اسلامک معلومات

کیا آپ نے تاریخ کے سب سے دلیر ترین جاسوس کے بارے میں سن رکھا ہے؟؟؟؟

کیا آپ نے تاریخ کے سب سے دلیر ترین جاسوس کے بارے میں سن رکھا ہے؟ ایک انسان کبھی جو کبھی مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح دجال تھا نام آخر میں جان لیں گے آپ اسدی مشہور تھا ”بنو اسد“ قبیلے کا باشندہ تھا جو کہ خیبر کے نواح میں آباد تھا یہ شخص مدینہ منورہ میں نبی پاک رسول اللہ ﷺ کے پاس مسجد نبوی میں آیا اسلام قبول کیا اور کچھ عرصہ رہ کر واپس اپنے قبیلے چلا گیا عہد رسالت میں ہی مرتد ہوکر سمیرا نامی مقام پر مقیم ہوگیا اور وہیں اس نے ”جھوٹا دعوی نبوت“ کیا تھوڑے ہی دنوں میں بے شمار لوگ اس کے حلقہ میں داخل ہوگئے.

اس کذاب نے اپنی شریعت کا خیمہ چند جھوٹوں کے سر پر رکھا اپنی نئی اور جھوٹی شریعت لوگوں کے سامنے اس شکل میں پیش کی کہ ”نماز میں صرف قیام ہے، رکوع وسجود کے متعلق کہا کرتا تھا خدائے بے نیاز تمہارے مونہوں کے خاک پر رگڑنے سے مستغنی ہے معبود برحق کو کھڑے ہوکر ہی یاد کر لینا کافی ہے کہا کرتا تھا جبریل امین ہر وقت میری مصاحبت میں رہتے ہیں اور وزیر کی حیثیت سے تمام کام سرانجام دینے میں مجھے مشورہ دیتے ہیں اس کی (معاذاللہ) امام الانبیاء سید المرسلین ﷺ کو اس کی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت اس نے اپنے چچا زاد جس کا نام حیال اسدی تھا کو ہادی اعظم محمد مصطفی ﷺ کی طرف مدینہ منورہ میں اپنی نبوت کی دعوت کے لیے بھیجا اس نے مدینہ پہنچ کر صورت حال معلوم کر کے معاذ اللہ استغفر اللہ حضور پر نور شافعی محشر احمد مجتبی ﷺ کو اس کذاب کی نبوت پر ایمان لانے کی دعوت دی آپ ﷺ کا جواب سن کر حیال کہنے لگا کیا آپ اس شخص کو جھوٹا خیال کرتے ہیں جس کو لاکھوں لوگ اپنا ہادی بر حق تسلیم کر چکے ہیں آنحضرت ﷺ اس گستاخی پر ناخوش و برہم ہوئے اور فرمایا ”خدا تمہیں ہلاک کرے اور تمہارا خاتمہ بالخیر نہ ہو“ چنانچہ پیغمبر خدا ﷺ کی دعا قبول ہوئی

حیال کفر کی حالت میں ہی مردار ہوا الغرض آپ ﷺ نے کذاب اور اس کی متبعین کی سرکوبی کے لیے حضرت ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ (تاریخ اسلام کا وہ ببر شیر جس کو آتا دیکھ رومی کہتے تھے ” جن آ گیا جن آ گیا”) کی قیادت میں قبائل کے لوگوں کا لشکر بھیجا اور بعد میں صحابہ (ابو عکاشہ بن حصین و ثابت بن ارقم اور کمانڈر خالد بن ولید) کی کمک پہنچتی رہی حیال نے بھی مدینہ منورہ سمیت کئی علاقوں پر چڑائی کی بالآخر لشکر اسلام سیف اللہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ”بزاخہ“ نامی مقام ہر پہنچا جہاں دجال وقت مقیم تھا. لشکر اسلام میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بھی تھے جنگ سے قبل حضرت عدی نے اپنے قبیلہ بنی طے کو دعوت اسلام دی اور اسلام میں لوٹ آنے کی پیش کش کی اور لشکر اسلام کی ہیبت ان کے سامنے بیان کی جس سے بنی طے سبھی دوبارہ مسلمان ہوگئےاسی طرح حضرت عدی کی دعوت سے قبیلہ جذیلہ بھی حلقہ بگوش اسلام ہوگیا اور ان دونوں قبیلوں کے ہزاروں لوگ لشکر اسلام میں شامل ہوکر کذاب نبی کے خلاف جہاد کے لیے نکلے. کذاب نبی سے معرکہ اور اس کے بھائی عیال کی ہلاکت کمانڈر جنرل خالد بن ولید نے حضرت عکاشہ اور حضرت ثابت بن ارقم کو کچھ فوج دے کر کذاب نبی کی طرف روانہ فرمایا کذاب نبی نے اپنے بھائی حیال کو بھیجا

دوران جھڑپ ایک ہی وار میں حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ نے حیال کا کام تمام کر دیا جب کذاب کو یہ خبر پہنچی تو وہ خود اپنے بھائی سلمہ کے ساتھ مقابلے کے لیے نکلا اور مقابلہ میں کذاب نے حضرت عکاشہ کو اور سلمہ نے حضرت ثابت کو شہید کر دیا اور پھر یہ دونوں واپس اپنی جگہ پر لوٹ گئے حضرت عکاشہ اور حضرت ثابت رضی اللہ عنہما کی شہادت سے مسلمانوں کو بڑا دکھ ہوا.یہاں تک تو مسلمان مرتدین اور دجال کے ساتھیوں کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے مگر بعد ازاں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے لشکر اسلام کی کمانڈ سنبھالتے ہوئے دشمنان رسالت پر ایسے تابڑ توڑ حملے کیے اور اس جانفشانی سے لڑے کہ دشمن کی بولتی بند کر دی اور دشمن گھبرا کر بھاگ کھڑا ہوا بہت سے بڑے بڑے لوگ گرفتار ہوگئے جبکہ کذاب فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے شام کے علاقہ میں قبیلہ کلب میں اقامت اختیار کر لی اس جنگ میں قبیلہ غنیم کا کوئی آدمی قید نہ ہوا کیونکہ یہ لوگ سب کے سب پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے اور پسپائی کے بعد قبیلہ بنو اسد اور غطفان بھی مسلمان ہوگئے

پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں وہ شخص بھی مسلمان ہوگیا اور شام سے حج کے لیے آیا اور آکر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی چنانچہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ اب کی بار اس شخص نے سچی توبہ کی اور جہاد کے مختلف معرکوں میں دادِ شجاعت دی معافی مانگنے پر جب امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا تھا ” میں تمہیں معاف کرتا ہوں مگر تمہاری گردن پر جو عکاشہ اور حارث کا خون ہے اس کا کیا؟ تو آگے سے وہ گویا ہوے جیسے اللہ کی مرضی دونوں صحابی جو میری وجہ سے جنت میں چلے گئے اور میں ان کی وجہ سے گمراہی کے سخت اندھیروں سے باہر نکل چکا ہوں امید کرتا ہوں دونوں کل قیامت کے دن مجھے معاف کر دیں گے وہ جنگ قادسیہ میں شریک ہوا اور اصحابِ تاریخ کا کہنا ہے کہ جلولاء کے مقام پر مسلمانوں کی فوج کی پیش قدمی اس کی بہادری اور جرأت کی مرہون منت تھی بلکہ بعض مؤرخین لکھتے ہیں کہ اسدیؓ نے نہاوند کی جنگ میں مجاہدانہ کردار ادا کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا.

جس کی مختصر روداد آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی للہ عنہ نے 7 افراد لشکر فارس کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کیلئے بھیجے اور انھیں حکم دیا کہ اگر ممکن ہو سکے تو اس لشکر کے کم از کم ایک آدمی کو گرفتار کر کے لے آئیں…!!یہ ساتوں آدمی ابھی نکلے ہی تھے کہ اچانک انھوں نے دشمن کے لشکر کو سامنے پایا.جبکہ ان کا گمان یہ تھا کہ لشکر ابھی دور ہے انھوں نے آپس میں مشورہ کر کے واپس پلٹنے کا فیصلہ کیا مگر ان میں سے ایک آدمی نے امیر لشکر سعد کی جانب سے ذمہ لگائی گئی مہم کو سرانجام دئیے بغیر واپس لوٹنے سے انکار کر دیا اور یہ چھ افراد مسلمانوں کے لشکر کی جانب واپس لوٹ آئے جبکہ ہمارا یہ مارخور اپنی مہم کی ادائیگی کیلئے فارسیوں کے لشکر کی جانب تنہا بڑھتا چلاگیا!! انھوں نے لشکر کے گرد ایک چکر لگایا اور اور اندر داخل ہونے کیلئے پانی کے نالوں کا انتخاب کیا اورا س میں سے گزرتے ہوئے فارسی لشکر کے ہراول دستوں تک جاپہنچے جو کہ 40 ہزار لڑاکوں پر مشتمل تھا!! پھر وہاں سے لشکر کے قلب سے گذرتے ہوئے یک سفید خیمے کے سامنے جاپہنچے جس کے سامنے ایک بہترین گھوڑا بندھا کھڑا تھا انہوں نے جان لیا کہ یہ دشمن کے سپہ سالار رستم کا خیمہ ہے!! چنانچہ یہ اپنی جگہ پر انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ رات گہری ہو گئی رات کا کافی حصہ چھا جانے پر

یہ خیمہ کی جانب گئے اور تلوار کے ذریعے خیمہ کی رسیوں کو کاٹ ڈالا جس کی وجہ سے خیمہ رستم اور خیمہ میں موجود افراد پر گر پڑا رستم کے گھوڑے کی رسی کاٹی اور گھوڑے پر سوار ہو کر نکل پڑے اس سے ان کا مقصد فارسیوں کی تضحیک اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کا خوف اور رعب پیدا کرنا تھا!! گھوڑا لے کر جب فرار ہوئے تو گھڑ سواروں کے ایک دستے نے ان کا پیچھا کیا جب یہ دستہ قریب آتا تو یہ گھوڑے کو ایڑ لگا دیتے اور جب دور ہو جاتا تو اپنی رفتار کم کر لیتے تاکہ وہ ان کے ساتھ آملیں کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ان میں سے ایک کو دھوکے سے کھینچ کر اپنے کمانڈر ان چیف سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے حکم کے مطابق لے جائے!! چنانچہ 3 سواروں کے علاوہ کوئی بھی ان کا پیچھا نہ کر سکا .. انھوں نے ان میں سے دو کو قتل کیا اور تیسرے کو گرفتار کرلیا…! یہ سب کچھ تن تنہا انجام دیا!! قیدی کو پکڑا نیزہ اس کی کمر کے ساتھ لگایا اور اسے اپنے آگے ہانکتے ہوئے مسلمانوں کے معسکر (جنگی کیمپ) جا پہنچے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کیا فارسی کہنے لگا: مجھے جان کی امان دو میں تم سے سچ بولوں گا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہنے لگے: تجھے امان دی جاتی ہے اور ہم وعدے کی پاسداری کرنے والی قوم ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ ہمارے ساتھ جھوٹ مت بولنا.. پھر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں اپنی فوج کے بارے میں بتاؤ ..فارسی انتہائی دہشناک اور ہذیان کی کیفیت میں کہنے لگا :اپنے لشکر کے بارے میں تو میں بعد میں بتاؤں گا

پہلے میں تمہیں تمہارے آدمی کے بارے میں بتلاتاہوں !!!! کہنے لگا : یہ آدمی ہم نے اس جیسا شخص آج تک نہیں دیکھا ، میں ہوش سنبھالتے ہی جنگوں میں پلا بڑھا ہوں اس آدمی نے دو فوجی چھاؤنیوں کو عبور کیا جنہیں بڑی فوج بھی عبور نہ کر سکتی تھی پھر سالار لشکر رستم زمان کا خیمہ کاٹا اس کا گھوڑا بھگا کر لے اڑا گھڑ سوار دستے نے اس کا پیچھا کیا جن میں سے محض 3 ہی اس کی گرد کو پا سکے ان میں سے ایک مارا گیا جسے ہم ایک ہزار کے برابر سمجھتے تھے پھر دوسرا مارا گیا جو ہمارے نزدیک ایک ہزار افراد پر بھاری سمجھتے تھے اور دونوں میرے چچا کے بیٹے تھے میں نے اس کا پیچھا جاری رکھا اور ان دونوں مقتولین کے انتقام کی آگ سے میرا سینہ دھک رہا تھا میرے علم میں فارس کا کوئی ایسا شخص نہیں جو قوت میں میرا مقابلہ کر سکے اور جب میں اس سے ٹکرایا تو موت کو اپنے سر پر منڈلاتے پایا چنانچہ میں نے امان طلب کر کے قیدی بننا قبول کر لیا اگر تمہارے پاس اس جیسے اور افراد ہیں تو تمہیں کوئی ہزیمت سے دوچار نہیں کر سکتا!!!” پھر اس فارسی نے اسلام قبول کر لیا کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ عظیم مارخور کون تھے؟ جنہوں نے لشکر فارس کو دہشت زدہ کیا ، ان کے سالار کو رسوا کیا اور ان کی صفوں میں نقب لگا کر واپس آگئے اور ان جیسے اور بھی بہت سارے تھے

خاص طور پر (ننگے بدن والا اور جن) القاب سے رومیوں میں جانے جانے والے ضرار بن الأزور اسلام کے دو عظیم سپاہ سالار ابو عبیدہ بن جراح جو اس وقت چیف آف آرمی سٹاف تھے اور اور خالد بن الوليد جو بعد کے چیف آف آرمی سٹاف تھے اور مارخور کے سب سے نڈر اور اپنے دور کے بہترین جاسوس جن کی داستان آپ نے پڑھی یہ طلیحہ بن خویلد الاسدی رحمت اللہ تعالیٰ علیہ تھے اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں کے لیے صحیح راستہ وہی ہے جو حضرت طلیحہ بن خویلد اسدیؓ نے اختیار کیا تھا۔ مغربی ممالک کی پشت پناہی زیادہ دیر تک قادیانیوں کے کام نہیں آئے گی اور انہیں بہرحال اپنے لیے یکسوئی کا کوئی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ آخر کب تک وہ امریکہ اور مغربی ممالک کے سہارے اپنے آپ کو زندہ رکھ سکیں گے؟دوستوں کے ساتھ شیئر کیجیے اور پیارے رسول اکرم ﷺ پر بے شمار درود پڑھا کیجیے

Leave a Comment