اسلامک معلومات

کیا آپ مصارف زکوۃ سے باخبر ہیں؟آیئے جانتے ہیں

کیا آپ مصارف زکوۃ سے باخبر ہیں؟آیئے جانتے ہیں

مصارف زکوۃ

مصارف زکوۃ سے مراد زکوٰۃ کے مستحق افراد ہے ۔ان کی تعداد آٹھ ہے سورۃ توبہ میں مصارف زکوۃ کی تفصیل بیان کر دی گئی ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے صدقات یعنی زکوۃ تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے۔ ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے ۔غلاموں کے آزاد کرانے اور قرض ۔داروں کے قرض ادا کرنے میں اور اللہ کی راہ میں مسافروں کی مدد میں بھی یہ مال خرچ کرنا چاہیے

 

زکوۃ کے معاشرتی فوائد

معاشرتی لحاظ سے زکوۃ کے بہت سے فوائد ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں ۔زکوٰۃ کی ادائیگی سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے  وہ بڑھتا ہے۔ زکوۃ کے ذریعے امیر لوگوں کے دلوں میں غریب لوگوں کے لیے ہمدردی پیدا ہوتی ہے ۔اسی طرح غریب کے دلوں میں امیروں کے لیے احترام بڑھتا ہے ۔جس سےباہمی محبت پیدا ہوتی ہے زکوۃ کی رقم سے قومی بہبود کی فلاحی کام مکمل ہوتے ہی زکات کی ادائیگی سے دلوں میں مال کا لالچ اور محبت کم ہو جاتی ہے ۔اس کی جگہ اللہ تعالی کے بندوں کی محبت پیدا ہو جاتی ہے ۔

غربت و افلاس کا خاتمہ

زکوۃ کے نظام سے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات اور محروم لوگوں کے دلوں کے اندر احساس محرومی ختم ہو جاتی ہے ۔ وہ خود کو معاشرے کا اہم فرض سمجھنے لگتے ہیں۔ زکوٰۃ کے ذریعے معاشرے سے غربت و افلاس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے ۔زکوۃ کی وجہ سے نئے نئے مسلمان ہونے کی ہونے والے گھرانے زیادہ اعتماد اور اطمینان کے ساتھ اسلامی تعلیمات کو سمجھنے لگتے ہیں ۔اسلام نے زکوۃ کی بدولت ایک سنہری معاشی نظام دیا ہے ۔اسی نظام کی بدولت افراد معاشرے میں خوشحالی اور بہتر روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں۔

معاشی نظام کی بہتری

دولت چند ہاتھوں میں سمٹنے کی بجائے معاشرے کے ہر فرد کے پاس جاتی ہے ۔معاشی نظام کی بہتری کی وجہ سے ملک و ملت کے لوگوں کو باغ میں سکون اور اطمینان ۔نصیب ہوتا ہے ۔کیا آپ مصارف زکوۃ سے باخبر ہیں ؟اسلامی نظام پر عمل کرنے سے استحصالی قوتوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور قومی اصلاحی اس تشکیل پاتی ہے

Leave a Comment