اسلامک وظائف

یا مالک یا قدوس 33بار پڑھنے کے فائدے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “ہلکے پھلکے لوگ آگے نکل گئے”، صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا “یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ لوگ کون ہیں”، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “جو ذکر الہٰی میں ڈوبے ہوئے ہیں ،ذکر ان پر سے گناہوں کے بوجھ اتار دیتا ہے لہٰذا وہ قیامت کے دن ہلکے پھلکے ہو کر حاضر ہوں گے”۔( بحوالہ جامع ترمذی شریف)

جو شخص انگلیوں پر اللہ کا ذکر کرتا ہے کل روز قیامت یہ انگلیاں انسان کو جنت میں داخل کروا کر رہیں گی۔ اللہ کے دو نام “المالک “اور” القدوس” کا مطلب، اس کے معنی اور اس کے پڑھنے کے فضائل، اس کی برکات اور اس کے فوائد کے بارے میں آپ کو آج تفصیل سے آگاہ کریں گے۔ اللہ کا ذکرزنگ آلود دل کے لیے آبِ رحمت ہے۔ ذکر اللہ بےچین دل کا چین ہے۔ اللہ کا ذکر ہمارے اصلی وطن کا خط ہے، جیسے مسافر کو پردیس میں اپنے وطن کی طرف سے آنے والے خط سے قرار ملتا ہے اسی طرح اللہ کا ذکر کرنے سے دل و روح کو اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ رب کا ذکر مصائب و آلام کو ٹالتا ہے، اسی لئے ہر مصیبت اور تکلیف میں رب کو یاد کرنے کا حکم ہے، اس کے ناموں کے ساتھ اس کی مدد مانگنے کا حکم ہے۔ آج اللہ پاک کے انہی ناموں میں سے دو نام المک اور القدوس کے ہیں جن کو پڑھنے کے بے شمار فوائد اور برکات ہیں ۔ان کو پڑھنے کے ایسے معجزات ہیں کہ آپ تصور بھی نہیں کرسکتے ۔سب سے پہلے تو آپ المالک اور القدوس کے مطلب جان لیں کہ اللہ کے ناموں کے معنی اور اس کا مطلب کیا ہے،

اس سے آپ کو ان کا ذکر کرنے میں بھی آسانی ہوگی ان شاء اللہ۔”المالک ” کا مطلب ہے “حقیقی بادشاہ”۔ حقیقی بادشاہ تو صرف ایک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا” بدترین نام اللہ کے نزدیک اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے ،حقیقی بادشاہ اللہ کے سوا کوئی نہیں “۔ایک اور حدیث میں ہے کہ” اللہ تعالیٰ زمین کو قبضے میں لے لے گا اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے، پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں کہاں گئے زمین کے بادشاہ ؟کہاں ہے تکبر والے؟”۔ قرآن مجید میں ہے” کس کی ہے آج بادشاہی فقط اللہ اکیلے غلبے والے کی”۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں وارد ہے کہ اللہ سب سے مغبوض ترین نام شہنشاہ ہے، اس لئے اپنے بچوں کا یہ نام نہ رکھو کیونکہ اگر کوئی ذات شہنشاہ ہے تو وہ ذات باری تعالیٰ اللہ تعالیٰ بادشاہوں کا بادشاہ ہے،اصلی شہنشاہ بھی وہی ہے دنیا کے عارضی بادشاہ کیسے شہنشاہ ہو سکتے ہیں؟ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے کا واقعہ ہے۔ حضرت عیسی علیہ السلام اپنے شاگردوں کے ساتھ کہیں جا رہے تھے راستے میں ایک درخت کے نیچے اشرفیاں اور تین آدمی مرے ہوئے دیکھے۔

آپ نے فرمایا” دیکھو دنیا اپنی جگہ موجود ہے لیکن ان کے عاشق مرے پڑے ہیں “۔سکندر اعظم کی آخری وقت کی عقلمندی دیکھیے کہ اس نے اپنے لوگوں کو ہدایت کی تھی کہ مرنے کے بعد میرے ہاتھ کفن سے باہر نکال دینا تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ پوری دنیا کو فتح کرنے والا سکندر آج خالی ہاتھ جا رہا ہے حالانکہ یہی سکندر اعظم تھا جو دنیا کے اقتدار کو پانے کے لیے یونان سے ٹیکسلا تک مار کاٹ کر ہوا آیا اور راستے کی بستیوں کو تخت و تاراج کرتا رہا۔بعد میں اسی مرزِاقتدار اور مالک گین نے اس کے ساتھ نپولین اور ہٹلر نے دنیا کی ایک سے اینٹ بجادی۔ آج بھی یہی مالک یت اور ملوکیت کی بیماری بڑی طاقتوں کو نیچے نہیں بیٹھنے دیتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقتدار پسندوں کی خدا سے محاذ آرائی کا جو سلسلہ دراز ہو رہا ہے وہ ان کی تباہی و بربادی پر جا کر ختم ہوگا ۔اس کا طریقہ مالک حقیقی کے پاس یہ ہے کہ وہ ایک ظالم کو دوسرے ظالم پر مسلط کرکے دونوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے اور یہی ہو کر رہے گا کیونکہ مالک ارض و سما کا یہی قانون ہے ۔”القدوس” کا مطلب ہے “نہایت مقدس اور پاک ذات”۔

جو صرف ایک اللہ ہی کی ذات ہے ،جو نہایت مقدس اور پاک ذات ہے ۔وہ کمال و جمال اور جلال کی صفات کا حامل ہے، ہر عیب اور کمی سے پاک ہے، اس جیسی کوئی چیز نہیں اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے، اس کے کمال سے اعلیٰ کوئی کمال نہیں ہے اور نہ کوئی اس کے اسماء و صفات کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ قدوس ہے۔یا مالک یا قدوس کے مطلب سمجھنا ہمارے لیے بہت ضروری تھا اور اسی طرح اس کے وظائف ذکر کے بارے میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ “یا مالک اور یاقدّوسُ” کو صبح و شام یا دن میں کسی وقت چلتے پھرتے 33 بار پڑھنے سے ہمیں کیا فائدے حاصل ہوتے ہیں؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے ۔جس وقت رات کا ابتدائی حصہ گزر جاتا ہے فرماتا ہے” میں بادشاہ ہوں کون ہے جو مجھ سے دعا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں ، کون ہے جو مجھ سے سوال کرے اور میں اس کو عطا کر وں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت مانگے اور میں اسے معاف کر دوں

“۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح فرماتا رہتا ہے یہاں تک کہ صبح روشن ہو جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جس میں آپ یا مالک یا قدوس کو جب سب نیند میں سو رہے ہوں اس وقت آپ اپنی نیند کو قربان کردیں اور ہاتھ میں تسبیح اٹھا کر سو بار یا مالک یا قدوس پڑھیں ، پھر اللہ سے دعا کریں اور خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے صبح بعد میں ہوگی پہلے آپ کی حاجت پوری ہوگی۔جو شخص نماز کے بعد یا مالک یا قدوس 33بار پڑھے گا تو ہمیشہ کے لیے بلڈ پریشر ،شوگر ،بواسیر اور کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اگر کسی کو ایسی بیماری ہو جو سارا سال علاج کروانے پر بھی ختم نہ ہوتی ہو تو اس کو چاہیے کہ اللہ کی ذات پر مکمل یقین رکھ کر کہ بیماری اس کی جانب سے آتی ہے اور وہی ذات ہے جو بیماری کو دور کرتی ہے ، وہ بارش کے ایک گلاس پانی پر ایک ہزار بار یا مالک یا قدوس کو پڑھ کر دم کردے اور اس پانی کو اس مریض کو دے دے جس کی بیماری ختم نہ ہوتی ہو۔انشاءاللہ آپ خود دیکھیں گے جیسے ہی وہ پانی پینا شروع کر دے گا اس کی بیماری ختم ہونا شروع ہو جائے گی۔ حقیقت سے اس کا ایک واقعہ بھی جوڑا ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے جن کا نام مدثر ہے ان کو ایک ایسا مرض لاحق ہوگیا

جس کا علاج انہوں نے مالک بھر کے کافی ہسپتالوں سے کروایا مگر ان کو آرام محسوس نہ ہوا تو ان کو ہم نے یہ عمل کرنے کا کہا۔ تو آپ یقین مانیے کہ جیسے ہی انہوں نے یہ عمل کیا تو اللہ پاک نے ان کو اس بیماری سے نجات عطا فرمائی۔ اگر کسی پر فریفتہ جادو ہو یا نظر بد کا مسئلہ ہو اس کو چاہیے کہ وہ یامالک یاقدّوسُ کو 33 بار پڑھ کر سرخ مرچوں پر دم کرے اور ان مرچوں کو جس پر جادو کی شکایت ہو اس کے سر پر چار بار پھیر لے۔ پھر ان مرچوں کو ایک ایک کرکے کسی کھلی جگہ پر جلا ڈالے انشاءاللہ آپ دیکھیں گے کہ جلد ہی جادواورنظر ِ بد اسی وقت ختم ہو جائے گا۔ یا مالک (اے بادشاہ )روزانہ ایک سو مرتبہ پڑھنے سے صفائی ِ قلب حاصل ہوگی، دل میں نور پیدا ہو گا۔

Leave a Comment