اسلامک معلومات

کیا عورت فتنہ ہے___؟؟؟؟

کیا عورت فتنہ ہے___؟؟؟؟اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے بعد مردوں کے لئے عورتوں کے فتنہ سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے ۔(بخاری و مسلم)▪️بہت سی خواتین اس حدیث کی غلط تشریح پر بدظن ہو جاتی ہیں ہونا بنتا بھی ہے کیونکہ عورت کو فتنہ کہا ہی کچھ اس طرح سے جاتا ہے ……… حدیث کی طرف جانے سے پہلے دو باتیں قابلِ غور ہیں __!!! پہلی……!!! عربی اور اردو میں فتنہ کے مطلب میں بہت فرق ھ عربی میی فتنہ “آزمائش” کو کہتے ہیں ……..

جبکہ اردو میں اسکا مطلب “فسادی ” “جھگڑالو”یا “کینہ پروری” کے زمرے میں آتا ہے__! اور ہمارے ہاں عورت کے لیے لفظ فتنہ “فساد” سے منسوب کر کے ہی بولا جاتا ہےدوسری بات………!!! آزمائش دو طرح سے ہوتی اچھائی اور برائی سے……… بری چیز (بیماری، دشمن وغیرہ) اور اچھی چیز (نعمت جیسے اولاد، دولت، بیوی جیسا کہ اس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے)جو لفظ فتنہ، عورت(محرم) ، دولت اور اولاد کے لیے استعمال ہوا ہے وہ اچھی چیز کے معنوں میں ہی آئے گا……… مگر ہم دولت کو فتنہ کسی اور طرح سے سمجھتے ہیں – – – – – – اولاد کو کسی اور نظر سے فتنہ کہتے ہیں – – – – – اور عورت کو تو بالکل مختلف پہلو میں فتنہ بولتے ہیں(اور اس لفظ عورت میں محرم اور نامحرم دونوں کو ایک ہی طرح سے فتنہ گردانتے ہیں) – – – – – – ہمارے یہ معیار ہماری منافقت کے عکاس ہیں……….. اور ایسا علم، عقل اور شعور کی کمی کے باعث ہے……… اب آتے ہیں حدیث کی طرف اس میں عورتوں کو براہِ راست فتنہ نہیں کہا گیا… بلکہ نا محرم عورتوں کو مردوں کیلئے فتنہ کہا گیا ہے……….
اور اس حدیث میں عورت کو’ فتنہ‘ آزمائش کے معنیٰ میں ہی کہا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ مرد کو آزمایا جاتا ہے اور اس کا امتحان لیا جاتا ہے___اللہ تعالیٰ نے مرد و زن کی فطرت میں ایک دوسرے کی جانب میلان اور محبت کا جذبہ رکھا ہے۔

یہ میلان فطری ہے۔ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی جانب میلان رکھتا ہے۔ لیکن عورت کے اندر کشش زیادہ ہوتی ہے اور مرد اس کی طرف زیادہ مائل ہوتا ہے۔ اس میلان کی وجہ سے بسا اوقات مرد حرام کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے، عبادت اور خیر کے کاموں سے رو گردانی کرنے لگتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے رسول ﷺ نے مرد کو ہوشیار کیا ہے کہ عورتوں سے شدت تعلق کی بنا پر آزمائش میں نہ پڑیں اور اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہ ہوں۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حدیث میں عورت کے لیے ’فتنہ‘ کاجو لفظ وارد ہوا ہے اس سے قطعاً اس کی حقارت و ذلت، نقص و عیب، اس کے وقار کو مجروح کرنا اور اس کی قدر گھٹانا مراد نہیں ہے،

بلکہ اسلام میں عورت کا ممتاز اور قابل لحاظ مقام و مرتبہ ہے۔ یہ حدیث بیان کر رہی ہے کہ عورتیں مردوں کے لیے سب سے سخت اور دشوار امتحان ہیں۔ اس لیے کہ ان میں مردوں کے لیے کشش پائی جاتی ہے اور ان کی محبت میں وہ بعض اوقات غلط کام کر بیٹھتے ہیں۔ چنانچہ مردوں کو اس سے ڈرایا گیا ہے اور انھیں متنبہ کیا گیا ہےایک روایت حضرت سعید بن جبیرؒ سے مروی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے ایک مرتبہ مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہاری شادی ہوگئی ہے؟ میں نے نفی میں جواب دیا تو انھوں نے فرمایا: شادی کر لو، کیوں کہ اس امت کے نیک لوگوں کی اکثریت عورتوں کی ہے۔ اس سے تو معلوم ہورہا ہے کہ عورتوں کا وجود باعث خیر و صلاح ہے، نہ کہ وہ شر اورگناہ کا موجب ہے____اور اسلام میں تو دنیا کی بہترین متاع نیک عورت کو گردانا گیا ہے……… مرد کیلئے وہی عورت صحیح ہے جو اس کی منکوحہ ہے… باقی سب اس کیلئے فتنے کے ضمن میں ہی آئینگی… وہ سب جو نامحرم ہیں… چاہے وہ کتنی ہی نیک اور اچھی کیوں نہ ہوں……. ایک اور بات اسلام میں صرف مردوں کو ہی عورت کی آزمائش سے آگاہ نہیں کیا گیا عورتوں کو بھی مردوں کے فتنے سے آگاہ کیا گیا ہے .

عورتوں کی بابت تو حدیث میں مذکور ہے جبکہ مردوں کے بارے قرآن میں بیان ہے___اور یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ قرآن کو حدیث پر فوقیت بہرحال حاصل ہے………… ایسے مردوں کو “سورۃ الاحزاب” میں کہا گیا ہے کہ انکے دلوں میں مرض ہوتا ہے……. اور عورتوں کو ان سے ہوشیار رہنا چاہیے…!!!!آخر میں ایک ضروری بات صديوں سے ان احادیث کو بہانہ بنا کر ہمارے مرد عورت کو پابند سلاسل کرتے آئے ہیں، پھر بھی فتنہ ختم نہیں ہوا. مولوی حضرات سے گزارش ہے کہ کچھ عرصہ قرآن پاک کی دوسری آیت جس میں مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کی تلقین کی گئی ہے، اس پر بھی عمل کروایا جائے شاید اس سے کچھ افاقہ ہو __

ہمارے گھروں میں بھی شروع سے بچیوں کو تو پردے کی تلقین کی جاتی ہے، لیکن بچوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ تمھیں رب کریم نے نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے

Leave a Comment