قصص الانبیا ء

گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا سبب ایک خاص عمل…آپ بھی جانیں

درود شریف پڑھنے کے فضائل تو بے شمار ہیں جن کے بیان کیلئے زندگی کافی نہیں۔ آپ جتنی نمازیں پڑھ لیںج روزے رکھ لیں، حج زکوٰ تمام نیک اعمال و احکامات جو ہم کر رہے ہیں وہ سب ہم اللہ تبارک وتعالیٰ کیلئے کر رہے ہیں یہ تمام اعمال بھی اللہ تعالیٰ قبول فرمانے والا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف بھیجنا ایک ایسا عمل ہے جو صرف ہونٹ ہلانے سے بھی قبول ہو جاتا ہے۔

یہ ایک ایسا ذکر ہے جو کبھی رد نہیں ہوتا ،اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوتا ہے ۔باقی جو بھی عبادات کی جاتی ہیں ان کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مقبول ہے کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے کہ تم ایک نیکی کرتے ہو تو ہم تمہیں اس کا 10 گنا اجر دیتے ہیں تو درود شریف پڑھنا تو ایک نیکی ہے اوراس سے بڑی نیکی کیا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر 10 رحمتیں نازل فرمائے گا۔”( صحیح مسلم و بخاری)۔درود شریف دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ ہم جو بھی دعا اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں تو اس سے دعا قبول ہوتی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے۔دعا اس وقت تک زمین اور آسمان کے درمیان معلق رہتی ہے جب تک اس کے ساتھ درود شریف نہ ہو( ترمذی) ۔یہ ادب بھی ہے اور دعاؤں کی مقبولیت کا ذریعہ بھی۔حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شریک تھے ۔

میں دعا کیلئے بیٹھا تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا اور پھر اپنے لئے دعا کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” اس طرح اللہ سے مانگو گے تو دیئے جاؤ گے۔”( صحیح مسلم صحیح بخاری)۔یہی اصل طریقہ ہے دعا مانگنے کا۔ اس طرح دعائیں رد نہیں ہوتیں اور اللہ کی10 رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ آپ نے فرمایا :”جب تک کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس وقت تک اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی10 رحمتیں نازل ہوتی ہیں وہاں فرشتے بھی دعائے رحمت شروع کردیتے ہیں۔”( ترمذی)۔اب یہ ہم پرانحصار ہے کہ ہم درود شریف کتنا کم اور کتنا زیادہ پڑھیں

Leave a Comment