معلومات عامہ

کیا آپ حقوق العباد کی ادائیگی کر پاتے ہیں؟

کیا آپ حقوق العباد کی ادائیگی کر پاتے ہیں؟

کیا آپ حقوق العباد کی ادائیگی کر پاتے ہیں؟

حقوق العباد
حقوق حق کی جمع ہے .عباد عبد کی جمع ہے جس کے معنی بندہ کے حقوق العباد سے مراد بندوں کے وہ حقوق ہیں. جن کا ادا کرنا فرض ہے. ان میں والدین اولاد پر روسی رشتہ دار مہمان مریض مسافر اور خادم وغیرہ شامل ہیں. اسلام نے حقوق العباد کی ادائیگی پر بہت زور دیا ہے. اللہ تعالی اپنے حقوق تو معاف فرما دے گا .

بندوں کے حقوق کو جب تک حقدار معاف نہیں کریں گے .اللہ تعالیٰ بھی معاف نہیں کریں گے
رشتے داروں کے حقوق
ہمارا دین ہمیں رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کرتا ہے. اگر رشتہ داروں مالی لحاظ سے کمزور ہو تو ان کی مالی مدد کرنا بیمار ہوجائیں. تو ان کی عیادت کرنا غم اور خوشی کے موقع پر ان کا ساتھ دینا . ان کے دیگر ضرورتوں کا خیال رکھنا اور رشتہ داروں کے حقوق ہیں. اللہ تعالی نے رشتہ داروں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے .اللہ تعالی کا ارشاد ہے اور رشتہداروں کو ان کا حق دو رشتہ داری جوڑنے سے اللہ تعالی انسان کے جسم میں فراخی اور وسعت پیدا کر دیتا ہے .

عمر میں بے انتہا برکت

اس کا خیال رکھنے والے کی عمر میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے
جسے داری اور صلہ رحمی اختیار کرنے والوں کے رزق اور عمر میں بے انتہا برکت اور اضافہ ہوتا ہے اور کتاب رحمی کرنے والے کا رزق کم ہو جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .کہ جس کو یہ پسند ہو کہ اس کی روزی میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو.اس کو چاہیے کسی رحمی کرے. تا صلی اللہ علیہ وسلم نے رونے سے منع کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے تعلق توڑنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا .

بہترین عملی نمونہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک زندگی قیامت تک امت کے لئے بہترین عملی نمونہ ہے. رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قرابت داروں کے ساتھ حسن سلوک فرماتے .ان کی خبرگیری فرماتے ان کی مالی مدد کرتے ان کے کام آتے ہیں. عورتوں کا خیال رکھتے روایت ہے. کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضاعی بہن حضرت شیما رضی اللہ تعالی عنہ ملنے آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے ہو جاتے ہیں . انہیں اس پر بٹھاتے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف ان سے باتیں کرتے اپنا کام مبارک انہی کی طرف کئے رکھتے .جب جانے لگے تو سواری پر سوار ہونے میں مدد کرتے توفیق دے کر رخصت کرتے اور دور تک چھوڑنے جاتے.

Leave a Comment