اسلامک معلومات

ہمارے پیارے آقا ﷺ کی چند نصحتیں

ہمارے پیارے آقا ﷺ کی چند نصحتیں

ہمارے پیارے آقا ﷺ کی چند نصحتیں

ہمارے پیارے آقا ﷺ نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا، میں تم کو وصیت کرتا ہوں اللہ کے تقویٰ کی کیونکہ تقوی تمہارے سارے کاموں کوٰ بہت زیادہ آراستہ کرنے والا اور سنوارنے والا ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اور وصیت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ کے ذکر کو لازم پکڑ لو۔

کیونکہ یہ تلاوت اور ذکر ذریعہ ہوگا۔  آسمان میں تمہارے ذکر کا اور اس زمین میں نور ہوگا تمہارے لیے۔

خاموش رہنے اور کم بولنے کی عادت ڈال

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ میں نے پھر عرض کیا ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مزید نصیحت کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ زیادہ خاموش رہنے اور کم بولنے کی عادت ڈال لو۔  کیونکہ یہ عادت شیطان کو بھگانے والی اور دین کے معاملے میں تمہیں مدد دینے والی ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا مجھے مزید نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ ہسننا چھوڑ دو۔ کیونکہ یہ عادت دل کو مردہ کردیتی ہے اور آدمی کے چہرے کا نور اس کی وجہ سے جاتا رہتا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضرت مزید نصیحت فرمائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمیشہ حق اور سچی بات کہو، اگرچہ لوگوں کے لیے، ناخوشگوار اور کڑوی ہو

ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کرو

میں نے عرض کیا اور نصیحت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہ کرو ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزید نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جو کچھ اپنے نفس اور ذات کے بارے میں جانتے ہو، چائیے کہ وہ تم کو باز رکھے دوسروں کے عیبوں کے پیچھے پڑنے سے۔ (شعب الایمان للبیہقی ۔ معارف الحدیث)۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا

اور اس میں درخواست کی کہ آپ مجھے کچھ نصیحت اور وصیت فرمائیں لیکن بات مختصر اور جامع ہو۔ بہت زیادہ نہ ہو تو حضرت ام المومنین نے ان کو یہ مختصر سا خط لکھا:- سلام ہو تم پر۔ اتا بعد! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے جو کوئی اللہ کو راضی کرنا چاہے لوگوں کو اپنے سے سے خفاء کرکے۔ تو اللہ مستغنی کردے گا اس کو لوگوں کی فکر اور بربادی سے خود اس کے لئے کافی ہوگا۔ اور جو کوئی اللہ کو ناراض کرکے بندوں کو راضی کرنا چاہے گا تو اللہ اس کو لوگوں کے سپرد کردے گا۔ واسلام (جامع ترمذی ۔ معارف الحدیث)

Leave a Comment