اسلامک معلومات

ڈر کو مار کر جیو۔۔۔۔۔!

یہ تو ہونا ہی تھا اور یہ ہو گیا۔ ووہان سے چلنے والا نیا کرونا وائرس پاکستان پہنچ گیا۔ میڈیا کو بریکنگ نیوز مل رہیں ۔ سرمایہ داروں کو پیسے کمانے کا ایک اور موقع مل گیا ۔ سیاست دان سیاست چمکانے میں مصروف ہیں، مولویوں کو خواب آ رہے اور بے چارے غریب عوام جو رزق خاک ہیں رزق خاک ہو رہے۔ پہلے جگتیں ماری جا رہی تھیں لیکن اب ڈر اور خوف کی ایک فضا ہے جو عوام پر طاری ہے۔

میں یہ لائینیں لکھتے وقت بیجنگ میں بیٹھا ہوں ۔ 25 جنوری کو بیجنگ شہر بند ہوا تھا اس لحاظ سے اب تقریباً 2 مہینے ہونے والے ہیں ۔ یہ 2 مہینے امید اور خوف کے سائے میں گزرے ۔ الحمد اللہ ہم سلامت ہیں ، پورے چائنہ میں 20 ہزار سے زیادہ پاکستانی ہیں۔ ووہان میں 800 سے زیادہ پاکستانی سٹوڈنٹ ہیں سارے محفوظ ہیں ، سلامت ہیں تو ان شا اللہ آپ سب بھی محفوظ رہیں گے کچھ بھی نہیں ہو گا۔لیکن کرنا کیا ہے؟ جو چیزیں ہم نے سیکھیں وہ آپ سے شئیر کرتا چلوں۔
سب سے پہلے یہ کریں کہ پاکستانی نیوز چینلز دیکھنا بند کر دیں ۔ خبریں اگر سننی بھی ہوں تو بی بی سی سے سن لیں ۔ پاکستان میں میڈیا سنسنی اور خوف پھیلانے میں ماہر ہے۔ آپ اگر یہ چینلز مسلسل دیکھتے ہے تو نفسیاتی مریض لازمی بن جائیں گے۔آپ کے گھر میں ٹی وی ہے تو میں کہتا ہوں اسے آج کل اپنے دشمن کے گھر بھیج دیں بالکل مفت۔ ان سے جتنا جلدی جان چھڑا لیں بہتر ہے۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ اگر آپ خبریں نہیں سنیں گے تو آپ کو پتہ نہیں ہو گا کیا ہو رہا ۔ دنیا میں امن سکون محسوس ہو گا ۔ اپنے گھر میں خوف نہیں آئے گا۔

اس وائرس کو لے کر اتنا شور کیوں ہے؟یہ ایک نئی قسم کا کرونا وائرس ہے اور ہمارے پاس ابھی تک اس کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔ لیکن جتنی معلومات دستیاب ہوئیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ ابھی تک اس کی کوئی دوائی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔ تجربہ گاہوں میں جن چیزوں پر کام ہو رہا ہے انہیں باہر آنے تک مزید کم از کم تین سے چھے مہینے درکار ہیں ۔( ایک دفعہ پھر یہ پاکستانی میڈیا آپ کو جو کہانیاں سنا رہا ہے کہ فلاں جگہ دوائی بن گئی فلاں کمپنی نے بنا لی سب جھوٹ ہے)۔ مریض کی مناسب طریقے سے دیکھ بھال اور اچھی خوراک اور صحت مند مضبوط فعال دفاعی نظام ہی بچا سکتا ہے۔ جتنے زیادہ مریض ہوں گے اتنا ہی ان کی دیکھ بھال مشکل ہو گی ۔ اس لئے اتناشور ہے اور شہر اور ملک بند ہو رہے کہ کم سے کم لوگ اس سے متاثر ہوں تاکہ انہیں علاگ معالجے کی بہترین سہولتیں میسر آ سکیں ۔ ایک اور بات صحت کے عالمی اداروں اور حکومت پاکستان نے احتیاطی تدابیر کے بارے میں جو ہدایات جاری کی ہیں ۔ ان پر ہر حال میں عمل کریں اور بہت سنجیدگی سے عمل کریں۔ انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں اور کچھ لوگوں کو جو خواب آ رہے آج کل انہیں خواب دیکھنے دیں لیکن ایسی باتیں آگے پھیلانے سے گریز کریں جن کے پیچھے کوئی دستاویزی ثبوت نہ ہو۔

اس وائرس کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ آپ کو اس وقت تک نہیں لگے گا جب تک آپ اس کو نہ لگ جائیں ۔۔۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ گھر کے اندر رہیں گے تو وائرس کچھ نہیں کہے گا۔ اگر آپ گھر سے باہر جا رہے ہیں لیکن لوگوں سے مناسب فاصلہ رکھ رہے ہیں ، کم از کم ایک میٹر دور، تو بھی وائرس آپ کو دیکھ کر آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔ لیکن جب آپ لوگوں سے ہاتھ ملائیں گے تو یہ آپ کے گلے لگ جائے گا۔ لہذا جتنا ممکن ہے گھر کے اندر رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر جانے سے پرہیز کریں ۔ اور باہر جانا ہی ہو تو لوگوں س ہاتھ ملانے سے مکمل گریز کریں ۔یہ چھٹیاں بالکل بھی گھومنے پھرنے کے لئے نہیں ہیں ۔ گھر بیٹھیں شاباش۔ آرام کریں ۔ ایسی جگہوں پر بالکل نہ جائیں جہاں بہت سارے لوگ ہوں اور ان لوگوں سے فاصلہ رکھنا بھی دشوار بھی ہو چاہے مسجد ہی کیوں نہ ہو۔ نماز گھر میں ادا کریں ہو جائے گی اور پورا ثواب بھی ملے گا۔ دیکھیں پیاز کھا کر مسجد میں آنا منع کیا گیا ہے کہ نمازیوں کو تکلیف ہوتی اس کی بدبو سے تو پھر سوچیں کہ اس طرح وائرس پھیلے اور نمازی مر جائیں تو یہ کتنا برا کام ہے؟ احتیاط کریں ۔ اسی طرح شاپنگ کے لئے بڑے بڑے شاپنگ مالز یا ان جگہوں میں نہ جائیں جہاں لوگوں کا رش ہو۔ پنجاب میں گھر بیٹھے تازہ سبزیاں پھل منگوائے جا سکتے ۔

باہر جانا ضروری بھی ہو تو اس بات کا پھر خیال رکھیں کہ غیر ضروری طور پر لوگوں کے نزدیک نہ جائیں ۔ چیزوں کو بلا ضرورت چھونے سے پرہیز کریں ۔ اور جب تک آپ باہر رہیں کوشش کریں کہ اپنے ہاتھ منہ سے ہر گز ٹچ نہ کریں منہ کے قریب بھی نہ لے کر جائیں ۔ جہاں موقع ملے ہاتھ پانی سے دھولیں ، جی ہاں صرف پانی سے دھو لینا بھی کافی ہے۔ سادہ صابن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ واپس گھر لوٹیں توفوراً کسی بھی چیز کو چھونے سے پہلے بہترین چیز یہ ہے کہ پورا وضو کریں ۔ ( میں نے جان بوجھ کر ماسک اور سینیٹائزر کا زکر نہیں کیا، کیوں بھلا؟)غیر ضروری طور پر ماسک اور سینیٹائزرز مہنگے داموں ہر گز نہ خریدیں ۔ ایک صحت مند انسان کے لئے ماسک پہننا ضروری نہیں لیکن یہ لازمی ہے کہ جو بیمار ہو وہ ماسک پہنے ۔ اسی طرح طبی عملے کے لئئ مناسب حفاظتی لباس کا ہونا بھی ضروری ہے۔ سینیٹائزرز کی جگہ کسی بھی مناسب صابن سے ہاتھ دھو لیں ۔ زبردست ۔ ہاتھ دھونا لازمی ہےآج کل ہسپتال جانے سے پرہیز کریں جب تک بہت ضروری نہ ہو۔ کوشش کریں کسی نہ کسی ڈاکٹر کا نمبر لے لیں اور چھوٹے چھوٹے مسائل فون پر ہی حل کریں ڈاکٹر کو اس کی فیس پھر بھی دے دیں ۔

اور خدا نخواستہ ساری احتیاطی تدابیر کے بعد بھی اگر کہیں آ پ میں اس کی علامتیں ظاہر ہو رہی ہیں تو گھبرانےکی کوئی بات نہیں ہے۔ فوراً سے نزدیکی ہسپتال پہنچیں ۔ اور اپنا علاج کروائیں ۔ انتطامیہ سے مکمل تعاون کریں اور ان سب لوگوں کے بارے میں لازمی اور سچ سچ بتائیں جن سے آپ کا رابطہ رہا تاکہ باقی زندگیا ں بچائی جا سکیں ۔

آخری اور سب سے ضروری بات۔
آپ کے کچھ دوست ، ڈرے ہوں گے نفسیاتی طور پر ایک خوف کی فضا ہے۔ کچھ لوگ سہم جاتے ہیں ۔ ان سے فون پر بات کریں انہیں تسلی دیں ۔ حوصلہ اور ہمت والی باتیں کریں ۔ کچھ لوگ جو دیہاڑی دار مزدور ہیں ۔ ان کی روزی روٹی کا مسئلہ بنے گا۔ ہو سکتا ہے وہ آپ سے سوال نہ کر سکیں لیکن قرب و جوار میں دیکھیں ایسے جتنے لوگ ہیں ان کا پتہ کریں اور انہیں خاموشی سے روزانہ کچھ نہ کچھ دے دیا کریں ان کے گھر کے چولہے کی آ گ نہ بھجے ان کے بچے کسی دن بھوکے نہ سوئیں ۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Leave a Comment