اسلامک واقعات

ننھے بچے اور ماں کی بددعا کی قبولیت کا اندوہناک واقعہ..پڑھ کر آنسو آجایئں

ننھے بچے

ننھے  بچے نے کوئی ایسی شرارت کی کہ اس کی ماں کی برداشت سے یہ شرارت باہر تھی۔ بس… پھر کیا تھا ماں آپ سے باہر ہوگئی اور لگی بددعائیں دینے۔ اللہ کرے تو اس کھڑکی سے نیچے گلی میں گر کر مرجائے۔ آہ…!!! شاید یہی منحوس گھڑی کہ اس کی بددعا قبول ہوگئی ۔ننھے بچوں اور ماؤں بہنوں اور والدین کیلئے عبرت انگیز واقعہ جو کہ پشاور کے ایک بازار کریم پورہ کا ہے۔

واقعہ کو بیان کرنے سے پہلے تجربے کی بات بتادوں‘ دُعا اور بددعا کے اثرات ضرور بالضرور وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ چاہے فوراً اسی وقت یا کچھ دیر بعد… اسی لیے بڑوں نے کہا ہے کہ ہر وقت اچھا سوچنا چاہیے اور کسی کے متعلق جو کچھ کہنا ہو اچھا ہی کہنا چاہیے اور اپنے آپ کو اور اپنی زبان کو بددعا سے بچانا اور روکے رکھنا اس میں آپ ہی کی بھلائی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ بددعا کے بدلے دعا دینا قبولیت کی منتظر رہتی ہے۔ کوئی بھی وقت قبولیت کا ہوسکتا ہے جیسا کہ جو میں بیان کرنے والا ہوں وہ مائیں‘ بہنیں اور باپ ۔۔۔اگر ان کو بددعا کی عادت ہے تو شاید کہ ان کے دلوں میں میری با ت ا تر جائے اور مجھے بھی اس نیکی کا اجرو ثواب ملے اور آئندہ سے بددعا کی لعنت سے بچنے کی کوشش کریں۔ اپنے لیے‘ میرے لیے اور سب کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرنے میں بخل سے بالکل بھی کام نہ لیں ۔جیسا کہ میں پہلے بتا  چکا ہوں کہ بازار کریم پورہ چونکہ یہ آبادی ہندوؤں کی تھی تو تقسیم کے بعد مہاجر جو کہ یہاں آئے تو ان مہاجرین کو یہ مکا نات الاٹ کیے گئے۔ تین چار منزلہ عمارتیں تو عام ہیں ان میں ایک چار منزلہ عمارت میں شادی ہورہی تھی۔

گھر میں ہر طرف خوشی کا اظہار ہورہا تھا‘  ننھے بچے‘ بچیاں سبھی اپنے اپنے مزاج کے مطابق خوشیوں کا برملا اظہار کررہے تھے۔ ایک بچہ ان تمام بچوں میں سب سے زیادہ شرارتی تھا۔ تھوڑی تھوری دیر بعد اس بچے کی ماں کو شکایت کی جاتی۔ بچہ بڑا صحت مند اور خوش شکل تھا جس کمرے میں سب بیٹھے تھے ۔بچے کھیلتے کھیلتے اس کمرے میں پہنچ گئے۔ بچوں نے اس کمرے کو اپنا کھیل کا میدان بنالیا اور لگے شرارتیں کرنے۔ اب بچے کی ماں دیکھ ہی تھی کہ اس بچے نے کوئی ایسی شرارت کی کہ اس کی ماں کی برداشت سے یہ شرارت باہر تھی۔ بس… پھر کیا تھا ماں آپے سے باہر ہوگئی اور لگی بددعائیں دینے۔ اللہ کرے تو اس کھڑکی سے نیچے گلی میں گر کر مرجائے۔ آہ…!!! شاید یہی گھڑی کہ اس کی بددعا قبول ہوگئی اور آناً فاناً چار پانچ سالہ بچہ پلک جھپکتے ہی جیسے کسی نادیدہ طاقت نے اسے اٹھایا اور کھڑکی سے باہر گلی میں پھینک دیا۔ حالانکہ کھڑکی اس بچے کے قد سے دُگنی اونچی تھی۔ آہ…!!! اس بددعا دینے والی ماں کا حال قابل دید تھا۔ اب پچھتائے کیا ہوت…!!! شادی کا گھر ماتم کدہ بن گیا۔دس پندرہ دنوں کے بعد وہ ماں بھی بچے کا غم لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔

ایسا غم اللہ کسی کو نہ دکھائے۔میری تمام بہنوں اور ماؤں اور والد صاحبان سے گزارش ہے کہ اپنی زبانوں کو قابو میں رکھیں تو بہتر ہے۔بد دعا چند الفاظ سے بنا ایک چھوٹا سا لفظ ہے ، جو زبان سے بڑی آسانی کے ساتھ ادا ہوجاتا ہے ، لیکن اس کے اثرات انتہائی دور رس ہوتے ہیں ، اس کے اثر سے آبادیاں ویرانوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، دولت وثروت کے جھولوں میں جھولتے ہوئے خاندان فقیری و محتاجی کی چکی میں پس کر سرکوں اور بازاروں میں بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں ، تندرست اور توانا خوب صورت جسم بیماریوں کا شکار ہوکر ہڈیوں کا پنجر بن جاتے ہیں   ،اور حکومت و اقتدار کی سرمستیوں سے جھومتے ہوئے سر ذلت ورسوائیوں کے عمیق غاروں میں گر کر اہل دنیا کے لئے عبرت وموعظت کا نشان بن جاتے ہیںماں کی دعا ؤ ں کو قبولیت حاصل ہے ۔بچو ں کی جسمانی نشوونما اور اخلا قی اور روحانی تر بیت یہ والدین کی ذمہ دا ری ہو تی ہے ۔ جو والدین اس ذمہ دا ری کو احسن انداز میں پو را کر تے ہیں ان کی اولاد دنیا میں ان کے لئے راحت و آرام کا سبب بنتی ہے اور آخرت میں تر قی درجات کا سبب بنتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اولاد کی ذمہ داریا ں پو ری کر نے کی تو فیق عطا فرمائے  اللہ مہربان ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔ننھے  بچے نے کوئی ایسی شرارت کی کہ اس کی ماں کی برداشت سے یہ شرارت باہر تھی۔

بس… پھر کیا تھا ماں آپ سے باہر ہوگئی اور لگی بددعائیں دینے۔ اللہ کرے تو اس کھڑکی سے نیچے گلی میں گر کر مرجائے۔ آہ…!!! شاید یہی منحوس گھڑی کہ اس کی بددعا قبول ہوگئی ۔ بچوں اور ماؤں بہنوں اور والدین کیلئے عبرت انگیز واقعہ جو کہ پشاور کے ایک بازار کریم پورہ کا ہے۔ واقعہ کو بیان کرنے سے پہلے تجربے کی بات بتادوں‘ دُعا اور بددعا کے اثرات ضرور بالضرور وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ چاہے فوراً اسی وقت یا کچھ دیر بعد… اسی لیے بڑوں نے کہا ہے کہ ہر وقت اچھا سوچنا چاہیے اور کسی کے متعلق جو کچھ کہنا ہو اچھا ہی کہنا چاہیے اور اپنے آپ کو اور اپنی زبان کو بددعا سے بچانا اور روکے رکھنا اس میں آپ ہی کی بھلائی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ بددعا کے بدلے دعا دینا قبولیت کی منتظر رہتی ہے۔ کوئی بھی وقت قبولیت کا ہوسکتا ہے جیسا کہ جو میں بیان کرنے والا ہوں وہ مائیں‘ بہنیں اور باپ ۔۔۔اگر ان کو بددعا کی عادت ہے تو شاید کہ ان کے دلوں میں میری با ت ا تر جائے اور مجھے بھی اس نیکی کا اجرو ثواب ملے اور آئندہ سے بددعا کی لعنت سے بچنے کی کوشش کریں۔ اپنے لیے‘ میرے لیے اور سب کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرنے میں بخل سے بالکل بھی کام نہ لیں

۔جیسا کہ میں پہلے بتا  چکا ہوں کہ بازار کریم پورہ چونکہ یہ آبادی ہندوؤں کی تھی تو تقسیم کے بعد مہاجر جو کہ یہاں آئے تو ان مہاجرین کو یہ مکا نات الاٹ کیے گئے۔ تین چار منزلہ عمارتیں تو عام ہیں ان میں ایک چار منزلہ عمارت میں شادی ہورہی تھی۔ گھر میں ہر طرف خوشی کا اظہار ہورہا تھا‘ بچے‘ بچیاں سبھی اپنے اپنے مزاج کے مطابق خوشیوں کا برملا اظہار کررہے تھے۔ ایک بچہ ان تمام بچوں میں سب سے زیادہ شرارتی تھا۔ تھوڑی تھوری دیر بعد اس بچے کی ماں کو شکایت کی جاتی۔ بچہ بڑا صحت مند اور خوش شکل تھا جس کمرے میں سب بیٹھے تھے ۔بچے کھیلتے کھیلتے اس کمرے میں پہنچ گئے۔ بچوں نے اس کمرے کو اپنا کھیل کا میدان بنالیا اور لگے شرارتیں کرنے۔ اب بچے کی ماں دیکھ ہی تھی کہ اس بچے نے کوئی ایسی شرارت کی کہ اس کی ماں کی برداشت سے یہ شرارت باہر تھی۔ بس… پھر کیا تھا ماں آپے سے باہر ہوگئی اور لگی بددعائیں دینے۔ اللہ کرے تو اس کھڑکی سے نیچے گلی میں گر کر مرجائے۔ آہ…!!! شاید یہی گھڑی کہ اس کی بددعا قبول ہوگئی اور آناً فاناً چار پانچ سالہ بچہ پلک جھپکتے ہی جیسے کسی نادیدہ طاقت نے اسے اٹھایا اور کھڑکی سے باہر گلی میں پھینک دیا۔

حالانکہ کھڑکی اس بچے کے قد سے دُگنی اونچی تھی۔ آہ…!!! اس بددعا دینے والی ماں کا حال قابل دید تھا۔ اب پچھتائے کیا ہوت…!!! شادی کا گھر ماتم کدہ بن گیا۔دس پندرہ دنوں کے بعد وہ ماں بھی بچے کا غم لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ ایسا غم اللہ کسی کو نہ دکھائے۔
میری تمام بہنوں اور ماؤں اور والد صاحبان سے گزارش ہے کہ اپنی زبانوں کو قابو میں رکھیں تو بہتر ہے۔بد دعا چند الفاظ سے بنا ایک چھوٹا سا لفظ ہے ، جو زبان سے بڑی آسانی کے ساتھ ادا ہوجاتا ہے ، لیکن اس کے اثرات انتہائی دور رس ہوتے ہیں ، اس کے اثر سے آبادیاں ویرانوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، دولت وثروت کے جھولوں میں جھولتے ہوئے خاندان فقیری و محتاجی کی چکی میں پس کر سرکوں اور بازاروں میں بھیک مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں ، تندرست اور توانا خوب صورت جسم بیماریوں کا شکار ہوکر ہڈیوں کا پنجر بن جاتے ہیں   ،اور حکومت و اقتدار کی سرمستیوں سے جھومتے ہوئے سر ذلت ورسوائیوں کے عمیق غاروں میں گر کر اہل دنیا کے لئے عبرت وموعظت کا نشان بن جاتے ہیں ماں کی دعا ؤ ں کو قبولیت حاصل ہے ۔بچو ں کی جسمانی نشوونما اور اخلا قی اور روحانی تر بیت یہ والدین کی ذمہ دا ری ہو تی ہے ۔ جو والدین اس ذمہ دا ری کو احسن انداز میں پو را کر تے ہیں ان کی اولاد دنیا میں ان کے لئے راحت و آرام کا سبب بنتی ہے اور آخرت میں تر قی درجات کا سبب بنتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اولاد کی ذمہ داریا ں پو ری کر نے کی تو فیق عطا فرمائے  اللہ مہربان ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

Leave a Comment