اسلامک معلومات

گناہوں میں افضل گناہ جہالت ھے۔

اسلام سے قبل ایران کے ایک بزرگ مفکّر کے پاس ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ھوا آیا اور کہنے لگا: میری ماں کاھن کے کہنے پر عظیم بُت کے قدموں پر میری چھوٹی، معصوم سی بہن کو قربان کر رہی ہے۔ آپ مہربانی کر کے اُس کی جان بچا لیں۔”بزرگ لڑکے کے ساتھ فوراً وہاں پہنچے اور کیا دیکھتے ہیں کہ عورت نے بچی کے ھاتھ پاؤں رسیوں سے جکڑ لیے ھیں اور چھری ھاتھ میں پکڑے آنکھ بند کئے کچھ پڑھ رھی ھے، بہت سے لوگ اُس عورت کے گرد جمع ہیں اور بُت خانے کا کاھن بڑے فخر سے بُت کے قریب ایک بڑے پتّھر پر بیٹھا یہ سب دیکھ رھا ہے۔
بزرگ عورت کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ اُسے اپنی بیٹی سے بے پناہ محبّت ھے اور وہ بار بار اُس کو گلے لگا کر والہانہ چوم رھی ھے۔ مگر اِس کے باوجود کاھن کے بُت اور اُس کی خوشنودی کے لئے اُس کی قربانی بھی دینا چاھتی ھے۔بزرگ نے اُس سے پوچھا کہ وہ کیوں اپنی بیٹی کو قربان کر رھی ھے۔ عورت نے جواب دیا: “کاھن نے مجھے ھدایت کی ھے کہ میں بُت کی خوشنودی کے لئے اپنی عزیز ترین ھستی کو قربان کر دوں تا کہ میری زندگی کی مشکلات ھمیشہ کے لئے ختم ھو جائیں۔”بزرگ نے مسکرا کر کہا: “مگر یہ بچّی تمہاری عزیز ترین ھستی تو نہیں ھے؟ تمہاری جو ھستی سب سے زیادہ عزیز ھے وہ تو پتّھر پر بیٹھا یہ کاھن ھے کہ جس کے کہنے پر تم ایک پھول سی معصوم بچّی کی جان لینے پر تُل گئی ھو۔ یہ بُت احمق نہیں ھے، وہ تمہاری عزیز ترین ھستی کی قربانی چاھتا ھے۔ تم نے اگر کاھن کی بجائے غلطی سے اپنی بیٹی قربان کر دی تو یہ نہ ھو کہ بُت تم سے مزید خفا ھو جائے اور تمہاری زندگی کو جہنّم بنا دے۔”
عورت نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بچّی کے ھاتھ پاؤں کھولے اور چھری ھاتھ میں لے کر کاھن کی طرف دوڑی۔ مگر وہ پہلے ھی وھاں سے جا چکا تھا۔ کہتے ھیں کہ اُس دن کے بعد وہ کاھن اُس علاقے میں پھر کبھی نظر نہیں آیا۔
دنیا میں صرف آگاھی کو فضیلت حاصل ھے۔اور گناہوں میں افضل گناہ جہالت ھے۔

Leave a Comment