قصص الانبیا ء

میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں اور حق بات سے کراہت کرتاہوں۔حیرت انگیز تحریر

میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں اور حق بات سے کراہت کرتاہوں۔حیرت انگیز تحریر
زمہ وائس! ایک ہلکی داڑھی والا شخص حضرت عمر بن الخطابؓ اور حضرت علیؓ کے پاس بیٹھا تھا اس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھی اور زبان ذکر و تسبیع میں مشغول تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا کہ آپ نے صبح کس حال میں کی؟ اس آدمی نے عجیب انداز سے جواب دیا کہ میں نے اس حال میں صبح کی کہ فتنہ کو پسند کرتا ہوں اور حق بات سے کراہت کرتاہوں۔

اور بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہوں اور میرے لیے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لیے نہیں ہے!( یہ سن کر) حضرت عمرؓ طیش میں آگئے اور اللہ کے دین کی خاطر انتقام دینے پر آمادہ ہوگئے اور اس آدمی کو پکڑ کر سخت سزا دینے لگے تو حضرت علی نے ہنستے ہوئے کہا: اے امیر المومنین!! یہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ وہ فتنہ کو پسند کرتا ہے اس سے اس کی مراد مال و اولاد ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں مال و اولاد کو فتنہ کہا گیا ہے: اور حق کو ناپسند کرتا ہے اس سے مراد موت کی ناپسندیدگی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور بغیر وضو کے نماز پڑھتا ہےاس سے مراد نبی کریم پر صلوتہ(درود)بھیجنا ہے،ظاہر ہے کہ صلوتہ وضو ضروری نہیں ہے۔اور اس نے جو یہ کہا ہے کہ اس کے لئے زمین پر وہ چیز ہے جو آسمان پر اللہ کے لئے نہیں ہے اس سے اس کی مراد بیوی بچے ہیں،ظاہر ہے کہ اللہ کی نہ بیوی ہے اور نہ اولاد،وہ ذات تویکتا بےنیاز ہے،نہ اس کی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔حضرت عمر بن الخطاب کا چہرہ خوشی سے جھومتے ہوۓ فرمایا:وہ جگہ بڑی ہے جہاں ابو الحسنؓنہ ہو یعنی علی بن ابی طالبؓ۔

Leave a Comment