قصص الانبیا ء

میں حجاب کرتی ہوں اپنی مرضی سے

میں نے امی کو ہمیشہ سے ہی چادر لیتے دیکھا ہے-صرف گھر میں ہی نہیں بلکہ وہ مختلف فنکشنز میں بھی لیتی ہیں میرا خاندان بڑا آزاد خیال ہے-یہاں میں آپ کو بتاتی چلوں کہ ان کے مطابق آزاد خیال ہونا کیسا ہے- جب تک لڑکی بن سنور کر گھر سے نہیں نکلے گی وہ آزاد خیال نہیں ہے-اگر لڑکی نقاب کرتی ہے یا حجاب لیتی ہے تو وہ آزاد خیال ہو ہی نہیں سکتی-امی کو دیکھ دیکھ کر مجھے بھی شوق چڑھ گیا تو میں نے بھی حجاب لینا شروع کیا-میری کزنز وغیرہ بہت ماڈرن قسم کی ہیں-ان کی میرے ساتھ بلکل نہیں بنتی –

اور وہ مجھ سے دور دور ہی رہتی ہیں اگر ان کا تعارف میرے ساتھ کروایا جائے تو وہ شرمندہ ہوتیں ہیں-لیکن اب میں نے بھی تقریبات میں جانا کم کر دیا ہے-میرے کالج میں ایک دفعہ فائنل ایگزیمز چل رہے تھے-میں ہال کی طرف جارہی تھی جب ایک ٹیچر نے ہال کے باہر ہی مجھے روک لیا اور مجھے کہا کہ اپنا حجاب اتار کر اندر جاو-میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا لڑکیاں حجاب میں بھی بوٹی وغیرہ چھپا کر لے آتیں ہیں-میں نے ان سے کہا کہ آپ الگ سے آکر چیک کر لیں لیکن میں حجاب اتارنا نہیں چاہتی لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وقت نہیں ہے پیپر شروع ہونے والا ہے-وہ مجھے کہتی رہیں کہ حجاب اتارو لیکن میں کھڑی رہی یہاں تک کہ میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے-کیا کرتی اب استاد کے سامنے تو نہیں بول سکتی تھی نا-میری ٹیچر تو دیکھ کر حیران ہی رہ گئیں-انہوں نے مجھے گلے لگایا اور حجاب سمیت اندر جانے کی اجازت دے دی-

اس کہانی کے بتانے کا مقصد یہ تھا کہ کبھی کبھی ہم ایک ایسا کام شروع کرتے ہیں جو صحیح تو ہوتا ہے لیکن ہماری روایات اس کی اجازت نہیں دیتی-اگر ہم سچے دل سے اس صیحیح کام کرنے کی ٹھان لیں تو اللہ سبب بناتا چلا جاتا ہے-آپ کو اس راستے میں اچھے لوگ بھی ملتے ہیں اور برے بھی- لیکن اب ہمت نا ہاریں اور خدا کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں-اور اس بات کا بھی یقین رکھیں کہ اگر اس نے نیکی کرنے کہ توفیق دی ہے تو اس نیکی کے راستے میں جو مشکلات آئے گی ان سے نکلنے کا راستہ بھی وہی دکھائے گا-

Leave a Comment