اسلامک معلومات

نیکی کا حکم دو برائی سے روکو

قرآن مجید میں بہت سی جگہوں پر کہا گیا ہے نیکی کا حکم دو برائی سے روکو _ سوال یہ ہے کہ کیا برائی سے روکنے کیلئے بندے کا پرفیکٹ ہونا لازم ہے؟ سوشل میڈیا پر _ ہماری سوسائیٹی میں ایک کنسپٹ گردش کر رہا ہے کہ تم روک رہے ہو کیا تم پرفیکٹ ہو ؟ مجھے تو کہیں بھی برائی سے روکنے کیلئے پرفیکٹ ہونے والی بات نہیں پڑھنے کو ملی _ہاں اتنا سورہ بقرہ کی آیت نمبر 44 میں لکھا ہے کہ تم دوسروں کو نیک کام کرنے کا کہتے ہو اور خود کرتے نہیں (کیا یہ عقل کی بات ہے؟)
اگر پرفیکٹ ہونا لازم ہوتا تو کیا اللہ کو نہیں معلوم کہ کوئی انسان پرفیکٹ نہیں ہے _

کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک انسان جو خود کسی برائی سے دور ہے وہ باقی لوگوں کو اس برائی سے روک سکتا ہے _ اور اسے ہر صورت روکنا چاہئیے
مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ قرآن مجید کی امر “بالمعروف ونہئ عن المنکر” آیات کو بے-اثر کرنے کیلئے کبھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اچھائی کا حکم دینے کیلئے پرفیکٹ رہو _ تو کبھی برائی سے روکنے والے کہہ دیا جاتا ہے کہ مجھے جج نہ کرو __
آپ کا کیا خیال ہے؟؟؟

Leave a Comment