اسلامک واقعات قصص الانبیا ء

واقعہ یوسف ؑ  کی حکمتیں

واقعہ یوسف ؑ  کی حکمتیں

واقعہ یوسف ؑ  کی حکمتیں

واقعہ یوسف ؑ  کی حکمتیں : مقام یوسف علیہ سلام
حضرت یوسف علیہ سلام نبیوں کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ایک نبی کے بیٹے، ایک نبی کے پوتے اور ایک نبی کے پر پوتے تھے۔ آپ نے بچپن میں ہی نبوت کی خوشخبری پا لی تھی۔ مگر اللہ تعالی نے اس خوشخبری والے خواب کو حقیقت کا جامہ پہنانے کے لیے ایک کٹھن امتحان سے گزارا انہیں۔ باپ بیٹے میں تقریبا چالیس سال کی جدائ رہی۔ آپ کو لڑکپن اور جوانی گھر والوں کے بغیر گزارنا پڑی۔ لیکن اللہ تعالی کے ہر فیصلے میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔

جدائ کا غم سہنے میں حکمت

اللہ تعالی نے حضرت یوسف علیہ سلام کے ذریعے مصر کی تمام آبادی کو بدترین قحط سے بچا لیا۔ ایک بیٹے کو اپنے باپ سے جدا رکھا . تا کہ مصر میں لاکھوں بیٹے بھوک کے ہاتھوں اپنی جان نہ گنوا بیٹھتے۔ مصر کو آنے والے سات سالہ قحط کے نقصانات سے بچانے کے لیے.  اللہ تعالی نے بچپن میں ہی حضرت یوسف علیہ سلام کو ان کے گھر والوں سے دور مصر میں لے آئے۔ ایسی حکمت عملی صرف اللہ تعالی ہی کی ہو سکتی ہے. اور ایسی جدائی کی تکلیف اور غم ایک نبی ہی سہہ سکتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ سلام کو اللہ تعالی نے معجزہ کے طور پر خوابوں کی تعبیر اور باتوں کی تاویل کا علم عطا کیا تھا۔

اور اسی علم کی بدولت آپ علیہ سلام نے اپنے قید کے دنوں میں اپنے دو ساتھیوں کو ان کے خواب کی سچی تعبیر بتائ.  ان میں سے ایک ساتھی آزاد ہونے کے بعد بادشاہ کو شراب نوش کرواتا تھا۔ جب بادشاہ نے عجیب خواب دیکھا تو اس کی تعبیر کی بابت دریافت کرنے لگا۔ اس وقت حضرت یوسف علیہ سلام کے اس ساتھی نے بادشاہ کو آپ کے بارے میں بتایا۔ اور تعبیر خواب کا علم ہی وجہ بنا آپ کی آزادی کا۔ اور چونکہ بادشاہ نے جان لیا کہ آپ علیہ سلام ہی اب آنے والے قحط کے لیے بہترین حکمت عملی دے سکتے ہیں تو اس نے آپ کو اس کام کی ذمہ داری بھی سونپ دی اور آپ کو وزیر کا عہدہ دیا گیا۔ جیل میں بتائ گئ تعبیر کی وجہ سے اللہ تعالی نے آپ کو شہر میں معزز ترین مقام عطا کیا۔

بھائیوں کی چال کا ناکام ہونا

اسی قحط سے بے حال ہو کر آپ علیہ سلام کے بھائ آپ کے پاس گندم لینے کے لیے آئے۔اور آج اللہ تعالی نے آپ کو آپ کے بھائیوں پر فضیلت عطا کی۔ وہ بھائ جنہوں نے حضرت یوسف علیہ سلام کو حسد کی وجہ سے کنویں میں پھینک دیا تھا.  آج حضرت یوسف کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے تھے۔ بے شک اللہ تعالی سب چال چلنے والوں سے بہترین چال چلتا ہے۔

اللہ تعالی نے سالوں بعد وہ حالات پیدا کیے کہ حاسد بھائیوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور معافی مانگی۔ جھوٹ کو ایک دن ہارنا ہی ہوتا ہے اور صبر کے سوار کو کوئ گرا نہیں سکتا۔ واقعہ یوسف سے پتا چلتا ہے کہ چاہے آپ کے خلاف جتنی بھی چالیں کیوں نا چلی جائیں، جب تک آپ نے صبر کا دامن تھامے رکھا ہے تب تک اللہ تعالی ہر چال کو آپ کے دشمنوں پر ہی الٹا دیں گے اور آپ کو عزت کا مقام عطا کریں گے۔

Leave a Comment