اسلامک معلومات

کیا حیا دین سے ہے ؟

ایاس بن معاویہ بن قرۃ المزنی اپنے والد سے وہ ان کے دادا قرۃ المزنی سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاس حیا کا تذکرہ چل پڑا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا حیا دین سے ہے ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک حیا، پاکدامنی، بے بسی (عدم قدرت)، زبان کی بے بسی نہ کہ دل کی بے بسی، اور فقہ (سمجھ بوجھ) ایمان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان سے دنیا میں کمی اور آخرت میں اضافہ ہوتا ہے اور آخرت کا اضافہ دنیا کے نقصان سے بہت زیادہ ہے۔ اسی طرح بخیلی، فحش اور بدکلامی نفاق سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ چیزیں آخرت کا نقصان کرتی ہیں اور دنیا میں کچھ اضافہ کرتی ہیں اور آخرت کا نقصان دنیا کے فائدہ سے بہت زیادہ ہے۔

ایاس نے کہا میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی۔ انہوں نے مجھے حکم دیا تو میں نے یہ حدیث انہیں املا کروائی پھر انہوں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھا۔ پھر ہمیں ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی تو وہ ان کی آستین میں تھا انہوں نے اسے رکھا تک نہیں۔

Leave a Comment