اسلامک معلومات

کیا صرف برقع پہن لینا کافی ہے یا دل میں شرم و حیا بھی ہو؟

کیا صرف برقع پہن لینا کافی ہے یا دل میں شرم و حیا بھی ہو؟اور اگر ضروری حوائج کے لئے اسے گھر سے باہر قدم رکھنا پڑے تو اسے حکم دیا گیا کہ وہ ایسی بڑی چادر اوڑھ کر باہر نکلے جس سے پورا بدن سر سے پاؤں تک ڈھک جائے !قرآن کریم میں ارشاد ہے یٰٓأَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ ِلّأَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُوٴْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْھِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِھِنَّ (سورہ احزاب آیت نمبر 69)

ترجمہ : اے نبی ! اپنی بیویوں ، صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ جب باہر نکلیں تو اپنے اُوپر بڑی چادریں جھکا لیا کریں !
مطلب یہ کہ ان کو بڑی چادر میں لپٹ کر نکلنا چاہئے اور چہرے پر چادر کا گھونگھٹ ہونا چاہئے پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد آنحضرت ﷺ کے مقدس دور میں خواتین اسلام کا یہی معمول تھا !ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا ارشاد ہے کہ خواتین آنحضرت ﷺ کی اقتدا میں نماز کے لئے مسجد آتی تھیں تو اپنی چادروں میں اس طرح لپٹی ہوئی ہوتی تھیں کہ پہچانی نہیں جاتی تھیں !مسجد میں حاضری اور آنحضرت ﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھنے اور آپ ﷺ کے ارشادات سننے کی ان کو ممانعت نہیں تھی لیکن آنحضرت ﷺ عورتوں کو بھی یہ تلقین فرماتے تھے کہ ان کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ان کے لئے بہتر ہے ! (ابوداؤد شریف ؛ مشکوٰة شریف صفحہ 96)آنحضرت ﷺ کی دقت نظر اور خواتین کی عزت و حرمت کا اندازہ کیجئے کہ مسجد نبوی ﷺ جس میں ادا کی گئی ایک نماز پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے آنحضرت ﷺ خواتین کے لئے اس کے بجائے اپنے گھر پر نماز پڑھنے کو افضل اور بہتر فرماتے ہیں اور پھر آنحضرت ﷺ کی اقتدا میں جو نماز ادا کی جائے اس کا مقابلہ تو شاید پوری امت کی نمازیں بھی نہ کرسکیں لیکن آنحضرت ﷺ اپنی اقتدا میں نماز پڑھنے کے بجائے عورتوں کے لئے اپنے گھر پر تنہا نماز پڑھنے کو افضل قرار دیتے ہیں، یہ ہے شرم و حیا اور عفت و عظمت کا وہ بلند ترین مقام جو آنحضرت ﷺ نے خواتین اسلام کو عطا کیا تھا اور جو بدقسمتی سے تہذیب جدید کے بازار میں آج ٹکے سیر بک رہا ہے !

مسجد اور گھر کے درمیان تو پھر بھی فاصلہ ہوتا ہے آنحضرت ﷺ نے اسلام کے قانون ستر کا یہاں تک لحاظ کیا ہے کہ عورت کے اپنے مکان کے حصوں کو تقسیم کر کے فرمایا کہ فلاں حصے میں اس کا نماز پڑھنا فلاں حصے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے !
حدیث شریف کا مہفوم ہے عن عبدالله عن النبی ﷺ قال : صلٰوة المرأة فی بیتھا افضل من صلٰوتھا فی حجرتھا، وصلٰوتھا فی مخدعھا افضل من صلٰوتھا فی بیتھا (ابوداؤد شریف جلد 1 صفحہ 84)
ترجمہ : حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عورت کی سب سے افضل نماز وہ ہے جو اپنے گھر کی چار دیواری میں ادا کرے اور اس کا اپنے مکان کے کمرے میں نماز ادا کرنا اپنے صحن میں نماز پڑھنے سے افضل ہے اور پچھلے کمرے میں نماز پڑھنا آگے کے کمرے میں نماز پڑھنے سے افضل ہے !
بہرحال ارشاد نبوی ﷺ یہ ہے کہ عورت حتی الوسع گھر سے باہر نہ جائے اور اگر جانا پڑے تو بڑی چادر میں اس طرح لپٹ کر جائے کہ پہچانی تک نہ جائے چونکہ بڑی چادروں کا بار بار سنبھالنا مشکل تھا اس لئے شرفاء کے گھرانوں میں چادر کے بجائے برقع کا رواج ہوا یہ مقصد ڈھیلے ڈھالے قسم کے دیسی برقع سے حاصل ہوسکتا تھا مگر شیطان نے اس کو فیشن کی بھٹی میں رنگ کر نسوانی نمائش کا ایک ذریعہ بنا ڈالا، میری بہت سی بہنیں ایسے برقعے پہنتی ہیں جن میں ستر سے زیادہ ان کی نمائش نمایاں ہوتی ہے !

عورت گھر سے باہر نکلے تو اسے صرف یہی تاکید نہیں کی گئی کہ چادر یا برقع اوڑھ کر نکلے بلکہ گوہر نایاب شرم و حیا کو محفوظ رکھنے کے لئے مزید ہدایات بھی دی گئیں، مثلاً : مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنی نظریں نیچی اور اپنی عصمت کے پھول کو نظر بد کی باد سموم سے محفوظ رکھیں !
قرآن کریم میں ارشاد ہے قُلْ لِّلْمُوٴْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ، اِنَّ اللهَ خَبِیْرٌم بِمَا یَصْنَعُوْنَ (سورہ النور آیت نمبر 30 ، 31)
ترجمہ : اے نبی ! مومنوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزگی کی بات ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے خبردار ہے !
وَقُلْ لِّلْمُوٴْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَا ظَھَرَ مِنْھَا
ترجمہ : اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کا اظہار نہ کریں مگر یہ کہ مجبوری سے خود کھل جائے․․․․ الخ

ایک ہدایت یہ دی گئی ہے کہ عورتیں اس طرح نہ چلیں جس سے ان کی مخفی زینت کا اظہار نامحرموں کے لئے باعثِ کشش ہو !
قرآن کی مندرجہ بالا آیت کے آخر میں فرمایا ہے وَلَا یَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِھِنَّ
ترجمہ : اور اپنا پاؤں اس طرح نہ رکھیں کہ جس سے ان کی مخفی زینت ظاہر ہو جائے !
ایک ہدایت یہ دی گئی ہے کہ اگر اچانک کسی نامحرم پر نظر پڑجائے تو اسے فوراً ہٹالے اور دوبارہ قصداً دیکھنے کی کوشش نہ کرے !
حضرت بریدہؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے آنحضرت ﷺ نے فرمایا اے علی ! اچانک نظر کے بعد دوبارہ نظر مت کرو پہلی تو بے اختیار ہونے کی وجہ سے تمہیں معاف ہے مگر دوسری کا گناہ ہوگا ! (مسند احمد ؛ دارمی ؛ ترمذی شریف ؛ ابوداؤد شریف ؛ مشکوٰة شریف)
واٰخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين

Leave a Comment