قصص الانبیا ء

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات پر ایک زبردست تحریر

قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ میدان احد میں بڑی بے جگری سے لڑے اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے،میدان احد میں حضرت قتادہ بن نعمان کی آنکھ زخمی ہوگئی اور اس کی پتلی نکل کر ان کے گال پر لٹکنے لگی حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے وہ پتلی واپس آنکھ میں رکھ دی تو وہ آنکھ بالکل ٹھیک ہوگئی۔

یہ آنکھ دوسری آنکھ سے بھی ذیادہ تیز نگاہ اور بہتر تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا آپ نے مجھ سے پوچھا کہ ‘‘ اے لڑکے کیا تیرے پاس دودھ ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ ہاں دودھ ہے مگر وہ کسی کی امانت ہے میں دینے کا مجاز نہیں ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جو کبھی حاملہ نہ ہوئی ہو اور نہ شیر دار ہو، میں نے عرض کیا کہ ہاں ایسی بکری تو ہے پھر میں نے وہ بکری پیش خدمت کردی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تھوڑی دیر سہلاتے رہے اس کے تھنوں میں دودھ اتر آیا۔آپ نے ایک برتن میں دودھ بھر کر وہ خود بھی پیا اور اپنے ساتھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا، اس کے بعد بکری کے تھن پھر پہلے جیسے ہوگئے۔ ایک بار ابو لہب کے بیٹے عتیبہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں بد دعا کی کہ ‘‘ اے اللہ اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اس پر مسلط کردے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بد دعا ایسے پوری ہوئی کہ کچھ عرصے کے بعد عتیبہ اپنے باپ ابو لہب کے ساتھ شام کے تجارتی سفرپر روانہ ہوا ایک جگہ پڑاؤ کیا وہاں ایک گرجا تھا وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہاں تو شیر ایسے گھومتے ہیں جیسے اور عام علاقوں میں بکریاں گھومتی ہیں،ابو لہب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا یاد تھی اس نے دیگر قافلے والوں سے کہا کہ اس نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ) میرے بیٹے کو بد دعا دی ہے جس سے میں سخت فکر مند ہوں پس تم سارا سامان گرجا کے صحن میں جمع کردو اور اسکے اوپر میرے بیٹے کا بستر لگا دو پھر اس سامان کے گرد تم سب سوجاؤ‘‘ قافلے والوں نے ایسا ہی کیا رات جب سب سوگئے تو جنگل سے شیر آیا تمام قافلے کے لوگوں کو سونگھا مگر کسی کو کچھ نہیں کہا وہ تو گستاخ رسول کی تلاش میں تھا۔شیر نے پیچھے ہٹ کر ایک اونچی چھلانگ لگائی سامان کے بلند ڈھیر پر چڑھ کر اس نے عتیبہ کے چہرے کو سونگھا اور اسے چیر پھاڑ دیا اور اس کا سر کھول دیا۔ اس واقعے پر ابو لہب کا بڑا برا حال تھا اور وہ کہے جارہا تھا میں جانتا تھا کہ میرا بیٹا محمد کی بد دعا سے کبھی نہیں بچ سکے گا ‘‘۔ فتح خیبر کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ اطمنان سے بیٹھے تو ایک یہودیہ زینب بن الحارث نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کی ناپاک سازش کی اور ایک بکری کا گوشت زہر آلود کرکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کیا۔

اس عورت نے گوشت بھیجنے سے پہلے معلوم کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کون سے حصے کا گوشت زیادہ مرغوب ہے،بتایا گیا کہ دستی کا گوشت زیادہ مرغوب ہے تو اس نے دستی کو بہت زیادہ مسموم کیا اور اس کے بعد وہ گوشت اچھی طرح بھون کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کردیا آپ نے دستی کا گوشت اٹھایا،آپ نے ایک نوالہ منہ میں تو لیا مگر اسے نگلا نہیں بلکہ اسے واپس اگل دیا اور فرمایا کہ اس بکری کی ہڈی مجھے خبر دے رہی ہے کہ اسے زہر آلود کیا گیا ہے۔اس عورت کو بلایا گیا اس نے اقرار کیا کہ اس نے ایسا ہی کیا تھا جب اس سے پوچھا گیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اس نے جواب دیا کہ ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری قوم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ آپ کے سامنے ہے میرا ارادہ تھا کہ آپ کو اگر آپ عام بادشاہوں کی طرح ہونگے تو اس زہر سے نعوذ باللہ ہلاک ہوجائیں گے اور میں راحت پاؤنگی اور اگر آپ واقعی نبی ہیں تو اللہ آپ کو اس کی خبر دے گا ‘‘ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس وقت تو معاف کردیا مگر بعد میں اس زہر کے اثر سے حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوگئی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے قصاص میں اس عورت کو قتل کردیا۔

خاتم النبین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس جامع المعجزات ہے،پہلے انبیاء علیہم السلام کو جو معجزے عطاء کئے گئے وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مبارک میں جمع ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بال بال معجزہ قرار پایا۔ آپؐ کے معجزات میں سے کئی جمادات نباتات اور حیوانات سے متعلق ہیں، کنکریاں آپؐ کے ہاتھ میں تسبیح کرتیں، شجر و حجرآپؐ پر سلام بھیجتے اور سجدہ کرتے، ہرنیاں آپؐ کو ضامن تسلیم کرتیں، اونٹ آپؐ سے افسانہ غم بیان کرتے، احادیث و سیرت مبارکہ کی کتب میں ایسے متعدد خوش نصیب درختوں کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے آپ ؐ کی تعظیم و تکریم کی اور مقام نبوت کو پہچانا، کئی درخت آپؐ کی پکار پر زمین کو چیرتے ہوئے دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور اقرار نبوت کی سعادت حاصل کی۔ تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالیٰ نے عملی معجزات عطا فرمائے ، لیکن سرور کائناتؐ کو ہزاروں کی تعداد عملی معجزوں کے ساتھ ساتھ ایک بہت بڑا علمی معجزہ قرآن پاک عطاء فرمایا ۔زندہ اور ہمیشہ باقی رہنے والا یہ عظیم الشان معجزہ ہے جو اپنی معجزانہ حیثیت اور شان کے ساتھ آج بھی امت کے پاس جوں کا توں موجود ہے۔ لفظ معجزہ عجز سے نکلا جس کے معنی کوئی ایسی چیز جس سے عقل عاجز آ جائے، کوئی ایسا واقعہ جو معمول سے بالکل منفرد ہو، جو انسان کو حیرت میں مبتلاکردے، بلاشبہ انبیاء کا معجزہ قدرت الٰہی کا کرشمہ ہوتا ہے۔

خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے شمار معجزات ہیں تمام معجزات کو اس ایک ارٹیکل میں بیان کرنا ممکن نہیں، واقعہ معراج ایک بہت بڑا معجزہ ہے جو کہ خود ایک علیحدہ باب ہے ۔بارگاہ الٰہی میں دعاہے کہ اللہ ربّ العزت ہمیں اپنے احکامات اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کامل اتباع اختیار کرنے والا ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سچا عاشق بنائے، آمین یا رب العالمین

Leave a Comment