قصص الانبیا ء

کلیجی اور حضرت محمدﷺ

کلیجی اور حضرت محمدﷺ

محترم دوستو آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ کلیجی کے بارے میں شریعت اسلامی کیا کہتی ہے۔ آیا کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ کلیجی کھایا کرتے تھے یا نہیں۔ کیا انہوں نے کلیجی کے بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو کھانے کی ترغیب دی یا نہیں۔ آئیے ہم آپ کو سرور کائنات حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں کلیجی کے بارے میں بتاتے ہیں۔ کہ جس چیز میں اتنے زیادہ فوائد ہیں آیا کہ وہ حلال ہے یا نہیں ؟

کیا ہمارے نبی کریم حضرت ﷺ کلیجی کا استعمال کیا کرتے تھے؟

تو میرے دوستو ابن ماجہ کی حدیث میں کلیجی کے بارے میں یہ ارشاد گرامی ملتا ہے۔ روایت ہے کہ۔ حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لئے دو مردے اور دو خون حلال کیے گئے۔ دو مردے تو مچھلی اور ٹینڈے ہیں۔ اور دو خون، کلیجی اور تِلی ہے۔ یعنی دونوں جانور بغیر ذبح حلال ہیں کیونکہ ان میں بختہ خون نہیں۔ اور ذبح کرنا اسی کو اللہ کے نام پر نکال دینے کے لئے ہوتا ہے۔

جب وہ چیزیں ان میں نہیں تو ان کا زبح بھی نہیں۔ خیال رہے کہ مچھلی بہت اقسام کی ہے اور ہر ۔قسم کی مچھلی حلال ہے۔ مگر ذبح خانہ درست ہے۔ بعض مچھلیوں میں خون نکلتا معلوم ہوتا ہے مگر وہ خون نہیں ہوتا۔ بلکہ سرخ پانی ہوتا ہے اس لئے دھوپ میں سفید ہو جاتا ہے۔ خون کی طرح نہ سیاہ پڑتا ہے اور نہ جمتا ہے۔

کلیجی اور حضرت محمدﷺضعیف روایت

ایک اور ضعیف روایت ہے جس میں یہ ذکر ملتا ہے کہ۔ سب سے پہلے کلیجی کھانا سنت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول تھا کہ۔ نماز عیدالاضحی سے فارغ ہونے کے بعد اپنے دست مبارک سے قربانی کے جانور کو ذبح فرماتے۔ اور کلیجی پکانے کا حکم دیتے۔ جب وہ تیار ہو جاتی تو اسے تناول فرماتے۔ قربانی کرنے والے کے لیے یہ سنت ہے کہ قربانی کے گوشت میں سے سب سے پہلے کلیجی کھائی جائے۔ کہ اس میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت اور نیک شگون ہے۔ کیونکہ اہل جنت کو جنت میں سب سے پہلے اس مچھلی کی ۔کلیجی کھلائی جائے گی۔

کلیجی کھانا سنت

تو اس لیے میرے دوستو ہم آپ سے یہ گذارش کرتے ہیں کہ کلیجی کا استعمال ضرور کیا کریں اس کا کھانا سنت ہے اور میڈیکل کے لحاظ سے اس کا کھانا صحت کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے۔

Leave a Comment