اسلامک واقعات دلچسپ وعجیب

نقش سلیمان علیہ اسلام اور جا دوگروں کا واقعہ

نقش سلیمان

معزز خواتین وحضرات! سیدنا سلیمان علیہ السلام کے پاس ایک انگوٹھی تھی جس پر اللہ کا نام کندہ تھا۔ جب آپ علیہ السلام غسل خانے جاتے تو وہ انگوٹھی اپنی بیوی جرادہ یا بعض روایات کے مطابق اپنی خادمہ امینہ کی حفاظت میں دے جاتے۔ ایک روز آپ غسل کے لیے تشریف لے گئے تو صخرہ نام کا شیطان جو آپ کا بہت مخالف تھا۔ وہ آپ کی شکل میں آیا اور آ پ کی بیوی سے انگوٹھی لے لی۔ انگوٹھی کا آپ سے جدا ہونا تھا کہ تخت و تاج اور سلطنت سبھی کچھ آپ کے ہاتھ سے جاتا رہا۔

سب چیزوں پر شیطان کا قبضہ ہو گیا۔ آپ نہایت پریشانی کے عالم میں محل سے نکل گئے۔ اس شیطان نے چالیس دن حکومت کی۔ اصول و ضوابط اور احکام میں تبدیلی نے علما اور دیگر اہلِ دربار و اہل خانہ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہ سلیمان علیہ السلام نہیں اور اگر سلیمان علیہ السلام ہی ہیں تو کیا ان کا شعور و ادراک درست کام کر رہا ہے۔ علما نے اس کا حل یہ نکالا کہ تخت کے اردگرد تورات کھول کر بیٹھ گئے اور کلامِ الہٰی کی تلاوت شروع کر دی۔ شیطان کے چہار جانب خدا کا کلام پڑھنے سے وہ تیزی سے بھاگ نکلا اور انگوٹھی سمندر میں پھینک دی۔ ادھر سلیمان علیہ السلام چلتے چلتے مچھیروں کی بستی کی طرف جا نکلے تھے اور مچھیرے کے ہاں ملازمت کر لی۔ دن بھر کے کام کاج کے بعد اجرت کے طور پر آپ کو دو مچھلیاں دی جاتیں۔ ایک روزآپ علیہ السلام بھوک سے بے حال ہو رہے تھے جلدی سے مچھلی صاف کرنے کے لیے اس کا پیٹ چاک کیا تو مچھلی کے پیٹ سے انگوٹھی نکل آئی۔ انگوٹھی کا ملنا تھا کہ اسی لمحہ پرندوں کے جھنڈ نے آ کر آپ پر سایہ کر لیا۔ آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ عوام و خواص نے آپ علیہ السلام کو پہچان لیا اور معذرت طلب کی۔ بہرحال آپ نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش جانا ۔ اورنگ سلیمان، تختِ سلیمان یا کرسی ء سلیمان کے متعلق تفسیر ابنِ کثیر میں بیان کیا ہے کہ یہ ہاتھی دانت کا بنا ہوا تھا۔ قیمتی ہیرے جواہرات، یاقوت اصل فیروزہ اور زمرد سے سجا ہوا تھا۔ چاروں طرف سونے کی اینٹوں سے حاشیہ بنا ہوا تھا۔ چاروں کونوں پر چاندی کے درخت اور سونے کی ڈالیاں تھیں۔ پتے زمرد کے تھے۔ خوشے موتیوں سے لدے ہوئے تھے جو انگوروں کے خوشوں سے مماثل تھے۔

ہر درخت پر طوطی اور مور موجود تھے۔ بعض مقامات پر سونے کے گدھ کی موجودگی بھی بیان کی گئی ہے۔ تختِ سلیمان کے حدود اربعہ کا تعین بھی کچھ آسان نہیں۔ بعض مقامات پر اس کی لمبائی تین سو کوس بتائی گئی ہے۔تخت کی سجاوٹ اور طول و عرض کے سلسلے میں جو مختلف روایتیں بیان کی گئی ہیں ان میں مبالغہ بلکہ غلوسے کام لیا گیا محسوس ہوتا ہے۔قرآن پاک میں اس کی حقیقت یوں واضح کی گئی ہے کہ جب آپ تخت شاہی پر قدم رکھتے تو وہ ہیبت سے حرکت میں آ جاتا۔ ہوا کو حکم دیتے۔ ہوا اُسے لے اُڑتی اور جہاں پہنچانے کا حکم دیا جاتا وہاں پہنچا دیتی۔ دوران سفر پرندوں کے جھنڈ پورے تخت پر اپنے پروں کا سایہ کیے رکھتے۔ شام سے یمن اور یمن سے شام ایک ماہ کی مسافت پر تھا، لیکن یہ تخت آدھے دن میں لے جاتا۔’’ہم نے داؤد کو سلیمان نامی فرزند عطا فرمایا۔ جو بہت خوب بندے تھے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ جب شام کے وقت ان کے سامنے خاص تیز دوڑنے والے گھوڑے پیش کیے گئے تو کہنے لگے میں نے اپنے پروردگار کی یاد پر ان گھوڑوں کی محبت کو ترجیح دی۔ یہاں تک کہ سورج پردے میں چھپ گیا۔ تو بولے کہ ان کو واپس لاؤ۔ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔ ‘”حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ ء بادشاہت میں ان کے سامنے شاہی اصطبل کے گھوڑے پیش کیے گئے۔ جہاد کی غرض سے پرورش کیے گئے ان گھوڑوں کی بہت دیکھ بھال کی جاتی تھی۔ ایک قول کے مطابق ان کی تعداد بیس تھی۔ بعض روایات میں ان کی تعداد ایک ہزار ہے۔

ابراہیم تمیمی نے ا ن کی تعداد بیس ہزار بتائی ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام ان گھوڑوں کے قدو قامت اور صحت دیکھ کر خوش ہو رہے تھے اور انھیں دیکھنے میں اس حد تک محو ہوئے کہ عصر کی نماز، وظیفے یا دُعا کا وقت نکل گیا۔ جب انھیں اس بات کا احساس ہوا تو بہت پشیمان ہوئے۔ اسی غم و غصے کی حالت میں دوبارہ گھوڑے منگوائے اور تمام گھوڑے ذبح کر دیے جو اس کوتاہی کا سبب بنے تھے کہ میں ایسی چیز اپنے پاس رکھنا ہی نہیں چاہتا، جو مجھے خدا کی یاد بھلا دے، چنانچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں۔ ان کی گردنیں مار دی گئیں۔ اللہ کی رضا اور محبت کے لیے بہترین گھوڑے، اظہارِ ندامت میں ذبح کرنے پر اللہ کو ان کی قربانی پسند آئی اور انھوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایک اور ایسے انعام سے نوازا جو صرف انھی سے مخصوص ہے، یعنی ہوا ان کے لیے مسخر کی گئی۔ دوسری روایت جو حضرت حسن بصریؒ سے منسوب ہے، وہ یہ ہے کہ گھوڑوں کی دیکھ بھال میں نماز عصر ذہن سے محو ہو گئی۔ جب وقت نکل گیا تب یاد آیا۔ گھوڑوں کو اصطبل سے دوبارہ منگوایا اور ان کی گردنوں پر، پنڈلیوں پر ہولے ہولے مارنا شروع کیا اور فرمایا کہ آئندہ تم اللہ کی یاد میں مخل نہ ہونا۔تیسری روایت عبداللہ بن عباس سے ہے، جہاں نماز عصر کے قضا ہونے کا کہیں ذکر نہیں ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ جہاد کی تیاری کے لیے گھوڑوں کا معائنہ کیا اور انھیں بہترین حالت میں پایا تو خوش ہو کر فرمایا کہ ان گھوڑوں سے میری محبت ایسی مالی محبت میں شامل ہے جو اللہ ہی کی یاد کا ایک حصہ ہے۔ گھوڑوں کے جانے کے بعد انھیں واپس بلایا تو صرف اس خیال سے کہ وہ جہاد میں شریک ہوں گے تو آلات جہاد سے مانوس کرنے کے لیے یہ آلات و ہتھیار ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر پھیرنے لگے کہ کہیں وقتِ جہاد، نامانوسیت کی بنا پر وہ ان سے خوفزدہ نہ ہو جائیں۔اسی طرح ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو اپنی غفلت پر افسوس ہوا،

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کا استغفار قبول ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں گھوڑوں سے کہیں زیادہ بہتر اور تیز رفتار سواری ہوا کی عطا فرما دی۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا گیا تھا، جس کی مدد سے وہ جہاں چاہتے بہت جلد بغیر کسی مشکل اور مشقت کے آسانی سے پہنچ جاتے تھے۔حضرت داؤد علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا کیا گیا تھا کہ پہاڑوں اور پرندوں کو ان کے لیے مسخر کر دیا گیا تھا۔ یعنی جب داؤد علیہ السلام تلاوت فرماتے تو پہاڑ اور پرندے خود بخود ان کی آواز میں آواز ملا کر تلاوت کرنے لگتے۔ ان کے حکم کے منتظر نہ رہتے، جبکہ ان کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہوا کو مسخر کیا۔ ہوا ان کے حکم کے تابع تھی۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کو کہیں جانا ہوتا، ہوا کو حکم دیا جاتا وہ وہاں پہنچا دیتی۔ جہاں آپ علیہ السلام اترنا چاہتے وہاں اتار دیتی۔ جب آپ علیہ السلام واپسی کا حکم دیتے آپ علیہ السلام کو مطلوبہ جگہ پہنچا دیتی۔اورنگِ سلیمان یعنی تختِ سلیمان بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے ایک بڑا انعام تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا حکم ملتے ہی ہوا، اس عظیم الشان تخت کو لے اُڑتی اور جہاں پہنچانے کا حکم ہوتا، وہاں جا کر اتار دیتی۔ یہ ہوائی تخت صبح سے دوپہر تک ایک مہینے کی مسافت طے کر لیتا تھا اور دوپہر سے شام تک ایک مہینے کی۔ یعنی ایک دن میں وہ دو ماہ کی مسافت طے کر لیا کرتا تھا۔ایک اہم صفت اس ہوا کی یہ تھی کہ یہ ہوا سخت اور تیز بھی تھی اور نرم اور ہلکی بھی۔ یہ دونوں متضاد صفات اس میں یکجا کر دی گئی تھیں۔ ہوا اپنی ذات میں بہت تیز اور سخت تھی۔ جس کے باعث مہینوں کا فاصلہ گھنٹوں میں طے کر لیتی لیکن نرم ایسی کہ فضا میں گردوغبار اور تلاطم پیدا نہ ہوا کرتا۔ تخت ہوا کے زور پر روانہ ہوتا لیکن پرندے اس کی شدت سے محفوظ رہتے۔امام رازیؒ کے مطابق حضرت سلیمان ایک مرتبہ شدید علیل ہوئے۔ حالت اس قدر غیر ہوئی کہ تخت پر بٹھائے گئے تو جسم بے روح معلوم ہو رہا تھا۔

جب اللہ نے انھیں صحت عطا کی تو انھوں نے پہلے اپنی مغفرت طلب کی اور پھر بے چارگی کا اظہار کیا اللہ رب العزت ارشاد فرما تے ہے “بے شک ہم نے سلیمان کو آزمایا اور ڈال دیا ہم نے اس کی کرسی پر ایک جسم پھر وہ اللہ کی جانب رجوع ہوا۔ کہا اے پروردگار میری مغفرت کر اور مجھے ایسی بادشاہت عطا کر کہ میرے بعد کسی کے شایانِ شان نہ ہو۔ بے شک تو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔ ‘‘چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دُعا قبول کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سے انعامات اور اعزازات سے نوازا۔ وہ معجزے عطا کیے کہ جن کے سبب آپ علیہ السلام نے بنی نوع جن و انس کے لیے بے شمار مفید و تعمیری کام سرانجام دیے۔’’ہم نے سمندروں کی بادِ تند سلیمان کے لیے مسخر کر دی تھی۔ ‘‘ ۴۱؎ حضرت سلیمان علیہ السلام ہی وہ پہلے فرد تھے کہ جنھوں نے بحری سفر کا ذریعہ دریافت کیا اور اس سے مملکت کی فلاح و بہبود کا کام لیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں ہندوستان اور مغربی جزائر تک تجارتی آمدورفت کا ایسا سلسلہ بن گیا تھا کہ جس سے ملکی تجارت کو بہت وسعت ملی اور درآمدات و برآمدات میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ فلسطین کے مغرب و شمال میں بحرِ متوسط اور جنوب میں بحر احمر موجود ہے۔ ان دونوں سمتوں کے درمیان جہازوں کے سفر کے لیے متضاد سمتوں سے چلنے والی ہوائیں سفر آسان کر دیتیں۔حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کو خدا کی طرف سے جو معجزے عطا ہوئے تھے۔ وہ صلاحیتیں اور استعداد جن سے تمام انسان محروم تھے، خدا نے انھیں بخش دی تھیں۔ قوم شیطان نے بنی اسرائیل کو راہ سے بھٹکانے کے لیے یہ الزام عائد کیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نعوذ باللہ جادو گر تھے۔ سحر اور ٹونے کے زور پر وہ اتنا عرصہ شاندار حکومت کرتے رہے۔

شیطان نے جنوں اور انسانوں کو طرح طرح کے بہکاوے دیے۔ جادو کے نئے نئے انداز سکھائے اور انھیں کتابی صورت میں بھی ترتیب دیا۔ نتیجتاً بنی اسرائیل تورات و زبور کو پسِ پشت ڈال کر اس جادو کی کتاب کو الہامی کتاب سمجھنے لگے۔ جادو سیکھنے اور سکھانے کا عمل تیز تر ہوتا گیا۔ وہ جو اہل شعور تھے، اہلِ ایمان تھے۔ انھوں نے اپنی قوم کو اس خرافات سے باز رکھنے کی کوشش کی تو انھوں نے جواب دیا کہ اس علم کو غلط کیسے کہا جا سکتا ہے، جو حضرت سلیمان علیہ السلام کا سکھایا ہوا ہے اور اسی علم کے زور پر وہ جن و انس اور وحوش و طیور پر اتنی شان سے حکومت کر گئے۔ ان خرافات کا آغاز حضرت سلیمان علیہ السلام کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا۔ یہ بات بھی پھیلا دی گئی تھی کہ جن علم غیب کے مالک ہیں، جبکہ علم غیب صرف اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہے۔ جب یہ بات مشہور ہو گئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے شیاطین کی تمام تحریروں کو حاصل کر کے اپنے عظیم الشان تخت کے نیچے دفن کر دیا تاکہ کوئی اُن تک پہنچ نہ سکے اور وہاں سے انھیں نکالا نہ جا سکے۔ ساتھ ہی حضرت سلیمان علیہ السلام نے اعلان کیا کہ جو جنوں کو علمِ غیب کا جاننے والا مانے گا اور جادو پر عمل کرے گا، وہ واجب القتل ہے۔ اسی اثنا میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ شیاطین کو آزادی مل گئی۔ انھوں نے بغیر خوف کے وہ پلندہ جو جادو سے متعلق ان کے تخت کے نیچے دفن تھا، نکال لیا اور مشہور کر دیا کہ یہ دیکھو یہ جادو کا علم ہمارا نہیں بلکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا ہے اور اسی کے زور پر وہ ہواؤں کو تسخیر کرتے، جنوں کو تابع رکھتے اور پرندوں سے گفتگو کر لیا کرتے تھے۔ یوں شیاطین نے جادو کے برحق ہونے کا جواز پیدا کر لیا۔

اب ایسے میں کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور دیگر کوئی نبی ان کی راہِ ہدایت کے لیے ابھی سامنے نہیں آیا۔ قوم کے بگڑنے کے امکانات بڑھتے جا رہے تھے۔اتارا گیا۔ یہاں وہ ایک حسین عورت زہرہ کے عشق میں گرفتار ہوئے۔ اس نے شراب نوشی، بت پرستی اور قتل و غارت گری، شرطِ دوستی رکھی۔ جس پر انھوں نے یہ تمام کام کیے۔ زہرہ نے ان سے آسمان کی طرف پرواز کرنے کا اسمِ اعظم سیکھا۔ اسے پڑھ کر وہ آسمان پر چلی گئی اور یہ دونوں فرشتے خدا کے عذاب سے بچ نہ سکے اور بابل کے کنویں میں قید الٹے لٹکے ہوئے ہیں اور جادو سیکھنے والوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ تمام تفصیلات بنی اسرائیل نے گھڑی ہیں جبکہ قرآن پاک میں صرف اتنا بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر جادو کی نسبت الزام تراشی کی ہے جبکہ یہ کام شیاطین کا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کا نہ تھا۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں بھی اپنی رضا والی زندگی نصیب فرما ئے اور شرور وفتن سے محفوظ رکھے ۔۔۔آمین۔ ثم آمین۔ اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

Leave a Comment