معلومات عامہ

‏چند ٹکوں کی خاطر نارمل ڈلیوری کیس کو خراب کرنے والی ڈاکٹرز یہ کتبہ ضرور پڑھیں۔

normal delivery

عورتوں میں حمل ٹھہرنے کا پتا چلنا ایک لاثانی احساس ہے، باہرچلتے پھرتے ہوئے آپ کو یوں لگ رہا ہوتا ہے، جیسے آپ اپنے اندر ایک شاندار راز چھپائے جارہے ہوں۔ جدید سماج میں ایک طرف اگر سماجی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی کاوشوں نے عورتوں اور بچوں کی شرح اموات میں خاطر خواہ کمی لائی ہے تو دوسری طرف بہت سے معاشی اور معاشرتی مسائل نے ان شرح اموات کی شرح میں کمی کے بجائے زیادہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

گزشتہ پچیس برسوں کے دوران دنیا بھر میں زچگی کے دوران اور زچگی سے متعلق طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خواتین میں شرح اموات تقریباً نصف رہ گئی ہے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے اور خواتین کے حیات بخش بھی ہے۔

اقوام متحدہ کے مختلف اداروں اور عالمی بینک کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق 1990ء اور 2015ء کے درمیان تک کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا جائے تو عالمی سطح پر زچگی کے باعث پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے نتیجے میں خواتین کی جان چلے جانے کے واقعات میں 44 فیصد کمی آ چکی ہے۔

تاہم دوسری طرف یہ بات ابھی تک باعث تشویش ہے کہ مجموعی صورت حال مقابلتاً بہتر ہو جانے کے باوجود اس سال کے دوران اب تک اسی طرح کی طبی پیچیدگیاں تین لاکھ تین ہزار سے زائد خواتین کی جان لے چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین کی موت ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ملکوں میں ہو ئی۔

برطانوی طبی تحقیقی جریدے ’دا لینسَیٹ‘ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق زچگی کے دوران پیدا ہونے والے طبی مسائل سے ماہرین کی مراد عام طور پر وہ پیچیدگیاں ہوتی ہیں، جن کا کسی بھی حاملہ خاتون کو دوران حمل یا پھر بچے کی پیدائش سے چھ ہفتے بعد تک کے عرصے کے دوران سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایسی وجوہات کی بنا پر 1990ء میں عالمی سطح پر پانچ لاکھ بتیس ہزار خواتین کی اموات ریکارڈ کی گئی تھیں، جو 2015ء میں کم ہو کر تین لاکھ تین ہزار رہ گئی تھیں۔ جنیوا سے 2015 کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اپنے تحقیقی مطالعے میں عالمی ادارہ صحت WHO نے بھی اہم کردار ادا کیاہے۔ عالمی ادارۂ صحت کی تحقیق اور طب تولیدی سے متعلقہ امور کی رابطہ کار ڈاکٹر لیل سے Lale Say نے بتایا گزشتہ ربع صدی کے دوران ان وجوہات کی بنا پر عورتوں میں شرح اموات کم کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔ اس عرصے کے دوران ایسی ہلاکتوں کی شرح میں 44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، ’’یہ پیش رفت بہت حوصلہ افزا ہے، لیکن یہ بہتری مختلف ملکوں اور خطوں میں مختلف تناسب سے دیکھنے میں آئی ہے۔ ‘‘

ماہرین کے مطابق انہی اعداد و شمار کو اگر ایک دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو 1990ء میں ہر ایک لاکھ زندہ پیدا ہونے والے بچوں کی ماؤں میں سے 385 حاملہ خواتین زچگی کے دوران یا زچگی کے چھ ہفتے کے بعد تک پیدا ہونے والے مسائل کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی تھیں۔ اب یہ تعداد کافی کم ہو چکی ہے اور ماہرین کو اندازہ ہے کہ آئندہ چند برسوں میں یہ شرح مزید کم ہو جائے گی۔

گزشتہ ڈھائی عشروں کے دوران اس حوالے سے سب سے زیادہ بہتری مشرقی ایشیائی ملکوں میں دیکھنے میں آئی، جہاں خواتین میں ہلاکتوں کی شرح 95 سے کم ہو کر 27 خواتین فی ایک لاکھ زندہ بچوں کی سطح تک آ گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے اپنے لیے یہ ہدف مقرر کر رکھا ہے کہ 2030ء تک عالمی سطح پر زچگی کے دوران خواتین میں اموات کی شرح مزید کم کر کے 70 یا اس سے بھی کم خواتین فی ایک لاکھ زندہ بچوں کی سطح تک لائی جائے۔ ہمارے یہاں عورتوں کی زچگی کے دوران اموات کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن میں خون کا بہہ جانا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ زچگی کے دوران خون کے زیادہ بہہ جانے سے ہر گھنٹے میں تین خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

علاوہ ازیں بچوں کی بہبود کیلیے کام کرنے والے بین الاقوامی امدادی ادارے ’’سیودی چلڈرن‘‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان میں پیدائش کے چوبیس گھنٹے میں ہی تین لاکھ بچے مر جاتے ہیں جو دنیا میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کا 29فیصد ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماؤں کو بچوں کی پرورش کرنے کیلیے سب سے مشکل جگہ جمہوریہ کانگو ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماں بننے کے تین بہترین ممالک میں فن لینڈ، سویڈن اور ناروے ہیں۔ فلاحی ادارے نے 176ممالک میں ماں کی صحت،بچوں کی اموات، تعلیم اور آمدنی کے تناسب سے عوام کا موازنہ کیا۔ ’’سیودی چلڈرن‘‘ کی طرف سے جاری رینکنگ میں آخری دس ممالک کا تعلق سب صحارا افریقہ سے ہے۔ جہاں اوسطاً تیس میں سے ایک عورت زچگی سے پیدا ہونے والے مسائل کی وجہ سے ہلاک ہوتی ہے اور سات میں سے ایک بچہ اپنے پانچویں سالگرہ سے پہلے مر جاتا ہے۔ جمہوریہ کانگو میں جنگ اور غربت کی وجہ سے ماؤں کی زندگی میں مشکل وقت میں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا، کم خوراک اور جسمانی کمزوری جیسے مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ ماؤں کیلیے دوسرے بد ترین ممالک میں صومالیہ،سیرا لیون، مالی،نائجر،گیمبیا، نائجیریا، چاڈ اور آئیوری کوسٹ ہیں۔ سیودی چلڈرن کے مطابق سب صحارا افریقہ میں زچہ و بچہ کے اموات کی بڑی وجہ غذا کی کمی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر سال تین لاکھ سے زیادہ بچے پیدا ہونے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی فوت ہوجاتے ہیں اور ماہرین کے مطابق اس کیلیے سیاسی عزم کی کمی اور حفظان صحت کا ناقص نظام ذمہ دار ہیں۔ ادارے کے مطابق پاکستان میں یہ تعداد ساٹھ ہزار اور بنگلہ دیش میں اٹھائیس ہزار ہے اور ان اموات کی ایک بڑی وجہ ما?ں کو مناسب خوراک کی عدم دستیابی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں اگرچہ دنیا کی صرف چوبیس فیصد آبادی رہتی ہے لیکن یہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔ ادارے کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے اندر فوت ہونے والے بچوں میں سے چالیس فیصد کا تعلق جنوب ایشیا سے ہوتا ہے کل تعداد میں سے انتیس فیصد بچے بھارت میں فوت ہوجاتے ہیں۔ ادارے کے علاقائی ڈائریکٹر کے مطابق حالات میں بہتری تو آئی ہے لیکن پھر بھی بھارت،پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہر روز ایک ہزار سے زیادہ بچے ایسی وجوہات سے فوت ہوتے ہیں جن کا تدارک ممکن ہے۔ ادارے کے مطابق ان اموات کی تین بنیادی وجوہات ہیں :زچگی کے دوران پیچیدگیاں،وقت سے پہلے بچوں کی پیدائش اور انفکیشن اور اگر ماؤں اور بچوں کو حفظان صحت کے مناسب نظام تک رسائی دستیاب ہو تو ان اموات میں پچھتر فیصد کمی کی جا سکتی ہے۔ لیکن ادارے کے مطابق سیاسی عزم کی کمی کی وجہ ہے حفظان صحت کا نظام بہتر نہیں بنایا جا سکا ہے۔ بھارت میں ہر سال زچگی کے دوران چھپن ہزار عورتوں کی موت ہورہی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ بھارت میں تقریباً آدھی زچگیاں گھر پر ہی ہوتی ہیںاور تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز کی عدم موجودگی کی وجہ سے ان میں پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ دور درواز علاقوں میں نہ تو ڈاکٹر ہوتے ہیں اور نہ ہی ہیلتھ سنٹر جس کی وجہ سے بچوں کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

چند سال پہلے آج کی طرح ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی لیکن لوگ پھر بھی بہت خوش تھے بچے اس وقت بغیر آپریشن کے پیدا ہوتے تھے کیونکہ اس وقت کی عورت زیادہ پڑھی لکھی نہ ہونے کے باوجود بھی اپنا اور اپنے بچے کی صحت کا ہر لحاظ سے خیال رکھتی تھی لیکن اس کے برعکس آج کی عورت کو دیکھیں اس کے پاس تعلیم نہ بھی ہو تو سوشل میڈیا کے ذریعے سب باتوں کی آگاہی مل جاتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ ان باتوں پر عمل پیرا نہیں کرتی جس کی وجہ سے آج کل ہر دوسرے بچے کی پیدائش ہسپتال میں آپریشن سے ہوتی ہے اور اس میں سے بھی بیس سے تیس فیصد بچے کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ حمل کے دوران عورتیں احتیاط سے کام نہیں لیتی ہیں ان میں کچھ قصور عورت کا ہے اور کچھ گھریلو لیکن ہمیں اپنی آنے والی نسل کی بھی فکر کرنی پڑتی چاہیے عورتوں کو حمل کے دوران بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے حمل کے دوران عورت کے جسم میں مختلف قسم کی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں یہ تبدیلی عام طور پر معمولی سی ہوتی ہے لیکن اگر وقت پر اس کا خیال نا رکھا گیا تو اس سے کئی قسم کے جلدی امراض پیداہوجاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ درج ذیل مزید تبدیلیاں بھی پیدا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے-

Leave a Comment