اسلامک معلومات

پردہ کی اہمیت

پردہ کی اہمیت :

پردہ شرعی حکم ہے. کسی بھی عورت کا اپنے شوہر کے کہنے پر نہ چہرہ کھولنا جائز ہے اور نہ پردے کا چھوڑنا جائز ہے، اگر بیوی پردہ نہ کرے تو شوہر کو چاہیئے کہ وہ ترغیب کے ساتھ سمجھائے، گھر کو دیندار بنانا مرد کی ذمہ داری ہے اور گھر کی دینداری کو برقرار رکھنا عورت کی ذمہ داری ہے، اسی طرح گھر میں والدین کا اپنی اولاد کو یہ کہنا کہ اپنی بیوی کو بھائیوں سے پردہ نہ کرنے کا کہو، خلافِ شرع ہے اور ان کے ایسے حکم کی تعمیل بھی گناہ ہے، اور سسرال والوں کا داماد سے یہ مطالبہ کہ ہماری بیٹی اپنے بہنوئیوں سے پردہ نہیں کرے گی، یہ بھی خلافِ شریعت ہے۔

غیرمسلم عورت سے پردہ :

بعض گھرانوں میں غیرمسلم نوکرانیاں کام کرتی ہیں. ایک مسلمان عورت کے لئے ان کا حکم نامحرَم مردوں کا ہے، البتہ ان کے سامنے چہرہ، ہاتھ اور پاوٴں کھول سکتی ہیں، باقی پورا وجود ڈھکا رہنا چاہئے۔

loading...

غیرمحرَم کی میت دیکھنا :

غیرمحرَم مرد یا عورت کی میّت دیکھنا اور اس کی تصویر کھینچنا جائز نہیں۔

فرسٹ کزن سے پردہ :

عورت کے لئے خالہ زاد، ماموں زاد، چچازاد اور پھوپی زاد بھائیوں کا حکم نامحرَم اجنبی مردوں کا ہے. لہذا ان سے مصافحہ کرنا، معانقہ کرنا. ایک دوسرے کے سینے یا سر پر ہاتھ رکھنا شرعا جائز نہیں بلکہ ان سے بلوغت کے بعد پردہ لازم ہے۔

سگی چچی اور سگی مامی سے پردہ :

مرد کے لئے سگی چچی یا سگی مامی (اگر بیوہ یا مطلقہ ہوجائے تو ان) سے شرعاً نکاح جائز ہے اور جب تک وہ چاچا یا ماموں کے نکاح میں ہیں، تب تک ان سے پردہ لازم ہے. اسی طرح عورت کے لئے سگے پھوپھا اور سگے خالو سے پردہ کرنا لازم ہے۔

دیور اور جیٹھ سے پردہ :

عورت کے لئے اپنے دیور، جیٹھ اور ہر سسرالی فرد (سسر اور اس کے والدین کے علاوہ) سے پردہ لازم ہے. ان کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے، چہرے کا پردہ کرے، اور (بوقت ضرورت بات کرنے میں) بے. تکلفی کے ساتھ باتیں نہ کرے، نہ ہنسی مذاق کرے۔
حدیث مبارک میں ہے کہ “دیور موت ہے”. سسرال کا ہر نامحرم فرد دیور کے حکم میں ہے. ان سے موت کی طرح ڈرنا اور بچنا چاہئے، ان سے بے تکلفی کی بات نہ کی جائے. تنہائی میں اس کے پاس نہ بیٹھا جائے وغیرہ۔

نامحرَم جوان مرد و عورت کا ایک دُوسرے کو سلام کرنا
نامحرَم مرد یا عورت کا ایک دوسرے کو سلام کرنا. جبکہ دونوں جوان ہوں. فتنے سے خالی نہیں، اس لئے سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا دونوں جائز نہیں. (البتہ جہاں فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو صرف سلام کرنے کی اجازت ہے. مصافحہ وغیرہ کی اجازت نہیں)۔

سگے بھائی، رضاعی بھائی اور منہ بولے بھائی سے بھی پردہ :

جن عزیزوں سے نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے. جیسے باپ، دادا، بھائی، بھتیجا، بھانجا ان سے پردہ نہیں، ایسے لوگ “محرَم” کہلاتے ہیں. اسی طرح رضاعی بھائی سے بھی پردہ نہیں البتہ اگر کسی کا کوئی محرَم بے دِین ہو یا رضاعی بھائی بے. دین ہو اور اس کو عزّت و آبرو کی شرم نہ ہو، تو اس سے بھی پردہ کرنا ضروری ہے، البتہ منہ بولے بھائی کی حیثیت اجنبی کی ہے.اس سے بھی پردہ لازم ہے۔
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ :
دُودھ شریک بھائی اپنے حقیقی بھائی کی طرح محرَم ہے.اس سے پردہ نہیں. البتہ اگر وہ بدنظر اور بدقماش ہو تو فتنے سے بچنے کے لئے اس سے بھی پردہ لازم ہے۔

loading...

Leave a Comment