اسلامک معلومات قصص الانبیا ء

ماہ رجب کی بدعات وخرافات

ماہ رجب کی بدعات وخرافات ===================رجب کے مہینے میں طرح طرح کی بدعات وخرافات کی جاتی ہیں ، آپ حضرات سے گذراش ہے کہ خود بھی ان بدعات سے دور رہیں اور اپنے معاشرے کو بھی ان خرافات سے نجات دینے کی حتی الوسع کوشش کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم كا فرمان ہے: (دين میں ہر نیا کام بدعت ہے. اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے) رجب کی چند مشہور ومعروف بدعات:

1⃣ بدعت: رجب کے مہینہ میں کثرت سے عمرہ کرنا: حقیقت : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا. (صحیح بخاری باب:٣ حدیث: ١٧٧٦)۔2⃣ بدعت ماہ رجب میں بالخصوص روزے رکھنا: حقیقت: اس مہینہ کے روزوں سے متعلق تمام روایات ضعیف وموضوع ہیں۔*3⃣ بدعت ستائسویں رات کو قیام کرنا، نماز شب معراج پڑھنا، محفلیں منعقد کرنااور واقعہ معراج کا تذکرہ کرنا کہ یہ اسراء ومعراج کی رات ہے: حقیقت : واقعہ معراج کس رات ؟ کس ماه؟ بلکہ کس سال پیش آیا ؟ اس میں مؤرخین کا بہت اختلاف ہے. (الرحیق المختوم:197)اس لئے واقعہ معراج کیلئے ستائسویں رجب ہی کو متعین کرنا بہر صورت درست نہیں،
بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ یہی وہ رات ہے

loading...

تو اس رات میں خصوصی عبادت اور محفلیں جمانے کی کوئی دلیل نہیں. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ كرام، تابعین وائمہ کرام نے کوئی ایسا کام نہیں کیا.*4⃣بدعت پہلے رجب کو ہزاری نماز پڑھنا: حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔ *5⃣ بدعت پندرہویں رجب کو ام داؤد کی نماز پڑھنا: حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔ *6⃣ بدعت رجب کے جمعہ کی پہلی رات بارہویں نماز پڑھنا:

حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔ 7⃣ بدعت صلاة الرغائب پڑھنا: حقیقت : اس نماز سے متعلق ساری روایتیں موضوع (خود ساختہ) ہیں۔*8⃣ بدعت معاجن رجب،، یعنی بعض لوگوں کا ماہ رجب کی 22 تاریخ کو امام جعفر صادق کی نیاز کے طور پر کھیر پکانا: حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔ *9⃣ بدعت 22 رجب کو کونڈے بھرنا: حقیقت : یہ بدعت 1906ء میں ریاست رامپور میں امیر مینائی لکھنوی کے خاندان میں پیدا ہوئی ہے ۔ اور کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اس دن صحابي رسول حضرت امير معاوية فوت ہوئے تھے. جس پر صحابہ کے دشمن شیعہ خوشی مناتے ہیں.*بدعت مردوں کی طرف سے صدقات وخیرات کرنا:حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔

1⃣1⃣ بدعت بالخصوص اس ماہ قبروں کی زیارت کرنا، خاص کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنا: حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔ 2⃣1⃣بدعت :مخصوص دعائیں پڑھنا: حقیقت : اس عمل کے لئے شریعت میں کوئی دلیل وارد نہیں ہے ۔ اللہ تعالی ہمیں بدعات وخرافات سے محفوظ رکھے اور سنت صحیحہ کے مطابق عمل کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

loading...

Leave a Comment