اسلامک واقعات

نفس اور ضمیرکی جنگ میں جیت گناہ کی

عائشہ ہمیشہ کی طرح آج بھی رات کو بستر پر لیٹے خود سے سوال کر رہی تھی۔ اب تو اس کا معمول ہی بن گیا تھا۔ جیسے ہی رات ہوتی، اس کے چہرے پر اداسی چھانے لگتی۔ یوں محسوس ہوتا جیسے باہر کے ساتھ ساتھ اس کے وجود میں بھی اندھیرا چھا رہا ہو۔ مگر یہ اداسی وہ اپنے گھر والوں پر ظاہر نہیں کر سکتی تھی کہ خوامخواہ کے سوالات پوچھے جاتے۔

اور ابھی تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ یہ اسے کس چیز کا غم ہے، پھر دوسروں کو کیا بتاتی۔ وہ بس سونے کے وقت کا انتظار کرتی اور جیسے ہی وہ بستر پر لیٹتی، سوچوں کا تسلسل بندھ جاتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی سوچیں سوالوں کا روپ دھار لیتیں اور آج بھی بھی وہ ایسے ہی سوچتے سوچتے خود سے سوال کرنے لگی۔ میں نے بیس سال گزار دیے اپنی زندگی کے اور اس طویل عرصے میں کیا کمایا ہے میں نے؟ بارہ جماعتوں کی پڑھائ اور گھر کے کچھ کام سیکھنے کےعلاوہ آتا ہی کیا ہے مجھے؟ کیا ہر لڑکی بیس سال کی عمر تک محض یہی سب سیکھتی ہے جو میں نے سیکھا ہے؟ کیا ہر انسان کو یونہی زندگی گزارنا ہوتی ہے؟ کیا زندگی اسی لیے ملی تھی کہ تھوڑا بہت پڑھ لوں اور گھر کے کام کر لوں؟ کیا روزانہ جو مجھے ایک مزید دن جینے کا موقع دیا جاتا ہے وہ اسی لیے ہے کہ میں کھانے پینے میں گزار دوں؟ کیا سب ایسے ہی جیتے ہیں؟ سوال تھے کہ بڑھتے ہی جا رہے تھے اور جواب ندارد۔ عائشہ انہی سوالوں میں الجھی ہوئ تھی کہ نفس پر یہ سب بھاڑی ہونے لگا۔

بھلا نفس کو کب اچھا لگتا ہے ضمیر کا سوال کرنا۔ نفس تو یہی چاہتا کے کہ اس کی خواہشات پوری ہوتی رہیں پھر چاہے ضمیر جو بھی کہے۔ خیر اس ضمیر اور نفس کی کشمکش میں عائشہ ضمیر کو خاموش کروا کر سو گئ۔ آج پھر ضمیر کی ہی ہار ہوئ اور نفس کی جیت۔ اور ضمیر کو خاموش تو انسان کروا دیتا ہے لیکن ضمیر بےچینی کو دل میں بھر دیتا ہے۔ اور یہی بےچینی اندھیرا ہوتے ہی بڑھنے لگتی ہے۔ اور شاید عائشہ کبھی یہ سمجھ نہ پائے گی کہ شام کو غم کیوں پر پھیلا لیتا ہے اور سکون کہاں غائب ہو جاتا ہے۔

Leave a Comment