اسلامک معلومات

کعبہ کے ہر دلعزیز امام عبد الرحمن السدیس کی زندگی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔ عصر حاضر میں ایسی شخصیات بہت کم ہوں گی، جنہیں عالم اسلام میں نہایت محبت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس انہی خوش قسمت شخصیات میں سے ایک ہیں، جنہیں عالم اسلام میں نہایت اعلیٰ اور ممتاز مقام حاصل ہے، بلا مبالغہ دنیا میں کروڑوں مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے ان کی اقتدا میں نماز ادا کی ہے،

خطبات جمعہ میں حاضر ہوئے ہیں، اور ختم قرآن کے موقع پر شریک ہوئے ہیں۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس سعودی عرب میں صوبہ قصیم کے علاقہ بکیریہ میں ۱۳۸۲ھ مطابق ۱۰ فروری۱۹۶۰ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کا نام عبد الرحمن بن عبد اللہ بن محمد ہیں، آپ کی کنیت: ابو عبد العزیزہیں۔آپ نےتعلیم کا آغاز ریاض کے ایک ادارہ جمعیۃ تحفیظ القرآن الکریم سے ہوا، اور بارہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس بچپن ہی سے نہایت ذہین اور فطین تھے، حافظہ بلا کا تیز تھا، والدین نے بھی اپنے ہونہار بچے کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی، متعدد نامور علماء اور قراء نے ان پر خوب محنت کی، تکمیل حفظ کے بعد ابتدائی تعلیم ریاض کے ایک مدرسہ مثنی بن حارثہ میں حاصل کی۔پھر آپ کا داخلہ ریاض کے المعہد العلمی میں ہو گیا، یہاں آپ نے اسلام کے بنیادی علوم حاصل کئے، اور ۱۹۷۹ء میں امتیازی نمبرات کے ساتھ یہاں سے فراغت حاصل کی۔مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے آپ نے کلیۃ الشریعہ میں داخلہ لیا، جہاں آپ نے اس وقت کے اہم علماء سے خوب خوب استفادہ کیا، اور ۱۹۸۳ء میں یہاں سے تعلیم مکمل کی۔ریاض کی بڑی بڑی مساجد میں بہت سے علمی حلقے قائم ہیں، جس دور میں فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس طالب علم تھے، شیخ علامہ عبد العزیز بن باز کا دیرہ کی مسجد میں علمی حلقہ معروف تھا، ریاض و اطراف سے طلباء آتے اور تفسیر، حدیث و فقہ کے علوم کو حاصل کر کے اپنے دلوں کو نور علم سے منور کرتے، فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے ان علمی حلقوں سے خوب استفادہ کیا، جن دیگر اساتذہ سے انہوں نے فیض حاصل کیا، ان میں علامہ عبد الرزاق عفیفی، ڈاکٹر صالح الفوزان، شیخ عبد الرحمن البراک اور شیخ عبد العزیز الراجحی جیسی شخصیات شامل ہیں۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کے علم میں بتدریج پختگی آتی چلی گئی، خطابت ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، انہوں نے ریاض کی بڑی بڑی مساجد میں خطبہ جمعہ دینا شروع کیا، پھر وہ ریاض کی ایک بڑی مشہور و معروف مسجد، جو ان کے استاد شیخ عبد الرزاق عفیفی کے نام سے موسوم تھی، بطور خطیب متعین کئے گئے، ساتھ ساتھ وہ کلیۃ الشریعہ، ریاض میں تدریس کے فرائض بھی انجام دینے لگے۔امامت و خطابت کے ساتھ آپ نے تعلیم وتدریس کو بھی جاری رکھا، اور ریاض کی امام سعود یونیورسٹی سے ۱۴۰۸ھ میں فقہ اسلامی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔اس کے بعد انہوں نے جامعہ ام القری کے قسم القضاء (لاء کالج) میں طلبہ کو پڑھانا شروع کیا، اس دوران پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی لکھتے رہے، اور ۱۹۹۶ء میں امتیازی حیثیت سے فقہ اسلامی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری جامعہ ام القری مکہ مکرمہ سے حاصل کی۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کو ۱۹۸۴ء میں مسجد حرام کا امام اور خطیب مقر ر کیا گیا، اس وقت سے اب تک اس عہدۂ جلیلہ پر فائز ہیں، اس دوران ہر سال انھیں رمضان المبارک میں تراویح پڑھانے کا موقع ملا، دیگر ائمۂ حرمین اور بطور خاص فضیلۃالشیخ سعود الشریم کے ساتھ نہ جانے کتنی بار قرآن مجید حرم شریف میں سنایا ہے، حرم مکی میں آپ کی امامت کا آغاز ۲۲ شعبان ۱۴۰۴ ہجری مطابق ۲۳ مئی ۱۹۸۴ء سے ہوا، جہاں آپ نے سب سے پہلے عصر کی نماز کی امامت کی،اور اسی سال رمضان میں آپ نے حرم مکی میں پہلا جمعہ کا خطبہ بھی دیا۔

اللہ کی طرف سے ان کو اور ایک اعزاز یہ بخشا گیا کہ ۱۴۱۶ھ میں بیت اللہ شریف کے صحن میں مغرب بعد درس وتدریس کے لئے انھیں بطور مدرس مقر ر کیا گیا، جہاں پر وہ دنیا بھر سے آئے ہوئے حجاج کے سامنے عقیدہ، فقہ، تفسیر اور حدیث کے موضوعات پر درس دیتے ہیں، اور لوگوں کو ان کے سوالات کے شافی جوابات دیتے ہیں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیخ پر اور بہت سے انعامات کے ساتھ ایک بڑا انعام و اکرام کا معاملہ یہ بھی کیا کہ آپ کو امور حرم مکی و حرم مدنی کی صدارت کا منصب عطا کیا گیا، ۱۷ جمادی الثانی ۱۴۳۳ھ بروز منگل شاہی فرمان جاری ہوا، جس میں سابق صدر صالح بن عبد الرحمن الحصین کی صحت کی خرابی کے پیش نظر ان کا استعفاقبول کرتے ہوئے شیخ عبد الرحمن السدیس کو ان کی جگہ صدر مقر ر کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔امامت و خطابت اور درس وتدریس نیز اہم اسفار و دیگر مشغولیات کے ساتھ شیخ کا میدان قلم وقرطاس میں بھی اپنا ایک منفرد مقام اور یگانہ اسلوب ہے، اب تک آپ کے قلم گوہر بار سے کئی کتابیں اور رسالے سپرد قرطاس ہو کر قبول خاص و عام حاصل کر چکے ہیں، جن کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے، چند کتابوں میں(۱) تحزیب القرآن فی قیام رمضان(۲) الرقیۃ الشرعیۃ: أحکام وآداب(۳) المبھج فی الفتوی المفھوم و المنھا(شامل ہیں۔ان کتابوں کے علاوہ آپ کے خطبات کے مجموعے بھی مختلف زبانوں میں شائع ہوئے ہیں۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے اپنے وقت کے اہم اور جید علماء سے کسب فیض کیا، اور ان سے بھرپور استفادہ کیا، جن میں

(۱) فضیلۃ الشیخ عبد الرحمن آل فریان(۲) شیخ قاری محمد عبد الماجد ذاکر(۳) شیخ محمد علی حسان(۴) شیخ عبد اللہ المنیف(۵) شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن تویجری(۶) شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ آل شیخ(۷) شیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن جبرین(۸) علامہ عبد العزیز بن باز( ۹) علامہ عبد الرزاق عفیفی(۱۰) ڈاکٹر صالح الفوزان(۱۱) شیخ عبد الرحمن البراک(۱۲) شیخ عبد العزیز الراجحی شامل ہیں۔مقامی مشغولیات کے ساتھ بطور امام حرم

امت مسلمہ کے حالات سے واقفیت اور ان کی صحیح رہنمائی کے لئے وقتاً فوقتاً دنیا کے مختلف علاقوں کے اسفار بھی ہوتے رہتے ہیں، امام حرم کی ان قابل قدر خدمات کے اعتراف میں بہت سے جلسے ہوئے، اور انعامات و اعزازات سے نوازا گیا، خاص طور پر ۲۰۰۵ء میں دبئی کی ایک تنظیم کی طرف سے انہیں سال رواں کی اسلامی شخصیت کے انعام کے لئے منتخب کیا گیا، اور انہیں اسلام اور قرآن مجید کے تعلق سے نمایاں ترین شخصیت قرار دیا گیا۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس اپنی خوبصورت آواز، قرآن کریم کی بہترین اور پُر اثر تلاوت کے لئے مشہور ہیں، جب وہ اپنی دل کش آواز میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو سننے والے جھوم اٹھتے ہیں، خود ان پر اور سننے والوں پر وجد طاری ہو جاتا ہے، وہ قرآن حکیم کی تلاوت کے دوران خود بھی روتے ہیں اور اپنے سامعین کو بھی رلاتے ہیں۔تلاوت قرآن کریم کی تاثیر ہی نرالی ہے، جتنی بار پڑھ لیں یا سن لیں، ہر دفعہ ایک نئی لذت محسوس ہوتی ہے، شیخ عبد الرحمن السدیس کی آواز میں تلاوت قرآن کریم پوری دنیا میں مقبول خاص و عام ہے، ہر شہر اور ہر بستی میں ان کی آواز گونجتی ہے، حرم پاک میں جائیں تو آپ کی پرسوز آواز کو سن کر دل کو سکون ملتا ہے۔

آپ قرأت کی مشہور روایت حفص عن عاصم الکوفی کے مطابق تلاوت کرتے ہیں، آپ کی تلاوت پر مشتمل پورا قرآن عموماً دستیاب ہے، قرأت کے ساتھ تلاوت کی ریکارڈنگ بھی کی گئی ہے۔جہاں کئی افراد نے آپ کی تلاوت کو سن کر اپنا قرآن درست کیا ہے، وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جنہوں نے صرف آپ کی تلاوت سن کر قرآن یاد کر لیا ہے۔حرم مکی میں امام حرم کی آمد کے ساتھ ہی ایک سماں بندھ جاتا ہے، ہر ایک آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے کا متمنی ہوتا ہے، اور اس سعادت کے حاصل ہونے پر فخر کرتا ہے، اور اگر کچھ دنوں یا کسی سفر میں کسی کو یہ سعادت حاصل نہ ہو تووہ افسوس کا اظہار کرتا ہے۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کی دوسری وجہ شہرت وہ بلیغ و موثر خطبے ہیں، جو وہ مسجد حرام کے منبر سے دیتے ہیں، اسلام میں خطبۂ جمعہ کی بڑی اہمیت ہے، اس کی اہمیت و فضیلت سے متعلق متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، گویا امت مسلمہ کو قدرتی طور پر ہفتہ میں ایک دن ان کی اصلاح اور رہنمائی کے لئے نہایت زریں موقع دیا گیا ہے، جمعہ اور اس کے خطبہ کی اس اہمیت کے پیش نظر خطیب کی بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، تاکہ اس ہفت روزہ پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے، اور خطبات جمعہ تبرک یا وقت گزاری کے بجائے اصلاح اور دینی پیغام رسانی کا بہترین ذریعہ بن سکیں،

خطیب کو سنت کے مطابق حالات و ضروریات کا ادراک اور لحاظ کرتے ہوئے موضوع اختیار کرنا چاہئے، موضوع کی مناسبت سے قرآنی آیات اور صحیح احادیث کا انتخاب کرنا چاہیے، مستند کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، پھر حالات سے اس کی مطابقت ضروری ہے تا کہ لوگوں کی بروقت رہنمائی ہو سکے۔ ، ان میں بھی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس کا مقام سب سے اعلیٰ ہے۔آپ کے خطبات کی شان نرالی ہوتی ہے، عموماً حمد و ثنا ہی میں خطبہ کا موضوع سمیٹ دیتے ہیں، پھر حالات حاضرہ پر بقدر ضرورت تبصرہ اور عالم اسلام کے مرکزی منبر سے متعلقین، حکام، علماء، مبلغین، صحافی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے لئے ان کی ذمہ داریوں کی حکیمانہ اسلوب میں یاددہانی آپ کا خاص امتیاز ہے، موصوف کے دل میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے جو تڑپ ہے، اس کا اندازہ ان خطبات پر نظر ڈالتے ہی ہو جاتا ہے، امت مسلمہ کے لئے شیخ محترم کی پرسوز دعاؤں کا تذکرہ تو زبان زد عام و خاص ہے ۔فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس خطبۂ جمعہ کی تیاری کے لئے کتنی محنت کرتے ہیں، اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے :’’ کویت کے مشہور عالم دین ڈاکٹر محمد العوضی کہتے ہیں : ایک دفعہ جب شیخ کویت کے دورے پر تھے، میری ان سے ملاقات ہوئی، میں نے ان کی شخصیت میں تواضع، حکمت و دانش اور علم و عمل کا ایک عمدہ نمونہ دیکھا، اسی دوران انہوں نے مجھے اپنی کتاب ’’کوکبۃ الکوکبۃ‘‘ کا ایک نسخہ ہدیہ کیا، اور فرمایا: ’’جب میں حرم مکی کے لئے خطبہ تیار کرتا ہوں،

تو ہر خطبہ کو ایک عظیم مشن سمجھ کر تیار کرتا ہوں، جمعہ سے ایک دو روز پہلے ہی میں لوگوں سے ملاقاتیں بند کر دیتا ہوں، تا کہ پوری توجہ اور انہماک سے اپنے موضوع کا حق ادا کر سکوں، اور اس کے لئے درست ترین معلومات جمع کر سکوں، اس لئے کہ میں جانتا ہوں کہ یہ وہ عظیم مقام ہے جس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی اور مقام نہیں، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں اللہ کے رسولﷺ نے کھڑے ہو کر پوری دنیا کے مسلمانوں کو خطاب فرمایا تھا‘‘۔امام کعبہ کو یہ مقام اپنی والدہ کی دعا کی بدولت حاصل فرما یا وہ اپنا واقعہ خود بیان فرما تے ہیں کہ ایک لڑکا تھا،اس کی عمر یہی کوئی نو،دس برس رہی ہوگی . وہ بھی اپنی عمر کے لڑکوں کی طرح شریر تھابلکہ شاید اس سے کچھ زیادہ ہی‘ یہ وہ دور تھا،جب نہ آج کی طرح بجلی کے پنکھے تھے،نہ گیس کے چولہے،گھر بھی مٹی کے، چولہا بھی مٹی کا ہوا کرتا تھا،اور نہ اس زمانہ میں دولت کی اس قدر ریل پیل تھی جو آج دیکھی جارہی ہے ‘ایک دن اس کے گھر مہمان آگئے . اس کی ماں نے اپنے مہمانوں کے لئے کھانا تیار کیا، یہ لڑکا بھی قریب ہی دوستوں کے ہمراہ کھیل رہا تھا، ماں نے جیسے ہی سالن تیار کیا،بچہ نے شرارت سے اس سالن میں مٹی ڈال دی.اب آپ خود ہی اس ماں کی مشکل کا اندازہ کر سکتے ہیں،غصے کا آنا بھی فطری تھا‘غصہ سے بھری ماں نے صرف اتنا کہاکہ جا تجھے اللہ کعبہ کا امام بنادے ‘اتنا سنا کر ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس رو پڑے اور کہنے لگے‘آپ جانتے ہو کہ یہ شریر لڑکا کون تھا؟ پھر خود ہی جواب دیتے ہیں‘وہ شریر لڑکا ”میں“ تھاجسے آج دنیا دیکھتی ہے کہ وہ کعبہ کا امام بنا ہوا ہے۔ہما ری دعا ہے کہ اللہ رب العزت امام کعبہ عبد الرحمن السدیس سے دین متین کا مزید کام لیں آمین ثم آمین۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔۔۔۔۔

Leave a Comment