اسلامک معلومات

وہ عورت جو اسلام میں اکیلے سفر نہیں کر سکتی

ایک مسلمان عورت بغیر محرم فرض حج کیلئے نہیں جا سکتی .اونچی آواز میں قرآن کی تلاوت نہیں کر سکتی .
اندر والے کمرے میں نماز صحن کی نماز سے افضل ہے.
پاؤں جھٹک جھٹک کے چل نہیں سکتی .
چند محرم رشتوں کے علاوہ کسی کے سامنے نہیں آ سکتی .بغیر پردہ باہر نہیں نکل سکتی .
دروازے پر دستک کی صورت میں آواز بدل کر کرخت لہجے میں بات کرنے کا حکم ،وہ اللہ کی طرف سے جنازہ کی نماز عورت پر نہیں
جہاد عورت پر نہ فرض ،نہ واجب ،نہ سنت ،نہ مستحب .
اسلام کے سارے امور کا صرف حکم قرآن میں ،تفصیل نبی صلی اللہ کے ذمے ،کہ امور کیسے عمل میں لانے ہیں .
واحد عورت کا پردہ جس کی مکمل تفصیل خود اللہ نے قرآن میں بیان کی ہے.
ان سب احکامات اللہ عزو جل کے اگر کوئی عورت خوب بن سنور کے فل میک اپ کرکے ،بغیر پردہ کسی مزار یا قبر پر جائے اور پھر چادر
اتار کر ننگے سر ،بال کھول ،قبر پر ناچے ( دھمال ) اور وہ بھی غیر مردوں کے سامنے اور اس کو دین سمجھے اور باعث ثواب سمجھے
اور یہ سوچے کہ اس سے قبر والا خوش ہوگا ،اور میری مرادیں پوری کرے گا ،تو اسے جہالت کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتے .
کسی ولی اللہ کی ایسی تعلیمات نہیں ،اور نہ کسی ولی نے یہ کام خود کیا ہے اور اگر کسی نے کیا ہے تو وہ ولی نہیں ،جعلی اور ڈھونگ والا ہے .
روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نہ انکی بیٹی نے دھمال ڈالی اور نہ علی کرم اللہ وجہہ کی بیٹیوں نے نجف اشرف میں دھمال ڈالی
اور نہ کسی صحابی رضی اللہ نے یہ کام کیا ،اور نہ حسنین کریمین نے کیا کبھی روضہ رسول صلی اللہ پر یا اپنے والد علی رضی اللہ کے مزار پر
مندروں میں ناچنا بت پرستوں کا شیوہ اور مزہب ہے .کسی صحیح مسلمان نے یہ کام تاریخ میں نہیں کیا ،اور نہ مزہب کی ایسی تعلیمات ہیں ،جوان مریدنیوں کے ساتھ ناچنا اور یہ کہنا مینوں نچ کے یار مناون دے .اگر اللہ کو ناچنے سے راضی کرنا مقصود ہوتا اور جائز ہوتا تو یہ کام انبیاء کرام علیہ سلام اجمعین نے ضرور کیا ( نعوذ باللہ ).

کچھ بے غیرت قسم کے جعلی پیروں نے مریدنیوں کا فگر دیکھنے کیلئے یہ خود ایجاد کیا ناچ ،ڈانس اور اس کا نام دھمال رکھ دیا سوا لاکھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی اجمعین میں ایک بھی گویا نہیں تھا اور نہ کوئی ناچا ،یا ناچنے والا ،اسلام تو ادھر سے ہی آیا ہے ،بعد میں اس میں کسی قسم کی تبدیلی دین ہرگز نہیں قبروں پر ناچنے کی نہیں.
دین قرآن اور حدیث اور عمل صحابہ میں ہے ،شاعروں اور جعلی عاملوں کی کتابوں میں نہیں .
اللہ کریم مجھ سمیت سب کو صحیح دین سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے ،
،آمین یا رب کریم

Leave a Comment