قصص الانبیا ء

کیا آزمائش گناہوں کا کفارہ ہو سکتی ہے؟ اللہ ہمیں کیوں آزماتے ہیں؟

جب للہ تعالی ہمیں کسی مصیبت یا پریشانی میں ڈالتے ہیں تو ہم بہت سے شکوے شکایات کرنے لگتے ہیں-اللہ تعالی اصل میں ہمیں آزماتے ہیں ہمیں مشکل میں کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اس لیے ہی کہ دیکھا جائے مومن مایوس ہوتا ہے یا اس چیز کو پا لیتا ہے جس وجہ سے اسے آزمایا گیا-لیکن جب ہمیں کوئی مشکل یا تکلیف آتی ہے تو ہم رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں شکوے کرنے لگتے یہ نہیں دیکھتے کہ اگر اس نے مشکل میں ڈالا بھی ہے تو اس کے بدلے میں وہ ہمارے پچھلے گناہ جھڑ دیتا ہے-آزمائش یا تکلیف جتنی بڑی ہوگی اتنے گناہ جڑھ دیے جائین گے-اور ویسے بھی انسان دکھ میں زیادہ سیکھتا ہے-خوشی ہمیں اتنا کچھ نہیں سکھاتی جتنا دکھ سکا دیتے ہیں-کبھی کبھی اللہ ہمیں اسی لیے بھی تکلیف میں ڈالتے ہیں تاکہ ہمیں زندگی کت اصل رنگ دکھائے جائیں اور یہ بتایا جائے کہ انسان کا اصل مالک کون ہے-جب ہم کسہ بڑی مشکل میں پھنستے ہیں تو اپنے پرائے کا پتا چل جاتا ہے-

کیونکہ خوشیوں میں تو ہر کوئی ساتھ دیتا ہے لیکن دکھ میں بہت کم لوگ ساتھ دیتے ہیں-اور پھر آخری ذات آپ کے پاس اللہ تعالی کی ہی رہ جاتی ہے-صرف وہی ذات ہے جو دکھوں میں بھی ہمیں نوازتی رہتی ہے-لیکن اللہ تکلیف میں بھی ہمیں چھوڑ کر نہیں جاتے-وہ ہمیشہ ہمارے قریب ہی ہوتے ہیں بس پکارنے کی بات ہے-اس لیے جب بھی ہمیں کوئہ تکلیف یا مشکل آئے تو شکوے شکایت کر کے اپنا ایمان نا کمزور کریں بلکہ دعا کریں اور شکر ادا کریں کہ دکھ کہ بدلے میں بھی وہ ہمارے گناہ جھڑ رہا ہے حالانکہ ہم اس کے بلکل بھی قابل نہیں-

Leave a Comment