اسلامک معلومات

نذر (منت) اور اسکی اقسام

.نذر (منت) اور اسکی اقسام

حدیث شریف:عن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‘‘ من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه ’’

( صحيح البخاري :6696 ، الإيمان – سنن أبوداؤد :3289 ، الإيمان – سنن الترمذي :1526 ، النذر والإيمان )

ترجمہ :جو شخص اس بات کی نذر مانے کہ وہ اللہ تعالٰی کی اطاعت کرے گا تو اُسے اللہ تعالٰی کی اطاعت کرنی چاہئے [اپنی نذر پوری کرنی چاہئے ] اور جو شخص نذر مانے کہ وہ اللہ تعالٰی کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ تعالٰی کی نافرمانی نہ کرے ۔{ صحیح بخاری ، سنن ابو داود }

تشریح : اپنے آپ پر کسی چیز کو واجب کرلینے کا نام نذر ماننا یا منّت ماننا ہے ۔

نذر(منت)

کی قِسمیں:

پہلی صورت

(1) یہ نذر کبھی مطلق ہوتی ہے. جیسے میں یہ نذر مانتا ہوں کہ روزانہ پچاس رکعت نفل پڑھوں گا. یا میں اللہ تعالٰی سے یہ عہد کرتا ہوں. کہ ہر ماہ دس دن کا روزہ رکھوں گا ، شرعی طور پر ایسی نذر ماننا پسندیدہ اگرچہ نہیں ہے. لیکن اگر نذر مان لٰی گئی تو اس کا پورا کرنا فرض و واجب ہے. یہ نذر ناپسندیدہ اس لئے ہے کہ بندے نے اپنے اوپر ایک ایسی چیز کو واجب کرلیا .جو اس پر شرعی طور پر واجب نہیں تھی اور بہت ممکن ہے کہ اس کی ادائیگی سے عاجز آجائے ،

دوسری صورت

(2) نذر

(منت)

کی دوسری صورت یہ ہے کہ کبھی کسی سبب کے ساتھ معلق کی جاتی ہے . جیسے اگر میرا بچہ شفایاب ہوگیا تو اللہ کے لئے ایک بکرہ ذبح کروں گا ، یہ نذر پہلی صورت سے بھی زیادہ ناپسندیدہ ہے .

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا : ” نذر نہ مانو اس لئے کہ نذر تقدیر سے کسی چیز کو دور نہیں کرتی ، سوا اسکے کہ نذر کی وجہ سے بخیل کچھ مال خرچ کردیتا ہے ” ۔ {بخاری ومسلم }

یعنی گویا یہ شخص اللہ کی راہ میں اسی وقت خرچ کرے گا. جب اس کا کسی قسم کا فائدہ ہوگا .اگر اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو اللہ تعالی کے راستے پر خرچ نہ کرے گا . البتہ اس کا بھی پورا کرنا ضروری اور واجب ہے ۔

تیسری صورت

(3) نذر(منت)

کی ایک تیسری صورت وہ ہوتی ہے. جس میں بندہ اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی نذر مانتا ہے . جیسے کوئی یہ کہے :میرا یہ کام ہوجائے تو فلاں مزار پر چراغ جلاوں گا یا چادر چڑھاؤں گا . یا کسی سے ناراض ہوکر اس سے بات نہ کرنے کی نذر مان لے . اس نذر کا حکم یہ ہے اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے بلکہ بسا اوقات اس نذر کا پورا کرنا کفر وشرک تک پہنچا دیتا ہے. البتہ اس نذر کو توڑنے کی وجہ سے اس پر قسم کا کفارہ واجب ہوگا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : ‘‘ کسی گناہ کے کام کی نذر نہیں ہے اور اس کا کفارہ ،قسم کا کفارہ ہے ’’{سنن ابو داود ، الترمذی }

قسم کا کفارہ

یعنی اگر کوئی شخص کسی گناہ کے کام کی نذر مانتا ہے. تو اس پر واجب ہے کہ اس نذر کو پورا نہ کرے .بلکہ اسے توڑ دے اور قسم کا کفارہ ادا کرے ،

قسم کا کفارہ :کفارہ یہ ہے ایک غلام آزاد کرنا ، یا(10) دس مسکینوں کو کھانا کھلانا. یا (10)دس مسکینوں کو کپڑا پہنانا.اور اگر ان تینوں کاموں سے کوئی ایک کام بھی نہ کرسکے .تو (3)تین دین کا روزہ رکھنا ۔

.زیر بحث حدیث میں نذر کی انہی صورتوں کا حکم بیان ہوا ہے .البتہ نذر کی اور ایک قسم بھی ہے

شُکرانے کی نذر :

اس کی صورت یہ ہوتی ہے .کہ کسی بندے کو مصیبت سے نجات مل گئی. اسے اولاد کی دولت نصیب ہوئی یا کسی خطرناک بیماری سے شفا مل گئی تو بطور .کے نذر مانے کہ میں نیکی کا یہ کام کروں گا. اس کا حکم یہ ہے کہ اسے پورا کرنا کارِ ثواب اور یہ ایک نیک عمل ہے ،
اللہ تعالٰی اپنے نیک بندوں کی تعریف فرماتا ہے: “يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا” ” جو نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے ” {الإنسان:7}

Leave a Comment