اسلامک وظائف

کسی بھی قسم کے ظلم سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

ظلم کئی طرح کا ہو سکتا ہے- جسمانی ظلم یعنی جسم کے اعضا کو نقصان پہنچانا-نفسیاتی ظلم یعنی کسی کی دماغی طور پر نقصان پہچانا جان بوجھ کر غلط چیزیں دوسرے کے دماغ میں ڈالنا-اخلاقی ظلم یعنی کسی سے بھی بد تمیزی سے بات کرنا یا کوئی ایسی بات کرنا جس سے اگلے بندے کو برا لگے-

ایک شخص کو پتا ہوتا ہے کہ اگلا بندہ حساس ہے جلدی چیزیں محسوس کر لیتا ہے اور اپنے سر پر سوار کر لیتا ہے لیکن پھر بھی اس کے سامنے غلط بات کرنا اس کی برائی کرنا ظلم ہی ہے-کہتے ہیں کسی کو اتنا مت ستاو کہ وہ خدا کے آگے تمھارا نام لیتے ہوئے رو پڑے-کبھی کبھی کوئی انجانے میں بھی ظلم کر دیتا ہے-کسی نے ظلم کیا لیکن اس کو پتا نہیں چلا کہ اس سے ظلم ہوگیا پھر یہ معاملہ اللہ اور اس بندے کا ہے-لیکن جان بوجھ کر ظلم کرنا بہت برا ہے اور اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہے-حقوق اللہ کے بعد حقوق العباد پہ بہت زور دیا گیا ہے-لیکن جب ہم انسانوں کہ حقوق پورے کرنے کی بجائے ان پر ظلم کریں گے تو ہماری آخرت اچھی کیسے ہو سکتی ہے؟

رَبِّ نَجِّنِىْ مِنَ الْقَوْمِ الظّالِمِيْن اے میرے رب مجھے ظالم لوگوں سے بچا لے”یہ ظلم سے اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا ہے-اگر آپ کسی ظلم کا شکار ہے تو یہ دعا باقاعدگی سے پڑھیں- انشاءاللہ نا صرف اللہ تعالی ظلم سے نجات دلوائے گا بلکہ اس ظالم کو اس کے انجام تک بھی پہنچائے گا کیونکہ ظالم کا انجام اس تک پہنچ ہی جاتا ہے اور وہ بلکل اچھا نہیں ہوتا-اللہ تعالی بس دیکھتے ہیں کہ یہ شخص جس کو ایک گدلی مٹی سے پیدا کیا گیا آخر کہاں تک جا سکتا ہے اور پھر اللہ تعالی اپنا بتاتے ہیں وہ کیا کر سکتے ہیں!

Leave a Comment