اسلامک معلومات اسلامک واقعات

اللہ کے نبی سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک

Hazrat Yousaf AS

حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بائبل میں بھی ملتاہے۔ آپ یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق انبیا اللہ کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔ قران نے یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔ سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔حضرت یوسف(علیہ السلام ) کی سوتیلی ماں لیاہ نے یہ خواب چپکے سے سن لیا اور یہ خواب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کو سنا دیا اور اس پر آپ کے ایک بھائی یہودا نے کہا :- خواب میں سورج چاند ستارے مطلب یہ کہ سورج کو باپ چاند کو ماں اور دس ستارے یعنی ہم دس بھائی ہیں یعنی یوسف ہمیں خود سے حقیر سمجھتا ہے اور بابا کو ہم سے چھیننا چاہتا ہے۔۔۔

ان کے بھائی اس خواب کے بعد ان سے حسد کرنے لگے اور ایک دن ان کو اپنے ساتھ صحرا لے گئے (صحرا کعنان سے تین میل دور ایک مقام ہے) انہوں نے یوسف(علیہ السلام ) کو مار مار کر زخمی کر دیا اور آپ کے ایک بھائی یہودا نے تو خنجر نکال کر قتل کرنے کی بھی کوشش کی اس پر آپ کے سب سے بڑے بھائی لاوی نے اپنے بھائیوں کو منع کیا اور اپ کے زخموں سے خون صاف کرنے لگ گئے پھر لاوی نے اپنے بھائیوں سے یوسف کو چھوڑدینے اور گھر واپس لے جانے کی بات کی اس پر انہوں نے لاوی کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی پھر لاوی نے ان سے کہا یوسف کو گھر مت لے کر جاؤ اور نہ ہی قتل کرو بلکہ اسے یہاں سے دور بھگا دو اس پر وہ سارے بھائی یوسف(علیہ السلام ) کو لے کر صحرا کے ایک سب سے نمکین پانی والے اور گہرے کنویں کی طرف لے گئے اور یوسف(علیہ السلام ) کو اس میں ڈال دیا اورآپ کی قمیض اتار کر اس پر بکری ذبح کر کے اس کا خون لگا دیا اور اپنے والد محترم یعقوب علیہ سلام کے پاس گھر واپس چلے گئے گھر پہنچنے کے بعد جب یعقوب(علیہ السلام ) نے دریافت کیا کہ یوسف کہاں ہے تو وہ سارے بھائی زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگے اور یعقوب(علیہ السلام ) کو وہ خون الود قمیض دیکھا کر کہنے لگے کہ ہم یوسف کو سامان کے پاس چھوڑ کر کھیل رہے تھے جب شام ہوئی تو ہم نے سوچا کہ اب واپس جانا چاہیے جب واپس مڑ کر دیکھا تو یوسف کو بھیڑیا کھا گیا تھا۔ اس پر اپ وہ قمیض لے کرروتے روتے اپنے حجرے میں چلے گئے اور کچھ ہی لمحے بعد باہر ائے اور فرمانے لگے کہ اگر یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے تو یوسف کی قمیض کیوں نہیں پھٹی۔ اس کے بعد ان بھائیوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا کچھ دیر بعد یہودا نے کہا بابا ہم تو خود اس بات پر حیران ہیں پھر یعقوب(علیہ السلام ) نے فرمایا کہ اے میری اولاد توبہ کرلو وہ اللہ سب جانتا ہے۔

loading...

اس کے بعد یعقوب(ع) کافی عرصہ اپنے بیٹوں سے ناراض رہے یہاں تک کے ان کی اولادیں بھی ہو گیئں۔ اور نکل مقانی کر کے ان سےعلیحدہ ہو گئے۔آپ ایک قافلے والوں کے ہاتھ کنویں سے نکالے گئے اور اسی قافلے والوں نے انھیں مصر لا کر عزیزِمصر کو بطور غلام بیچ ڈالا عزیزِ مصر نے انھیں اچھی طرح رکھا اور کئی سالوں تک آپ ان کے گھر پر رہے اور جوان ہو گئے۔جوانی اور خوبصورتی کے عالم میں عزیز مصر کی بیوی زلیخا یوسف علیہ وسلام کے عشق میں مبتلا ہو گئی اور چاہا کہ یوسف سے جنسی تعلق بنائے اور ان کو اپنے کمرے بلوایا خواہش کا اظہار یوسف سے کیا یوسف علیہ وسلام نے ان کی یہ خواہش رد کردی۔ عزیزِ مصر کی بیوی نے زبر دستی کرنی چاہی تو یوسف علیہ وسلام دروازے کی طرف بھاگے اور خدائے پاک کے حکم سے ساتوں دروازے خودبخود کھلتے چلے گئے آخری دروازے پر انھوں نے عزیز مصر کو کھڑا پایا عورت نے جلد چالاکی سے کہا۔ جو تیرے گھر میں برائی کا ارادە کرے یا تو اُس کو قید کیا جائے اور یا سخت عذاب دیا جائے۔ یوسف علیہ اسلام نے فرمایا۔ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہ ہی مجھ کو اپنا مطلب پورا کر نے کے لیے پھسلاتی تھی۔ اس موقع پر زلیخا کے خاندان کے ایک شیر خوار بچے نے گواہی دی۔ کہ قمیص اگر آگے سے پھٹی ہے۔ تو عورت سچی ہے اور اگر قمیض پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف سچا اور عورت جھوٹی ہے۔ یہ یوسف علیہ السلام کا معجزە تھا کہ دودھ پیتاگہوارہ میں جھولتا ہوا بچہ الله کے حکم سے بول اُٹھا۔حضرت یوسف کو پھر بھی قید کر دیا گیا پھر اللہ کے حکم سے وہ قید سے نکالے گئے اور امیر مصر بنا ئے گئے اور جب ان کے بھا ئی ان سے غلہ لینے آئےتو انھو ں نے اپنا پیالہ ان کے غلے میں رکھ دیا اور اپنے بھا ئی بنیا مین کو روک لیا اوراس طرح اپنی قمیص کو اپنے بھا ئی کے ہاتھ اپنے والد تک پہنچا یا اور اس طرح ان کی بینا ئی واپس لوٹ آ ئی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے 120سال کی عمر پائی اور آپ کو مسجد خلیل فلسطین میں دفن کیا گیا ۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت حضرت یوسف علیہ السلام کو امت مسلمہ کی طرف سے جزائے خیر عطا فرما ئے۔۔۔۔۔

loading...

Leave a Comment