اسلامک معلومات

پہلے دور کے لوگوں کا شرک ہمارے دور کے مشرکوں سے دو وجوہات کی بنا پر کمتر تھا

۱ پہلے دور کے مشرک صرف راحت و آرام کی حالت میں ملائکہ اولیاء یا بتوں کو پکارتے اور انہیں اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے جبکہ سختی و پریشانی کے وقت سب کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے تھے۔ فرمایا : جب سمندر میں تم آفت میں گرفتآر ہوتے ھو تو اللہ کے سوا جن جن کو پکارتے ہو, سب بھول جاتے ہو۔ پھر جب تم کو خشکی میں بچا لاتا ہے تو اللہ سے پھر بیٹھتے ہو الاسراء 67

کہو، یہ بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آئے یا قیامت آجائے تو کیا تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے۔ بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ 41۔ بلکہ تم اسی کو پکارو گے۔ پھر وہ دور کردیتاہے اس مصیبت کو جس کے لئے تم اس کو پکارتے ہو، اگر وہ چاہتا ہے۔ اور تم بھول جاتے ہو ان کو جنھیںتم شریک ٹھہراتے ہو۔ انعام اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس کی طرف رجوع ہوکر۔پھر جب وہ اس کو اپنے پاس سے نعمت دے دیتا ہے تو وہ اس چیز کو بھول جاتا ہے جس کے لیے وہ پہلے پکاررہا تھا اور وہ دوسروں کو اللہ کا برابر ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ وہ اس کی راہ سے گمراہ کردے۔کہو کہ تو اپنے کفر سے تھوڑے دن فائدہ اٹھالے،بے شک تو آگ والوں میں سے ہے۔الزمر

loading...

اور جب موت ان کے سر پر بادل کی طرح چھاجاتی ہے، وہ اللہ کو پکارتے ہیں اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ پھر جب وہ ان کو نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں کچھ اعتدال پر رہتے ہیں۔ اور ہماری نشانیوں کاانکار وہی لوگ کرتے ہیں جو بدعہد اور ناشکر گزار ہے۔ لقمان 32 جو شخص یہ مسئلہ اچھی طرح سمجھ لے کہ جن مشرکین سے رسول اللہ نے قتال کیا وہ صرف راحت و آرام کی حالت میں اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے تھے .

لیکن سخت پریشانی کے وقت وہ سب کچھ چھوڑ کر صرف اللہ واحد کو پکارتے اور اپنے اولیاء کو بھول جاتے۔ تو یہسمجھنے کے بعد اس کے لئے پہلے دور کے مشرک اور ہمارے زمانے کے مشرک کے درمیان واضح فرق ہو جائے گا۔ لیکن افسوس!
کہاں ہیں وہ دل جو اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ ۲ پہلے لوگ اللہ کے ساتھ انہی لوگوں کو پکارتے تھے جو اللہ کے مقرب بندے ہوتے تھے جیسے انبیاء اولیاء یا ملائکہ وغیرہ یا پھر پتھروں اور درختوں کو پکارتے تھے جو اللہ کے فرمانبردار ہیں , نافرمان نہیں۔لیکن ہمارے زمانے کے مشرک اللہ کے ساتھ جن جن کو پکارتے ہیں انمیں انتہائی فاسق و فاجر بھی ہیں اور بدترین قسم کے لوگ بھی ہیں۔

ظاہر بات یہ ہے کہ جو شخص کسی نیک و صالح شخص کے بارے میں کوئی عقیدہ رکھے یا لکڑی و پتھر جیسی چیزوں کے بارے عقیدہ رکھے جو اللہ کے نافرمان نہیں ہیں۔ ایسے شخص کا شرک اس آدمی کے شرک سے کہیں ہلکا ہو گا جو وہ عقیدہ کسی فاسق یا فاجر شخص کے بارے رکھے۔

loading...

Leave a Comment