اسلامک معلومات

وہم اور اسکا علاج

بســــــــــــــم الله الرحمن الرحيم

اس کا علاج بزرگوں نے یہ فرمایا کہ جس چیز کا وہم پیدا ہورہا ہے، آدمی اس کی زبردستی خلاف ورزی کرے، مثلاً تین مرتبہ ہاتھ اچھی طرح دھولیے مناسب طریقے پر جیسے دھوئے جاتے ہیں ، پھر بھی یہ خیال آرہا ہے ، کہ میرا ہاتھ خشک رہ گیا لائو دوبارہ دھولوں تو اب اس کی مخالفت کرو، اور کہو نہیں نہیں ، اب دوبارہ نہیں دھوئوں گا زبردستی اس کی مخالفت کرے تو اس صورت میں رفتہ رفتہ وہ شیطان مایوس ہوجائے گا، یہ تو میرا کہنا مانتا نہیں ہے لہٰذا اس کے پاس جانے کی ضرورت نہیں اور وہ بھاگ جائے گا، اس کا یہی علاج ہے ۔

حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ ؛ ہمارے بزرگوں میں سے شاید حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ خود اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ وضو کررہا تھا، جب وضو کرکے فارغ ہوکر چلا تو ذہن میں خیال آیا کہ کہنی خشک رہ گئی ہے، میں نے سوچا کہ شبہ دل میں پیدا ہوا ہے، تو اس کو دور کرنا چاہیے چنانچہ دو بارہ واپس گیا اور جاکر کہنی کے اوپر پانی ڈال کر خشکی کا جو خیال تھا وہ دور کرلیا، پھر چلا ،تھوڑی دور گیا تو خیال آیا کہ شاید بائیں کہنی خشک رہ گئی ہے، یہ دل میں خیال آیا تو میں نے کہا کہ یہ شبہ کیوں چھوڑیں ، دوبارہ گئے اور جاکر دوسری کہنی بھی دھولی ، پھر ذرا آگے چلے تو پھر خیال آیا کہ ٹخنہ خشک رہ گیا ے،

جب تیسری مرتبہ یہ خیال آیا تو میں نے دل میں کہا کہ اچھا یہ حضرت آپ ہیں ، یہ کہہ کر میں نے کہا کہ آج ہم بغیر وضو ہی کے نماز پڑھیں گے، تم کہتے رہو کہ وضو نہیں ہوا، آج ہم بغیر وضو ہی کے نماز پڑھیں گے ، اور پھر یہ فرمایا کہ اگر میں اس وقت یہ نہ کہتا تو یہ زندگی بھر کا وظیفہ ہوگیا تھا، وہ زندگی بھر اسی شک میں ، اسی وسوسے میں اور اسی وہم میں مبتلا رکھتا ، اور ہر تھوڑی دیر کے بعد اس قسم کے وسوسے ڈالتا ، لہٰذا الحمدللہ اس کا علاج ہوگیا.اس کے بعد پھر وہ وسوسہ نہیں آیا، بہر حال ! علاج اس کا یہی ہے کہ زبردستی اس وہم کی مخالفت کی جائے ۔

نماز میں وہم کا واقعہ ؛بعض مربہ نماز کے اندر ہوتا ہے کہ پتہ نہیں نماز صحیح ہوئی کہ نہیں ہوئی ، یہ اتنی کثرت سے وسوسے ڈالتا ہے کہ اس میں لوگ پریشان ہوتے رہتے ہیں ، ایک ایسے ہی صاحب تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ، ان کو یہ وہم ہوجاتا تھا کہ نماز میں میرا وضو ٹوٹ گیا ہے، یہ وہم ہوتا تھا اور آکر انھوں نے یہ کیفیت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جب نماز پڑھتا ہوں تو ایسا خیال ہوتا ہے کہ وضو ٹوٹ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حکیم کون ہوگا؟ آپ ؐ نے فرمایا کہ تمہارا وضو نہیں ٹوٹے گا جب تک تم کوئی بدبو محسوس نہ کرو، یاآواز نہ سن لو، حالانکہ وضو ٹوٹنے کے لئے ضروری نہیں کہ آدمی بدبو محسوس کرے، یا آواز سنے مثلاً ریح خارج ہوگئی ہے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن اس سے یہ فرمایا کہ تمہارا وضو اس وقت تک نہیں ٹوٹے گا جب تک کہ تمہیں بدبو نہ آجائے ، یا آواز نہ آجائے ، اس وقت تک تمہارا وضو نہیں ٹوٹے گا ۔ ۔۔۔۔۔

وہم کا دوسرا علاج ؛اور دوسری بات یہ ہے کہ اس سورت سورۃ الناس کو کثرت سے پڑھے اور اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے کہ یا اللہ ! مجھے یہ وسوسے کی اور وہم کی بیماری ہورہی ہے ، آپ اپنی رحمت سے میرے اس وہم کو دور فرمادیجئے تو انشاء اللہ پھر اس کو نقصان نہیں ہوگا ۔

Leave a Comment