اسلامک معلومات

نجانے کس گلی میں زندگی کی شام ھو جائے ۔۔۔۔

وہ فوت ہو گیا… یار…! ابھی تو اکٹھے چائے پی ہے… ہاں یار، چائے پی کر روانہ ہوا، ایکسیڈنٹ ہوا، جوان موقع پہ ہی دَم توڑ گیا.
وہ فوت ہو گیا… یار…! کیسی باتیں کر رہے ہو رات شادی کی تقریب میں اکٹھے ہم دونوں گپ شپ کرتے رہے… ہاں یار، شادی سے واپسی پہ گھر آیا رات کو سویا شاید دل کا اٹیک ہوا پھر اُٹھ نہ سکا.
وہ فوت ہو گیا، یار…! ایسی بات بھی مذاق کرنے کی ہوتی ہے جمعہ اکٹھے پڑھا، وہ بیمار تو نہیں لگ رہا تھا… ہاں یار…! وہ بیمار نہیں تھا، بس شام کو پیٹ میں درد ہوا اور پھر ہسپتال بھی لے گئے لیکن طبیعت بگڑ گئی ڈاکٹروں کو بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ بیماری کیا تھی، بس ابھی ایک ڈرپ مکمل نہیں ہوئی تھی کہ جوان چل بسا.
وہ فوت ہو گیا، یار…! آج دفتر میں تو اکٹھے کام کیا اور تو کہہ رہا کہ وہ فوت ہو گیا، ہاں یار… دفتر ہی تو گیا تھا، واپسی راستے میں دِن دہاڑے اُوباشوں نے گَن پوائنٹ پہ روکا، بائیک کا مطالبہ کیا، اِس نے مزاحمت کی اُنہوں نے فائرنگ کر دی، جوان موقع پہ ہی دَم توڑ دیا.
جوان…! کہاں ہے تیرا دھیان…!
تو کیا سمجھتا ہے موت مہلت دے گی، توبہ کر لیں گے، نصیحت و وصیت کر لیں گے، رُوٹھوں کو منا لیں گے، صاحبِ حق سے حق بخشوا لیں گے، یہ مختصر سے واقعات بطورِ نمونہ کے درج کئے ہیں،
جن کو موت آناً فاناً آئی کہ جن کی موت کا یقین بھی نہیں آتا تھا، اور ہماری طرح اِن کے بھی منصوبے ہوں گے، موت سے بےخبر ہوں گے، مگر…
مگر موت نے بڑھ کر آ دبوچا کہ پَل کی مہلت بھی نہ دی، اے موت سے بےخبر…! موت ہم سے بےخبر نہیں….!!!
آنکھوں سے تونے اپنی کتنے جنازے دیکھے
ہاتھوں سے تونے اپنے کتنے دفنائے مردے
انجام سے توں اپنے کیوں اتنا بے خبر ہے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے منزل تیری قبر هے..

Leave a Comment