قصص الانبیا ء

نماز کی ادائیگی سے فوائد وثمرات آج ہمیں کیوں حاصل نہیں ہوتے؟

۔نماز کے فوائد:

1_ اللہ تعالی کے سامنے بندہ کی دن میں پانچ مرتبہ حاضری اس کے دل میں احساس تازہ رکھتی ہے ۔کہ وہ اپنے اللہ کابندہ ہے

2_ دن میں پانچ مرتبہ قرب الہی کا احساس مسلمان کو یقین دلاتا ہے۔ کہ اللہ تعالی ہر وقت اس کے ساتھ ہے۔ یہ کبھی خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا اللہ تعالی کے ساتھ ہونے کا احساس گناہ کے کاموں سے روکتا ہے۔ اور اس کے دل سے ہر قسم کا خوف اور غم دور کر دیتا ہے۔

 

نماز کی ادائیگی کے اثرات

3۔ نمازوں کے درمیانی وقفے میں بھی نمازوں کے اثرات تاریخ ساری رہتے ہیں۔نماز کے بعد گناہ کا خیال آئے تو بندہ سوچتا ہے۔ کہ ابھی تو آپ نے اللہ سے دعا کر کے آیا ہوں۔ کہ اے اللہ مجھے گناہوں سے بچا ۔ اپنی گناہ کا کام کروں گا تو کچھ دیر بعد اس کے سامنے کیا منح لے کر جاؤں گا یہ چیز سے مستقلا گناہ سے روکے رکھتی ہے۔

4۔ اللہ تعالی کی عبادت اور اس کی خوشنودی کے حصول کے سلسلے میں پانچ مرتبہ باہم ملنے والے افراد کے درمیان محبت و یگانگت پیدا ہوتی ہے۔۔ جس سے سب کو فائدہ پہنچتا ہے۔

5۔ نماز باجماعت سے اور بطور خاص جمعہ اور عیدین کی نمازوں سے مسلمانوں میں اجتماعیت کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ جب مسلمان رنگ نسل علاقے اور طبقہ کے امتیازات سے بے نیاز ہو کر شانے سے شانہ ملا کر ایک امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں ۔تو اس سے ان کے دنیا و آخرت کے ساتھ ساتھ اپنی مساوات کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔

6۔ اجتماعی شکل میں انجام پانے والے اعمال کی کیفیات انفرادی اعمال کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔اسی لئے استعمال نماز کا ثواب انفرادی نماز کے مقابلے میں 27 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
7۔ نمازیوں کا مسجد میں آتے جاتے دیکھ کر بے نمازوں کو ترغیب تخلیص ہوتی ہے۔  وہ بھی نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔

8۔ نمازیو میں امام کا تقرر اور اس کی پیروی اجتماعی نظم و ضبط کا شعور پیدا کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نماز باجماعت کے لیے مسجد میں نہ پہنچنے والے افراد کے لیے فرمایا تھا۔ کہ جو لوگ نماز کیلئے مسجد میں نہیں آتے ا۔گر مجھے ان کے بیوی بچوں کا خیال نہ ہوتا ۔تو میں ان کے گھر کو آگ لگا دیتا۔

بے روح نمازیں

 

نماز کی ادائیگی سے متذکرہ فوائد وثمرات آج ہمیں کیوں حاصل نہیں ہوتے؟ غور فرمائے ہم میں سے کتنے افراد ہیں جو نماز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں اس کے کلمات و اطوار کے معنی و مفہوم سے ناآشنا ہیں۔

نماز میں حضور قلب سے بہرہ مند ہے اور نماز کے اہم ترین مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں قرآن کریم میں نماز کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ہے بے حیائی اور بری بات سے ہماری نمازیں بے حقیقت ہے ایسے ہی جیسے کوئی پھول ہو بغیر خوشبو کرے یا جسم ہو۔

Leave a Comment