قصص الانبیا ء

ماروی سرمد کے حیرت انگیزحقائق

ماروی سرمد کون ہے ؟ کن مدارس سے تعلیم حاصل کرتی رہی ؟کن شعبوں سے وابستہ رہی؟ امریکہ میں کون سے شرمناک کام سرانجام دیتی رہی ؟ اپنے نوکروں کے ساتھ کس شرمناک حالت میں پکڑی گئی اور پاکستان کے کتنے علماء کرام کو بہکاتی رہی ؟
ماروی سرمد 11 جون 1970 کو سیالکوٹ پاکستان میں پیدا ہوئی اور اس وقت اس کی عمر 50 سال ہے۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ اس کی طبیعت ،تربیت اور اخلاق کس یہودی پر گیا ہے لہٰذا اس کے آباؤ اجداد بہت شریف تھے ،وہ کاشتکاری کے پیشے سے منسلک تھے، وہ کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے۔ لیکن ماروی سرمد کے والد’ چوہدری انور الحق’ ایک بیوروکریٹ تھے۔ آج جو یہ گلیز نعرے “میرا جسم میری مرضی” سے شہرت حاصل کر کے ابھر کر سامنے آنے والی جو ماروی سرمد ہے اس نے ابتدائی تعلیم کسی مغربی ماڈل اسکول یا معاشرے سے حاصل نہیں کی بلکہ لاہور کے “مدرسۃ البنات گرلز ہائی سکول “سے حاصل کی جہاں پر لڑکیوں اور لڑکوں کو اکٹھا تعلیم حاصل کرنے پر پابندی تھی ۔اسی سکول سے ابتدائی میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس نے” ادبستان صوفیہ بہاولپور “سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی لیکن وہ اسلامی تعلیم اور اسلامی روایات اس کی شخصیت پر چٹکی برابر بھی اثر انداز نہیں ہو سکی اور اس کی شخصیت اور طبیعت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تعلیمات سے بہت بہت زیادہ دور نظر آتی ہے۔

1990 میں جیسے ہی اس نے پری میڈیکل کی تعلیم مکمل کر لی تو اس کے فوراً بعد اس کی شادی ‘سرمد منظور’ نامی ایک شخص سے ہوگئی جس کا مذہب جو ‘کرسچن’ بتایا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہندو ہیں تاہم انہوں نے اپنا مذہب الگ کیا ہوا ہے وہ دنیا کے سامنے شو نہیں کر رہے کہ یہ مسلمان ہیں یا کس مذہب سے ان کا تعلق ہے لیکن ایک بات توپکی ہے کہ اس کا اور اس کے شوہر کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کی شخصیت میں بگاڑنے والا یہی اس کا شوہر سرمد منظور ہے۔
جب ان دونوں کی شادی ہوئی تو اس وقت ماروی سرمد کی عمر محض20 سال تھی۔ اس سے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ اس عورت کے آباؤ اجداد کا تعلق اس غیور اور غیرت مند خاندان سے ہے جہاں لڑکیوں کی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر ان کی شادی کو ترجیح دی جاتی ہے ۔اس بے چاری کا کوئی قصور نہیں کیونکہ شادی کے بعد ہی اس کا بیڑہ غرق ہوا ہے ۔شادی کے بعد اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پڑھتی گئی اور نہ جانے کون کون سی تعلیم حاصل کرتی گئی۔ سب سے پہلے تو یہ ایک ٹیچر کے طور پر اسکولوں میں پڑھاتی تھی ،پھر 2002 میں اس نے” جینڈر ایکویلٹی” یعنی خواتین کی برابری اور” میرا جسم میری مرضی” کے لیے اس نے کام کرنا شروع کر دیا۔ میرا جسم میری مرضی کے لئے کام کرنے سے بہت کچھ حاصل ہوا ۔اسے” یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام “کا حصہ بنایا گیا۔ اس پروگرام کے دوران ا سے بڑی بڑی نشستوں پر بٹھایا گیا۔

loading...

اس کے بعد اس نے” فیڈرل منسٹری آف موومنٹ ڈویلپمنٹ “کے ساتھ بھی کام کیا۔ 2010 میں سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اسے ہیومن رائٹس پر کام کرنے کے عوض نیشنل ہیومن رائٹس کے ایوارڈ سے نوازا۔ ایک سوچنے والی بات ہے کہ پاکستان میں کافی عرصہ سے بہت ساری عزت دات اور شریف خواتین بھی کام کر رہی ہیں ان کو کوئی بھی نہیں پوچھتا لیکن اس عورت جو میرا جسم میری مرضی کا پروپیگنڈا کر رہی ہے اسے ایوارڈ سے نوازا گیا ۔اس عورت کو جو کامیابیاں ملی وہ کامیابی اس کے کام بالکل بھی نہیں آئی۔ اس کی شہرت کی وجہ سے اس عورت کو ٹی وی چینلز پر بلایا جاتا تھا۔ جہاں یہ اچھے اخلاق کے ساتھ بات کرنے کے بجائے لوگوں کو کاٹنا شروع کر دیتی تھی ۔خاص طور پر اگر کوئی مولانا یا کوئی عزت دار غیرت مندشخص اس کے ساتھ بات کرتا ہے تو ان کے ساتھ یہ انتہائی بدتمیزی سے پیش آتی۔

اسلامی باتیں تو اس کو بالکل بھی پسند نہیں ۔ایک مرتبہ ایک نجی ٹیلی ویژن لایو شو میں حافظ حمداللہ کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرنے لگی۔ اس کے بعد ایک اور شو میں مفتی نعیم کے ساتھ اس نے اپنی غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے بدتمیزی اور بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد ایک اور شو میں وفاقی وزیر اور ایک اچھے سیاستدان علی محمد خان کو اپنی بد تمیز زبان سے کاٹنا شروع کر دیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ یہ عورت نہیں۔

اس کے بعد حال ہی میں جو خلیل الرحمٰن کے ساتھ ان کا واقعہ پیش آیا اس کے بارے میں تو آپ بھی جانتے ہوں گے لیکن ٹیلی فون پر ہونے کی وجہ سے وہ گالیاں زیادہ نہیں دے سکی بلکہ گالیاں کھا کر چل پڑی ۔خلیل الرحمان قمر نے جس طرح اس بدتمیز عورت کو جواب دیا ہم انہیں داد دیتے ہیں۔ ماروی سرمد کے بارے میں پاکستانی ایجنسیوں کو ہی نہیں بلکہ تمام تر لوگوں کو یہ شبہ ہے کہ یہ خاص ایجنڈے پر غیر ملکی اداروں کے لیے خاص طور پر اسلام کے دشمنوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ شاید اسی وجہ سے 2018 میں اس کے گھر پر نامعلوم افراد نے گھس کر اس کے گھر کی تلاشی لی اس کے ڈاکومنٹس، اس کے موبائل، لیپ ٹاپ اور پاسپورٹ چھین لیے گئے۔

ماروی سرمد کے بارے میں ایک اور بات بھی شوق سوشل میڈیا پر وائرل ہے کہ یہ اپنے ہی گھر کے سیکیورٹی گارڈز اور نوکروں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرتے ہوئے انتہائی نا معقول حالت میں دو مرتبہ اپنے شوہر اور محلے والوں کی جانب سے پکڑی گئی۔

خیر یہ ایک کا اپنا ذاتی معاملہ ہے مگر اس وقت خلیل الرحمان قمر کے ساتھ بدتمیزی پر اسے سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماروی سرمدی یہ تنقید برداشت کر سکتی ہے لیکن باہر سے جو فنڈ مل رہا ہے وہ بند ہو جائے وہ یہ برداشت نہیں کر سکتی۔ ماروی سرمد نے صرف میرا جسم میری مرضی کا نعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ اس نے پیسوں کے لیے ہر وہ چیز پیش کی جو اس بیچاری کے پاس ہے۔ اس کا سب سے بڑا جلال جو ہے وہ اس کا شوہر ہے جو اپنی آنکھوں سے ہر وہ چیز اپنی بیوی کے ساتھ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے جو ایک شریف انسان نہیں دیکھ سکتا اور پاکستان میں اس کے دلال وہ لوگ ہیں جو اس کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اس وقت اس کی ایک اور تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس سے بہت سارے رنگ دیئے جارہے ہیں۔

loading...

Leave a Comment