اسلامک واقعات

یمن کے بادشاہ شداد کا جنت کا دعوی

یمن کا ایک بادشاہ تھا شداد-اس نے کہا کہ مسلمان جنت کے طلب گار ہیں جو کہ مرنے کے بعد ملے گی تو میں تو زمین پر جنت بنا سکتا ہوں-چناچہ اس نے ایک بہت ہی خوبصورت شہر بنوایا-جہاں سونے چاندی کی سڑکیں تھیں-اور ضرورت کی ہر شے موجود تھی-جب وہ شہر مکمل ہوا تو وہ بادشاہ اس شہر کا افتتاح کرنے نکل پڑا-

جب وہ بادشاہ اس شہر کے دروازے تک پہنچا تو پہلا قدم اٹھانے سے پہلے ہی اسے موت نے آ لیا-اس کو اپنا بنایا شہر ہی دیکھنا نصیب نا ہو سکا- اللہ تعالی نے ایک دفعہ عزرائیل علیہ اسلام سے پوچھا کہ ان خو کبھی کسی کی جان لینے میں رس آیا؟ تو عزرائیل علیہ اسلام نے کہا دو دفعہ آیا تھا-جب ایک کشتی ٹوٹ گئی تھی اور ایک عورت لڑکی کے تختے کے اوپر بیٹھ گئی-وہاں کچھ لوگ بچ گئے کچھ بہہ گئے-اس عورت نے وہیں اپنے بچے کو جنم دیا تو آپ کا حکم آیا کہ اس عورت کی جان لے لو تب مجھے رحم آیا کہ اس بچے کا اب کیا ہوگا-دوسری بار جب شداد کو جان سے مارنے کا حکم تھا اس کمبخت کو اپنا بنایا شہر دیکھنے کی مہلت نا مل سکی-تو اللہ نے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ شداد کون تھا-حضرت عزرائیل علیہ السلام نے کہا نہیں-تو اللہ تعالی نے فرمایا یہ وہی بچہ تھا جس پر تم نے ترس کھایا-ہم (اللہ)نے اسے رزق دیا اور وہ ہمارے ہی خلاف ہوگیا- اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ رزق دینے والی ذات اللہ کی ہے ہمارے پاس شہرت دولت ہے تو اللہ کی وجہ سے ہے ہمارا کوئی کمال نہیں ہے-اسی لیے ہمیں اس کا شکریہ ادا کرتے رہنا چاہیے۔نا کہ غرور کرنا چاہیے-

کیونکہ جب ہم اس کی عطا کردہ نعمتوں پر غرور کرنے لگتے ہیں تو ہم گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں- جب ہماری کوئی مدد کرتا ہے یا ہم پر احسان کرتا ہے تو ہم اس کے کتنے شکر گزار ہوتے ہیں ان کی کتنی عزت کرنے لگتے ہیں-تو اللہ تعالی تو سب سے زیادہ حق دار ہے کہ اس کا شکر کیا جائے-شکر کیسے کیا جاتا ہے؟صرف منہ سے کہنا کافی نہیں ہوتا ہمیں اپنے اعمال سے ثابت کر کے دکھانا ہے کہ ہم واقعی شکر گزار ہیں اس کی عبادت کر کے اس کی شکر گزاری کریں-

Leave a Comment