اسلامک معلومات اسلامک واقعات

یاجوج ماجوج کون تھے؟ کیا یاجوج ماجوج ابھی بھی وجود رکھتے ہیں؟

ذوالقرنین کا اصل نام کسی کو نہیں پتا-ذوالقرنین کے نام کے دو مطلب نکلتے ہیں پہلا ” دو سنگوں والا”-دوسرا اس کا عربی ترجمہ “صدی” بھی ہے-بعض مفسرین کا کہنا کہ ان کے بالوں کا زاویہ اس طرح ہوتا تھا کہ دو سینگ لگتے تھے شاید اسی لیے دوسنگوں والا کہا گیا ہے اور بعص کہتے ہیں کہ یہ دو صدی تک جیے ہونگے-ذوالقرنین نے اپنی زندگی میں تین بڑے سفر کیے ہیں-ان کا جو آخری سفر تھا وہ ایک ایسی بستی میں تھا جہاں کے لوگ مختلف زبان بولتے تھے-جب ذوالقرنین اس بستی میں پہنچے تو بستی والوں نے انہیں اشارے میں سمجھایا کہ اس بستی میں ایسے بندے آتے ہیں جو فساد برپا کر دیتے ہے اور ان کی ہر چیز تہس نہس کر کے رکھ دیتے ہیں-انہوں نے ذوالقرنین سے مدد طلب کی اور ان کو معاوضہ دینے کی بھی یقین دہانی کروائی لیکن ذوالقرنین نے معاوضہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ اللہ کو راضی کرنے کے لیے یہ کام کریں گے-لیکن انہوں نے ان سے جسمانی طور پر مدد مانگی جس پر وہ سب راضی ہوگئے-

پھر ذوالقرنین نے ایک مضبوط دیوار بنانے کا فیصلہ کیا-انہوں نے بستی والوں کو سب سے پہلے لوہا لانے کا کہا جب وہ لے ائے تو اس کے بعد دہکتی آگ منگوائی گئی اور اس کے بعد پگھلا تانبہ منگوایا گیا-ان چیزوں کی مدد سے انہوں نے ایک ایسی دیوار تعمیر کی جس پر یاجوج ماجوج نا تو کود کر آسکتے تھے اور نا ہی اس میں کسی قسم کا سوراخ کر سکتے تھے-

دیوار بنانے کے بعد انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا بلکہ انہوں نے یہ باور کروایا کہ اس دیوار بنانے کی توفیق ان کو اللہ تعالی نے دی ہے اور یہ بھی بتایا کہ یہ دیوار ایک نا ایک دن گرا دی جائے گی-یاجوج ماجوج آج بھی موجود ہیں ہاں ہم نہیں جانتے کہاں وہ پوشیدہ ہیں لیکن موجود ہیں-یاجوج ماجوج کا آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے-

Leave a Comment