اسلامک واقعات اسلامک وظائف

کھجوروں کے بدلے جنت

ایک دفعہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو جنگ میں شرکت کیلئے ابھار رہے تھے کے اسی دوران ایک صحابی کھجور کھا رہے تھے اور کھاتے ہوئے انہوں نے سوال کیا یا رسول للہ مجھے جنگ میں شرکت کرنے پر کیا ملے گا تو آپصلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا “جنت” صحابی نے فورا کھجوریں وہی چھوڑی اور جنگ کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے اور شہادت ان کے نصیب ہوئی.

اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے کے صحابہ (رضہ) ہمیشہ نیکی کرنے کی طاق میں رہتے تھے اور کوئی بھی موقعہ رائیگاں نہیں جانے دیتے تھے ان سب میں نیکی کرنے کی حرص ہی اتنی زیادہ تھی کہ وہ اپنا کھانا تک ترک کر دیتے تھے اور ہم ہیں جنہیں نیکی کرنے کے ہزاروں موقع ملتے ہیں لیکن ہمارے پاس آج وقت ہی نہیں ہے ہم اس قدر اپنے رب سے دور ہوتے جا رہیے ہیں کہ نفلی نمازیں تو دور فرض نمازیں پوری طرح ادا نہیں ہوتی. ہم اس قدر مصروف ہوگئے ہیں کہ نماز کو آخری ترجیح پر لے جاتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ پہلے باقی کام نمٹا لیتے ہیں پھر نماز پڑہیں گیں اور یہی چیز ہمیں اللہ تعالی سے دور لے جاتی اور دنیا کی بے جا مصروفیات کی وجہ دے ہم نیکی کی راہ سے بھی بھٹک جاتے ہیں. ہم اپنی زندگی میں دنیاوی کاموں کو اول ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے دین سے دور ہوتے جا رہے ہیں. صحابہ کی اس بات سے ہی ظاہر ہوتا ہے کے ان میں نیکی کی حرص اس انتہا تک تھی کہ انہوں نے جنت کی چاہ میں کھجور وہی چھوڑ دی اور یہی چیز ان کیلئے جنت میں جانے کا باعث بنی. ہم تو اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہہ کی خاک کی بھی برابری نہیں کرسکتے پر کوشش سے تو انسان کو سب کچھ مل جاتا ہے

ہمیں چاہیے کے نیکی کرنے کا چھوٹے سے چھوٹا موقعہ بھی ہاتھ سے نہ جانے دیں کیا پتا اللہ تعالی کو ہمارا کوئی چھوٹا سا عمل پسند آجائے اور ہم جنت کے حقدار ٹہرا دیئے جائیں. ہمیں بس اپنی دنیاوی زندگی سے زیادہ آخرت پر دھیان دینا ہے اور اسے سنوارنا ہے کیونکہ اصل کامیابی تو وہی ہے جس سے ہماری آخرت سنور جائے اور ہم اپنے رب کے پسندیدہ بندوں میں سے ہو جائیں.

Leave a Comment