قصص الانبیا ء

کھڑے ہوکر نہانے والوں خبردار ہوجاؤ

کھڑے ہوکر نہانا جائز ہے ۔ یہ اسلام نے کھڑے ہوکرنہانے سے منع فرمایا ہے۔پہلے زمانوں میں وہ سہولیات میسر نہیں تھیں۔ جو آج ہم کو آسانی سے میسر ہیں۔ ہردور کے علماء کو وقت کے تقاضے مطابق عوام الناس اور اُمت مسلمہ کی رہنمائی کا بیڑہ اُٹھانا پڑتا ہے ۔ حضرت محمدﷺ اس حدیث کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اختلاف میری اُمت کیلئے رحمت ہے ۔ اختلاف اُمت کیلئے آسانی پیدا کردیتا ہے اور ایک بند راستے کی بجائے بہت سے راستے کھول دیتا ہے ۔

یہ اختلاف صحابہ کرام ؓ کے دور میں بھی رہا اور بہت سے صحابہ بھی آپس میں کئی معاملات میں اختلاف کرتے رہے ایک اہم مسئلہ جرابیں پہن کر پاؤں کا مساح کرنا ہے ۔بہت سے صحابہ کرام موذوں پر پاؤں کا مساح کرنے کو جائز قرار دیتے تھے ۔ جبکہ جرابوں پر مساح کرنے کو بہتر نہیں سمجھتے تھے ۔ بہت سے صحابہ کرام جرابوں پر بھی پاؤں کا مساح کرلیتے تھے ۔ اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو اجازت دے رکھی تھی کہ وہ مسجد میں نماز ادا کرسکتی ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے بھی اپنے دور خلاف عورتوں کو مسجد میں نماز ادا کرنے سے نہیں روکا ۔ لیکن حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے دور خلافت میں عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیا ۔ حضرت عائشہ ؓ اس امر کی تاعید کرتی رہیں آج حضرت محمد ﷺ حیات ہوتے تو وہ بھی عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیتے ۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ جو کہ حضرت عمر ؓ کے صاحبزادے تھے اپنے والد سے اختلاف کرتے رہے اور استدلال کرتے رہے جب آپﷺ نے عورتوں کو مسجد میں آنے کی اجازت کی دے رکھی تو ہم ان کو کیوں روکیں۔ نہ صرف علماء اور صحابہ کرام ؓ کا بھی آپس میں مختلف معاملات میں اختلاف ہوتا رہا ۔ ہردور کی ضروریات کے مطابق قرآن وسنت کی حدود کے اندر رہتے ہوئے ۔ علماء کرام اُمت کو نئے مسائل کے حوالے سے آگاہی فراہم کرتے رہے ۔ احکام الٰہی کی روشنی میں دور جدید میں بھی اُمت کو رہنمائی فراہم کرتے آرہے ہیں۔

آج کے دور میں بھی جہاں سائنس نے بہت ترقی کی ہے وہاں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جس کے بارے میں علماء کرام سے رہنمائی مانگی جاتی ہے ۔ پہلے وقتوں میں شاور جیسی سہولت نہیں تھی ۔ اسی لیے ٹپ کا استعمال کرتے ہوئے بیٹھ کر نہایا جاتا تھا ۔ اور غسل کرتے وقت بیٹھ کر غسل کرنے کو ہی احسن قرار دیا گیا ہے بہت سے لوگ سوا ل اُٹھاتے ہیں کھرے ہوکر نہانے سے غسل کے فرائض پورے ہوجاتے ہیں۔ غسل کرتے وقت سطرکا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ اس میں کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر غسل کرنے پر بحث ہی نہیں کی گئی اور نہ ہی کہیں کھڑے ہوکر غسل کرنے سے روکا گیا ہے جس طرح انسان کو آسانی ہو وہ اسطرح غسل کرسکتا ہے بیٹھ کر کرے یا کھڑے ہوکر غسل کرتے وقت سطر کا خیال رکھا جائے ۔

بیٹھ کر سطر آسان رہتا ہے اسی لیے بیٹھ کر غسل کرنے کو افضل سمجھا جاتا ےہے ۔لیکن اس میں زبردستی ہرگز شامل نہیں ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ حضورﷺ کے طریقہ غسل کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔ کہ آپ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر استنجا کرتے ، اسکے بعد مکمل وضو فرماتے ۔ پھرپانی لے کر سرپر ڈالتے اور انگلیوں کی مدد سے بالو ں کی جڑوں تک پہنچاتے ۔ پھر جب دیکھتے کہ سر صاف ہوگیا ہے تو تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے ، پھر پورے بدن پانی بہاتے اور آخر میں پاؤں دھوتے ۔ اسلام ہمیشہ اُمت کیلئے آسانی پیدا کرنے والا مذہب رہا ہے ۔ آپﷺ نے بھی ہمیشہ انسانیت کو آسانیاں فراہم کرنے پر زور دیا کیسے ہوسکتا ہے کہ اسلام کے کسی حکم کیوجہ سے کسی بھی مسلمان کو پریشانی یا مشکل لاحق ہو۔

Leave a Comment