قصص الانبیا ء

وہ صرف روزِ جزا کا مالک ہی نہیں بلکہ ہر چیز کا مالک ہے

ارشادِ باری تعالیٰ ہے ٱلۡحَمۡدُ | لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ۔ ☆ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ ☆ مَٰلِكِ يَوۡمِ ٱلدِّينِ☆سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو رب ہے تمام جہانوں کا☆ بہت مہربان ہے نہایت رحم کرنے والا ہے☆ مالک ہے دن کا بدلے کے《سورة الفاتحہ1-3》وہ صرف روزِ جزا کا مالک ہی نہیں بلکہ ہر چیز کا مالک ہے۔ زمین و آسمان، لیل و نہار، برّ و بحر، شجرو ہجر، شمس و قمر اور ان تمام چیزوں کا مالک بھی، جو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔

وہ اللہ ان تمام چیزوں کا صرف مالک ہی نہیں ان پر مکمل اختیار بھی رکھتا ہے:يُولِجُ ٱلَّيۡلَ فِي ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِي ٱلَّيۡلِ وَسَخَّرَ ٱلشَّمۡسَ وَٱلۡقَمَرَۖ كُلٌّ يَجۡرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّىۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُ رَبُّكُمۡ لَهُ ٱلۡمُلۡكُۚ وَٱلَّذِينَ تَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ مَا يَمۡلِكُونَ مِن قِطۡمِيرٍ☆وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور وہ داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے مسخر کیا سورج اور چاند کو ہر ایک چل رہا ہے ایک وقت تک جو مقرر ہے یہ ہے اللہ رب تمہارا اسی کے لیے ہے بادشاہت اور وہ جنہیں تم پکارتے ہو اس کے سوا نہیں وہ مالک ہو سکتے کھجور کی گھٹلی کے چھلکے کے بھی۔ 《سورة الفاطر 13》اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے علاوہ کوئی ایک معمولی ہلکے پھلکے چھلکے کا بھی مالک نہیں، نہ وہ اس کی مرضی سے بنا ہے اور نہ ہی اس کی مرضی کے مطابق کام کرتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب اس کی ملکیت میں موجود بہت عزیز اور گراں قدر چیزیں اس کے ہاتھ سے چلی جاتی ہیں۔ ایسے میں انسان پریشان ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو یاد رکھے، اس کی قدرت، حکمت اور علم کو یاد رکھے تو اسے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے اللہ ہی کا دیا ہوا ہے، جب چاہے واپس لےلے، اصل مالک تو وہی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جان رکھو کہ اگر ساری امت مل کر بھی تمہیں فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں کوئی نفع نہیں دے سکتے سوائے اس کہ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہو اور سب مل کر اگر تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں دے سکتے سوائے اس کہ جو اللہ نے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہو۔”اس لیے انسان کو اس بات سے بے خوف ہو جانا چاہیے کہ کوئی اس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے۔ اسی طرح اللہ کے علاوہ کسی اور سے یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ کچھ دے سکتا ہے۔ اس سے انسان کو اطمینان نصیب ہوتا ہے اور اس کی دعا میں یقین پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ملکیت پر یقین کے ثمرات1- جب انسان کو اس بات پر یقین ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے اور وہ بندوں کو ان کی ضرورت کے مطابق رزق تقسیم کرتا ہے تو اسے قناعت حاصل ہوتی ہے اوروہ تقدیر پر راضی رہتا ہے۔2- پھر انسان اس پر توجہ کرنے کے بجائے کہ اسے کیا ملا ہے اور کیا نہیں، وہ اس بات پر توجہ کرتا ہے کہ وہ اپنی وقتی ملکیت میں موجود چیزوں کو کس طرح بہتر طور پر استعمال کرسکتا ہے، اس سے بندوں کے حقوق کس طرح بہتر طور پر ادا کرسکتا ہے۔ کیونکہ جو کچھ ہمیں ملا ہے اس کا حساب ہونے والا ہے۔

وقتی ملکیت کی حقیقت انسان کو یہ سب کچھ اس لیے نہیں ملا کہ وہ ان پر فخروتکبر کرے بلکہ:۔۔۔۔۔ لِيَبۡلُوَكُمۡ | أَيُّكُمۡ | أَحۡسَنُ | عَمَلًاۚ۔۔۔۔ تاکہ وہ آزمائے تمہیں کون تم میں سے زیادہ اچھا ہے عمل میں 《سورةالملک 2》یعنی آیا کہ ہم اپنے جسم، نگاہوں، زبان، عقل و سمجھ کو اس کی مرضی کے مطابق استعمال کرتے ہیں یا اس کی نافرمانی میں۔ جو کچھ ہمیں ملا ہے اس کا بھی پورا اختیار ہمارے پاس نہیں مثلاً یہ نہیں کہا گیا کہ جیسے چاہو کماؤ، جہاں چاہو خرچ کرو۔ بلکہ ایک طرف بخل سے منع کیا گیا تو دوسری طرف اسراف سے۔یہاں تک کہ مرتے وقت مال کی غلط وصیت سے بھی انسان اپنے آپ کو جنت سے محروم کرسکتا ہے۔اس لیے انسان کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ آزاد و خود مختار نہیں بلکہ اس کا کوئی مالک ہے جس نے اسے پیدا کیا اور یہاں بھیجا ہے اور جس کے پاس اسے پلٹ کر جانا ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ زندگی کا ایک ایک دن سوچ کر گزاریں، ہماری ملکیت میں جو کچھ ہے اسے اللہ کی ملکیت سمجھیں۔ اگر اللہ کچھ دے تو اس پر شکر ادا کریں اور اگر اللہ ان دی ہوئی چیزوں میں سے کچھ لے لے تو اس پر ناراض نہ ہوں بلکہ اللہ کے فیصلوں کو خوشی سے قبول کریں۔

Leave a Comment