اسلامک واقعات معلومات عامہ

یہ ایک بیٹی کی طرف سے اپنی ماں کو تحفہ ھے

وہ ٹکٹکی باندھے ایک ضعیف عورت کو دیکھنے میں مگن تھی وہ خاتون خستہ حال مگر صاف ستھرے لباس میں ملبوس تھی۔ اس کے جھریوں والے چہرے پر درد کی ان کہی داستاں رقم تھی۔ اسکی آنکھیں مسلسل گریہ وزاری سے سوجی ھوئی تھیں۔ بازار کے اس پرھجوم حصے میں کھڑی وہ ہرآتے جاتے شخص سے ہاتھ جوڑ کر مدد کی درخواست کر رہی تھی لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ ھر کوئی اسے جھڑک کر آگے بڑھ جاتا۔ اسے وہاں کھڑے تین گھنٹے ہونے کو آئے تھے مگر اس کے ہاتھ ابھی تک خالی تھے۔
یہ منظر دیکھ کر اس کے ھونٹوں سے بے ساختہ ایک ٹھنڈی و شکستہ آہ نکلی تھی۔ وہ ترحم آمیز نظروں سے بوڑھی عورت کو دیکھنے لگی۔ وہ خود ایک مفلوک الحال بھکارن تھی جس کے جگہ جگہ پیوند میلے کچیلے کپڑے,الجھے گندے بال، سر پر پھٹا ہوا آنچل، پیروں میں جو تا ندارد اور ہاتھ میں سلور کا ڈینٹ پڑا کشکول جو سکوں اور نوٹوں سے بھرا ھوا تھا۔ یہ میلی کچیلی حلیے والی بھکارن ایسی درد بھری صدا لگاتی کہ لوگوں کے ہاتھ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی جیبوں میں چلے جاتے اور چند ہی سیکنڈز میں اس کا کٹورا نوٹوں سے بھرجاتا۔

بعض بھیک دے کر روانہ ھو جاتے تو کچھ رنگ باز قسم کے لوگ اس کے میلے کپڑوں میں چھپے جوان بدن کو اکھیوں ہی اکھیوں میں تاڑتے رہتے۔ پہلے پہل وہ سخت خفا ھوتی پھر آہستہ آ ہستہ وہ گندی اور ھوس بھری نظروں کی عادی ہوتی گئی۔ وہ بھکارن تھی جسم فروش نہیں۔ اسے اپنی عزت بہت پیاری تھی۔ آج اسے اس بوڑھی عورت کو دیکھ کر جانے کیوں کچھ ہوا تھا۔ اس کے قدم بےاختیار اس طرف اٹھنے لگے تھے جہاں وہ بوڑھی عورت تھک ہار کر ایک شٹر بند دکان کی سیڑھیوں پر جا بیٹھی تھی۔ وہ رنج و ملال کی تصویر بنی اپنی ہی سوچوں میں گم تھی۔
“اماں” اس پکار پر وہ چونک کر مخاطب کو دیکھنے لگی۔ جہاں اسے ایک بھکارن ہاتھ میں کشکول تھامے نظر آئی تھی۔ اس کا دل دکھ سے بھرگیا۔
“جاؤ بی بی جاؤ معاف کرو میرے پاس تمھیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ھے۔۔میں تو خود ایک سوالن ھوں”۔
یہ کہتے ہوئے وہ بڑی بی رو پڑی تھی۔ وہ بھکارن بےاختیار اس خاتون کے پیروں میں جا بیٹھی
“اماں۔ میں تم سے کچھ نہیں مانگ رہی۔میں تو وہ وجہ جاننا چاہتی ھوں جس نے تمہیں گھر کی چاردیواری سے نکال کر ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا ھے۔ کیوں ان لوگوں کے آ گے ہاتھ کرتی ہو جنہیں تمہاری بوڑھی آنکھوں میں چھپا درد اور ضرورت نظر نہیں آتی؟ کیوں اماں؟ اس عمر میں خود کو ٹھوکروں کی زد میں رکھ دیا ھے۔ اس کے لفظوں میں اتنی اپنائیت اور خلوص تھا کہ وہ ایک بار پھر سسک اٹھی۔ کچھ دیر بعد وہ یوں گویا ھوئی۔

“بٹیا۔ میں ایک غریب بیوہ ہوں میرا اس دنیا میں سوائے دو چھوٹے یتیم پوتوں کے علاوہ کوئی نہیں ھے۔ میرا ایک ہی بیٹا تھا وہ بھی ایک حادثے میں چل بسا۔ بہو کو اس کے میکے والے لے گئے اور اس کی شادی کر دی۔ بچوں کو میرے حوالے کر کے بعد میں ان کی کوئی خیر خبر نہ لی۔ میں نے اپنا اور ان یتیموں کا پیٹ پالنے کے لیے ایک کوٹھی میں صفائی ستھرائی کا کام شروع کر دیا۔ آج وہ بھی ایک معمولی سی غلطی پر چھوٹ گیا۔ ذلالت الگ بھگتی اور تنخواہ سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ بچے بھوکے ھونگے یہی سوچ کر انسانوں کے آگے میں نے ھاتھ پھیلایا۔ مگر آہ !!! میری قسمت”۔
وہ شدّت سے رونے لگی وہ اس بار تنہا نہیں روئی بلکہ وہ بھکارن بھی اس کے درد کو محسوس کر کے رونے لگی ۔اس نے بے اختیار اپنا بھیک والا کشکول اٹھایا اور اس کی گود میں رکھ دیا نہ صرف یہ بلکہ اپنے پلو سے بندھے ہزار ہزار کے تین نوٹ بھی اس کی جھولی میں ڈال دیئے.
“یہ کہہ کر اماں انکار نہ کرنا یہ بھیک نہیں ھے۔ یہ ایک بیٹی کی طرف سے اپنی ماں کو تحفہ ھے”۔
بزرگ خاتون نے بھیگی آنکھوں سے اس کے ایثار کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اس کو گلے سے لگا لیا۔ دونوں کے ہونٹوں پر آسودہ سی مسکراہٹ تھی

Leave a Comment