اسلامک معلومات

نفس کی خواہشات کیوں اندر ہی اندر ہمیں ختم کرتی رہتی ہے؟

کبھی کبھی ہم ایسے گناہوں میں ڈوبے ہوتے ہیں جن سے ہم بری طرح چھٹکارا چاہتے ہیں لیکن ہمارا نفس ہمیشہ بازی لے جاتا ہے-جب گناہ کرنے کا دل للچاتا ہے تو ہم اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں بس آخری دفعہ اس کے بعد نہیں کرونگا/کرونگی- لیکن جب ہم وہ گناہ کر لیتے ہیں تو بعد میں ہمیں گلٹ ہونے لگتا ہے کہ کاش ایسا نا کیا ہوتا کاش میں خود کو روک لیتا اور پھر ہم اپنے آپ کو خوب سارا کوستے ہیں-اور یہ گلٹ ہمیں اندر ہی اندر کھانے لگتا ہے ہمیں ہر کوئی اچھا لگنے لگتا ہے بس اپنا آپ ہی برا لگ رہا ہوتا ہے-صرف ایک برائی کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو پست پشت ڈالنا شروع کر دیتے ہیں-ہم اس برائی کو چھوڑنے کے خواہا تو ہوتے ہیں لیکن ہمارے ارادے اتنے مضبوط نہیں ہوتے-اندر ہی اندر ہم کہیں جھجھک رہے ہوتے ہیں-

ایس نفسیاتی خواہش سے بچنے کا بہترین طریقہ نماز ہے-بعص لوگ نماز اس لیے بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ نماز پڑھنے کا بھلا کیا فائدہ جب میں نے وہی گناہ بار بار کرنا ہے-ایسا نہیں ہے! آپ کو سب سے پہلے اس بات کا یقین کرنا ہوگا کہ آپ جس بھی برائی میں پڑے ہو اس کو چھوڑنا ناممکن نہیں ہے-آپ نماز پڑھو اس سے ہدایت طلب کرو-ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ آپ اللہ سے ہدایت طلب کریں اور وہ آپ کو عطا نا کرے-ہدایت مانگتے رہو بار بار مانگتے رہو-اور پھر آپ دیکھو گے کہ آپ خود بخود اس گناہ سے دور ہوتے چلے جائیں گے-

اللہ ایسے اسباب بناتا چلا جاتا ہے کہ آپ اپنے نفس کی خواہشات سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں-لیکن اگر کچھ دنوں کے لیے آپ نے نجات پالی تو یہ نہیں کرنا کہ نماز ہی پڑھنا چھوڑ دیں یا اس سے ہدایت مانگنا چھوڑ دیں-اپنے لیے مسلسل دعا کرتے رہیں-اور اس کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں-

Leave a Comment