حد تک نازک بھی۔ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ پاکی اور ناپاکی کے معاملے میں احتیاط سے کام لیا جائے اور اس میں غفلت اور کوتاہی گوارہ نہ کی جائے، لیکن ساتھ میں یہ بھی تعلیم دی کہ اس معاملے میں بلاوجہ کے شکوک ووساوس کی طرف ہرگز توجہ نہ دی جائے اور نہ ہی حدّسے زیادہ احتیاط سے کام لیا جائے، ان دونوں پہلووں کو مدّ نظر رکھنے سے اعتدال بھی نصیب ہوتا ہے اور غفلت اور وساوس سے چھٹکارہ بھی مل جاتا ہے۔
پاکی ناپاکی سے متعلق شریعت کی دس سنہری تعلیمات: جسم یا کپڑے جب اصولی طور پر پاک ہوں تو پھر ان کے ناپاک ہونے کے لیے کسی ٹھوس دلیل کی ضرورت ہوا کرتی ہے،

محض شک کی بنیاد پر ان کو ناپاک قرار نہیں دیا جاسکتا، اس لیے جب تک ناپاکی لگنے کا یقین نہ ہو تو یہ پاک سمجھے جائیں گے۔2⃣ جسم یا کپڑے پر جس جگہ نجاست لگ جائے تو صرف اسی جگہ کو دھولینا کافی ہوتا ہے، اس کے ساتھ باقی جسم یا کپڑے کو بھی دھونے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی یہ دین یا احتیاط کا تقاضا ہے، بلکہ ایک لغو حرکت ہے جس سے بچنا چاہیے۔

3⃣ بعض لوگ نجاست والی جگہ دھو لینے کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ شاید کسی اور جگہ بھی ناپاکی لگی ہوگی اس لیے اس کو بھی دھو لیتے ہیں، یہ ایک فضول حرکت ہے کیوں کہ اس شک کا کوئی اعتبار نہیں، بلکہ جہاں جہاں نجاست لگنے کا یقین ہے صرف اسی جگہ کو دھو لیا جائے بس!!4⃣ اگر کپڑے یا جسم پر یقینی طور پر کوئی نجاست لگ جائے لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ کہاں لگی ہے تو ایسی صورت میں اندازہ لگا کرغالب گمان کا اعتبار کرتے ہوئےجگہ متعین کرکے (کچھ اضافی جگہ سمیت) اسے دھو لیا جائے تو یہ کافی ہے۔ 5⃣ کپڑے پر نجاست لگ جائے اور اس کو دھو لیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے، اس کپڑے میں نماز پڑھنا بالکل درست ہے،

اس سے معلوم ہوا کہ جس کپڑے پر احتلام یا صحبت کی وجہ سے منی لگ جائے یا کسی عورت کی ماہواری کا خون کسی کپڑے کو لگ جائے تو اس ناپاک جگہ کو دھولینا کافی ہے، اس سے وہ کپڑا پاک شمار ہوگا اور اس میں نماز ادا کرنا درست ہے۔ اس معاملے میں بڑی غلط فہمی رائج ہے۔ 6⃣ پانی اپنی ذات میں پاک ہوا کرتا ہے، اس لیے جب تک اس میں ناپاکی شامل ہونے کی کوئی یقینی دلیل نہ ہو تو اس کو پاک سمجھا جائے گا،

اس سے معلوم ہوا کہ راستوں میں جو پانی جمع ہوتا ہے، یا بیت الخلا میں کسی برتن یا لوٹے میں جو پانی رکھا ہوتا ہےتو جب تک اس کے ناپاک ہونے کی یقینی دلیل نہ ہو تو اس کو پاک سمجھا جائے گا۔ 7⃣ اگر وضو یا غسل کے دوران کسی عضو کے دھونے میں شک ہوجائے تو اگر پہلی بار ایسا شک ہوا ہو تو وہ عضو دھو لیا جائے لیکن اگر شک ہوتا رہتا ہو تو پھر اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ 8⃣ وضو یا غسل کے بعد یاد آئے کہ فلاں عضو خشک رہ گیا ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں: ☀️ (الف) اگر یہ یقین ہے کہ وضو یا غسل میں وہ عضو دھونا بھول گیا تھا تو اس صورت میں صرف اسی عضو کو دھو لیا جائے، دوبارہ وضو یا غسل کرنے کی ضرورت نہیں۔

☀️ (ب) اگر یہ شک ہورہا ہے کہ شاید نہیں دھویا ہو تو اس صورت میں شک کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ وضو اور غسل بالکل درست ہے۔9⃣ وضو اور غسل میں تین بار اعضا دھونا سنت ہے، جو کہ دلی اطمینان کے لیے کافی ہے، اس لیے شک کی بنیاد پر تین بار سے زیادہ دھونا شریعت کا تقاضا نہیں بلکہ ایک لغو حرکت ہے۔ 🔟 اگر کسی کو وضو ہونے اور نہ ہونے میں شک ہوجائے.

تو اگر اس کو باوضو ہونا یاد تھا لیکن وضو ٹوٹنے میں شک تھاتو ایسا شخص باوضو شمار ہوگا۔ اور اگر اس کو بے وضو ہونا یاد تھا لیکن وضو کرنے میں شک تھا تو ایسا شخص بے وضو شمار ہوگا۔ (مستفاد من کتب الفقہ)❄ احادیث مبارکہ اور فقہی عبارات:☀️ سنن ابی داود میں ہے:96- عَنْ أَبِى نَعَامَةَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّلٍ سَمِعَ ابْنَهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّى أَسْأَلُكَ الْقَصْرَ الأَبْيَضَ عَنْ يَمِينِ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلْتُهَا. فَقَالَ: أَىْ بُنَىَّ، سَلِ اللهَ الْجَنَّةَ وَتَعَوَّذْ بِهِ مِنَ النَّارِ؛ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ فِى هَذِهِ الأُمَّةِ قَوْمٌ يَعْتَدُونَ فِى الطُّهُورِ وَالدُّعَاءِ». (باب الإِسْرَافِ فِى الْوَضُوءِ)☀️ شرح مسلم للنووی (باب كراهة غمس المتوضئ وغيره يده المشكوك في نجاستها في الاناء) اور شرح ابی داود للعینی (باب في الرجل يدخل يده في الإناء قبل أن يغسلها) میں ہے:

الْأَصْل فِي الْمَاء وَالْيَد الطَّهَارَة فَلَا يَنْجُس بِالشَّكِّ.☀️ الاشباہ والنظائر لابن نجیم میں ہے: الْقَاعِدَةُ الثَّالِثَةُ: الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ.
☀️ سنن ابی داود میں ہے:365- عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ: أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتِ النَّبِىَّ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِى إِلا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ فَكَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: «إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِيهِ ثُمَّ صَلِّى فِيهِ»، فَقَالَتْ: فَإِنْ لَمْ يَخْرُجِ الدَّمُ؟ قَالَ: «يَكْفِيكِ غَسْلُ الدَّمِ وَلا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ».

☀️ مسند احمد میں ہے: 6684- عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ يَسْأَلُهُ عَن الْوُضُوءِ فَأَرَاهُ ثَلَاثًا ثَلَاثًا قَالَ: «هَذَا الْوُضُوءُ فَمَنْ زَادَ عَلَى هَذَا فَقَدْ أَسَاءَ وَتَعَدَّى وَظَلَمَ». ☀️ فتاوی ہندیہ میں ہے:وَمِمَّا يَتَّصِلُ بِذَلِكَ مَسَائِلُ الشَّكِّ: في «الْأَصْلِ»: من شَكَّ في بَعْضِ وُضُوئِهِ وهو أَوَّلُ ما شَكَّ غَسَلَ الْمَوْضِعَ الذي شَكَّ فيه، فإن وَقَعَ ذلك كَثِيرًا لم يُلْتَفَتْ إلَيْهِ، هذا إذَا كان الشَّكُّ في خِلَالِ الْوُضُوءِ، فَإِنْ كان بَعْدَ الْفَرَاغِ من الْوُضُوءِ لم يُلْتَفَتْ إلَى ذلك، وَمَنْ شَكَّ في الْحَدَثِ فَهُوَ على وُضُوئِهِ، وَلَوْ كان مُحْدِثًا فَشَكَّ في الطَّهَارَةِ فَهُوَ على حَدَثِهِ، وَلَا يَعْمَلُ بِالتَّحَرِّي كَذَا في «الْخُلَاصَةِ». (كِتَابُ الطَّهَارَةِ الْبَابُ الْأَوَّلُ في الْوُضُوءِ)☀️ مرقاۃ میں ہے:

قُلْتُ: أَمَّا قَوْلُهُ: (لِطُمَأْنِينَةِ الْقَلْبِ عِنْدَ الشَّكِّ) فَفِيهِ أَنَّ الشَّكَّ بَعْدَ التَّثْلِيثِ لَا وَجْهَ لَهُ، وَإِنْ وَقَعَ بَعْدَهُ فَلَا نِهَايَةَ لَهُ وَهُوَ الْوَسْوَسَةُ، وَلِهَذَا أَخَذَ ابْنُ الْمُبَارَكِ بِظَاهِرِهِ فَقَالَ: لَا آمَنُ إِذَا زَادَ عَلَى الثَّلَاثِ أَنْ يَأْثَمَ. وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ: لَا يَزِيدُ عَلَيْهَا إِلَّا مُبْتَلًى أَيْ بِالْجُنُونِ لِمَظِنَّةِ أَنَّهُ بِالزِّيَادَةِ يَحْتَاطُ لِدِينِهِ. قَالَ ابْنُ حَجَرٍ: وَلَقَدْ شَاهَدْنَا مِنَ الْمُوَسْوَسِينَ مَنْ يَغْسِلُ يَدَهُ فَوْقَ الْمِئِينَ، وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يَعْتَقِدُ أَنَّ حَدَثَهُ هُوَ الْيَقِينُ. (باب سنن الوضوء)

loading...

Leave a Comment