اسلامک معلومات اسلامک واقعات

نیک شہزادی اور اللہ پر بھروسے کی کہانی

اللہ پر بھروسے کی ایسی کہانی جو نہ صرف ہمارا ایمان تازہ کر دے گی بلکہ ایسی حقیقت سے بھی روشناس کرا دے گے کہ اللہ پہ کامل یقین کیسے انسان کو غریب سے امیر اور فقیر سے بادشاہ بنا سکتا ہیں اول تو یہ کہ انسان کو ہر وقت اللہ سے امید رکھنی چاہیے کہ اگر آج دن برے ہیں تو کل اچہے بھی ضرور ہوں گے۔ کرمان کے بادشاہ حضرت مظفر کرمان شاہی تھے

جوکہ اپنے وقت کے کبائر اولیاء اللہ میں سے تھے اور بادشاہ وقت بھی رات اللہ کی عبادت میں گزرتی دن مخلوق خدا کی خدمت کرتے ہوئےگزر جاتا ۔ آپکی ایک صاحبزادی تھی جن سے انھیں بہت محبت تھی اور اپنی بیٹی کی تر بیت خالص دینی انداز میں کی صبر تقوی عبا دت یہ عالی صفات اس میں موجود تھیں جب بیٹی جوان ہوگی تو آپکو اسکی شادی کی فکر پڑ گی شہزادی کے لے بڑے اونچے رشتے آنے لگے مگر آپ نےکیونکہ اللہ سے لو لگا رکھی تھی آپ کی تمنا تھی میں وہ لڑ کا تلاش کروں گا جو زاہد عابد ہو۔ اسکی تلاش کے لے آپ راتوں کو مسجدوں کے چکر لگاتے کون عبادت زیادہ کرتا ہے ایک رات آپ شہر سے باہر ایک ویران مسجد میں پہنچے وہاں دیکھا ایک نوجوان عبادت میں مصروف ہے اور اسکے وجود پر کپکپی طاری ہے اور آنکہیں آنسووں سے ترہیں آپ نے اختتام نماز کا انتظار کیا وہ نوجوان جب فارغ ہوا اس کا حال احوال پو چھا وہ کہنے لگا غریب ہوں ایک کمرہ ہے آدھا گر چکا ہے آدھا باقی ہے آپ نے پو چھا شادی ہو گی ہے کہنے لگا ایسے غریب کو کون رشتہ دے گا آپ نے فرمایا اگر کرمان کے بادشاہ کی بیٹی سے تمھارا رشتہ طے ہو جاے ۔وہ نوجوان مسکراکر کہنے لگا بابا غریبوں سے مذاق نہیں کرتے آپ نے اپنی انگھوٹھی نکالی اور اسے دیکر کہا مجھ سے وعدہ کرو کل تم بادشاہ کرمان کے دربار میں مجھ سے ملو گے اگر دربان روکے تو اسے یہ انگھوٹھی دکھانا وہ تجہے میرے تک پہنچا دے گا صبح وعدے کے مطابق وہ نوجوان پہنچا دربان کو انگھوٹھی دکھائی وہ بادشاہ تک لے گیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ رات والا بوڑھا خود وہ بادشاہ سلامت ہیں بادشاہ نے اسی وقت قاضی کو بلواکر نکاح پڑھوا کر انہیں کپڑوں میں اپنی بیٹی کو رخصت کردیا ۔

وہ نوجوان اپنی بیوی کو لے کر اپنے گھر پہنچا اس نے دروازہ کھولا اور دلہن نے اپنا ایک پاوں ابھی اندر داخل کیاہی تھا کہ اسے گھڑے پر پڑا ہوا روٹی کا ٹکڑا نظر آگیا اور اس نے اپنا پاوں باہر نکالیا اور کہنےلگی یہ کیاہے ۔دلہا بولا میرا کھانا پکانے والا کوئی نہیں ہے میں نے سحری کے وقت روزہ رکھنے کے لے روٹی پکای تھی آدھی روٹی افطاری کے لے رکھی ہے۔ شہزادی کہنے لگی تمہارا ایمان بہت کمزور ہے اللہ کے بندے ،جو ذات تمہیں سحری کھلا سکتی ہے وہی تمہاری افطاری کا بھی بندوبست کرسکتی ہے ۔اس گھر میں یا روٹی رہے گی یا میں رہوں گی جاؤ پہلے اسے اللہ کی راہ میں صدقہ کرکے آو پھر میں تمھارے گھر میں قدم رکھوں گی۔ اس نوجوان نے اللہ کی راہ میں ایک روٹی صدقہ کردی اور اللہ نے اس ایک روٹی کا صدقہ کرنے میں ایسی برکت ڈالی کے کبھی روزی کا مسلہ ہوا ہی نہیں کیونکہ ان کا ایمان صرف اللہ پر تھا وہ جانتے تھے کہ اللہ وہ ہے جو پرندوں چرندوں کو کھلا سکتا ہے تو ہم تو اشرف المخلوقات ہیں ہمیں کیسے بھوکا مرنے دے گا؟ پھر وہی ہوا اللہ نے ایک روٹی صدقہ کرنے کی وجہ سے ساری زندگی کے لیے رزق کا اہتمام کر دیا سبحان اللہ ۔ کتنا ایمان مضبوط تھا ان کا آج ہمارے گھروں میں یہ مثال کہیں نہیں نظر آتی نہ ہم مرد وں میں نہ عورتوں میں شاید کہیں ہو ممکن بھی ہے اللہ ہمیں صبر وشکر کی دولت سے مالامال کردے ہمارے گھروں میں برکتیں اور رحمتیں نازل کرے آمین

Leave a Comment