اسلامک وظائف

کرونا سے شفا کیسے حاصل ہو سکتی ہے

جب ہم تھوڑا بہت بیمار ہوتے ہیں تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور پھر دوائیں کھا کر ہمیں آرام آ بھی جاتا ہے-لیکن کچھ بیماریاں ایسی ہوتی ہے جن سے شفا حاصل کرنے لیے ہم سر تا پیر کوشش کرلیتے ہیں-جو جہاں کہتا ہے وہاں چل پڑتے ہیں لیکن پھر بھی آرام نہیں آتا ہے-لوگوں کے کہنے پر تو ہم پیروں کے پاس بھی چلے جاتے ہیں-

ڈاکٹر علاج کرتے ہیں وقتی طور پر تو آرام آجاتا ہے لیکن پھر سے بیماری کے اثرات اثر کرنے لگتے ہیں-تو ڈاکٹر کی دوائیاں کھانے کے ساتھ ساتھ اگر ہم اللہ سے بھی دعا کریں جس نے یہ بیماری عطا کی ہے تو زیادہ بہتر ہے-آرام نہیں آرہا سکون نہیں مل رہا تو اس سے رجوع کریں کیونکہ یہ بے سکونی اسی کی عطا کردہ ہے-

بیماری سے شفا کے لیے چاروں قل اگر باقاعدہ طور پر پڑھیں اور دل سے پڑھیں تو اللہ تعالی ضرور شفا دیتے ہیں-چار قل یعنی “سورہ اخلاص، فلق، الناس اور الکافرون” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہے کہ جب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑتے تو اپنے اوپر معوذات پڑھ کر پھونکا کرتے اور اپنے جسم پر اپنا ہاتھ پھیرا کرتے پھر وہ مرض جب اپ کو لاحق ہوا جس میں آپ کی وفات ہوئی تو میں وہی معوذات جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دم کیا کرتے تھے

وہ پرھ کر آپ پر دم کیا کرتی تھی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کو ان کو آپ کے جسم میں پھیر دیا کرتی تھی- چار قل تو ہر کسی کو یاد ہوتے ہیں بچوں کو بھی- اور اگر یاد نہیں بھی ہے تو یاد کرنا بلکل مشکل نہیں ہے-اس سے ثواب بھی ملتا ہے اور شفا بھی-

Leave a Comment